Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بھوکے پتھر

Updated: March 13, 2026, 5:06 PM IST | Mumbai

معروف ہندوستانی ادیب رابندر ناتھ ٹیگور کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی ہنگری اسٹونز‘‘ The Hungry Stones کا اردو ترجمہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ریل گاڑی شام کے دھندلکے میں ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر آ کر رُکی۔ آسمان پر دن کی آخری روشنی مدھم ہو رہی تھی اور مغرب کی سمت ہلکی سرخی اب بھی باقی تھی۔ پلیٹ فارم پر زیادہ بھیڑ نہیں تھی۔ چند مسافر اترے، دو تین چڑھے، اور پھر فضا میں وہی مانوس خاموشی پھیل گئی جو چھوٹے اسٹیشنوں کا خاصہ ہوتی ہے۔ 
دور کہیں کسی درخت پر بیٹھا ہوا کوّا ایک بار کائیں کائیں کر کے خاموش ہو گیا۔ ہوا میں ٹھنڈک بڑھ رہی تھی اور ریل گاڑی کے پہیوں کے نیچے پٹریوں کی دھیمی کھڑکھڑاہٹ کسی سوئی ہوئی دنیا کو جگانے جیسی محسوس ہو رہی تھی۔ 
میں بھی ان مسافروں میں شامل تھا جو لمبے سفر کے دوران اجنبی لوگوں کی باتوں میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔ ایسے سفر میں انسان کو اکثر ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو اپنی زندگی کی عجیب و غریب کہانیاں سنانے لگتے ہیں، اور ان کہانیوں میں کبھی کبھی ایسی سچائی چھپی ہوتی ہے جو عام گفتگو میں ظاہر نہیں ہوتی۔ 
اسی اسٹیشن سے ایک شخص ہمارے ڈبے میں آ کر بیٹھا۔ وہ دبلا پتلا آدمی تھا۔ چہرہ لمبا اور آنکھیں غیر معمولی طور پر گہری۔ اس کی پیشانی پر ایسی سنجیدگی تھی جیسے وہ عام لوگوں سے کچھ مختلف سوچتا ہو۔ اس کے کپڑے سادہ تھے مگر اس کی نشست میں ایک عجیب سے وقار کی جھلک تھی۔ وہ کھڑکی کے پاس بیٹھ گیا اور کافی دیر تک باہر اندھیرے میں ڈوبتے ہوئے کھیتوں کو دیکھتا رہا۔ ریل گاڑی دوبارہ چل پڑی تھی۔ کھڑکی کے باہر درختوں کے سائے تیزی سے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ 
کچھ دیر بعد جب مسافروں کے درمیان معمول کی گفتگو شروع ہوئی تو اس نے اچانک ایک عجیب سوال کیا۔ ’’کیا آپ میں سے کسی نے کبھی ایسے مکان میں رات گزاری ہے جہاں پتھر بھوکے ہوں ؟‘‘
ہم سب چونک گئے۔ 
ایک شخص ہنس پڑا۔ 
’’پتھر بھوکے؟ یہ کیسی بات ہے؟‘‘
وہ آدمی مسکرایا نہیں۔ اس نے سنجیدگی سے ہماری طرف دیکھا۔ ’’جی ہاں۔ ایسے پتھر جو انسان کی روح کو آہستہ آہستہ نگلنے لگتے ہیں۔ جیسے وہ صدیوں کی یادوں سے بھوکے ہوں۔ ‘‘ اب ہماری دلچسپی بڑھ چکی تھی۔ ہم نے اس سے درخواست کی کہ وہ اپنی بات کھل کر بیان کرے۔ اس نے کھڑکی سے باہر تاریکی میں دیکھا۔ ریل گاڑی کی آواز اب ایک مسلسل موسیقی کی طرح سنائی دے رہی تھی۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا:
’’یہ کئی سال پہلے کی بات ہے…‘‘
اس زمانے میں میں حکومت کی طرف سے محصول وصول کرنے کا کام کرتا تھا۔ میری تعیناتی ایک ایسے علاقے میں ہوئی جو شہر سے بہت دور تھا۔ وہاں کپاس کی تجارت ہوتی تھی اور دریا کے کنارے ایک چھوٹا سا قصبہ آباد تھا۔ وہ قصبہ عجیب سا تھا۔ دن کے وقت بازار میں خاصی رونق ہوتی تھی۔ کپاس کے بڑے بڑے گٹھے اونٹوں اور بیل گاڑیوں پر لادے جاتے تھے۔ تاجر اونچی آواز میں بولیاں لگاتے تھے۔ مگر شام ہوتے ہی سارا قصبہ جیسے کسی غیر مرئی حکم کے تحت خاموش ہو جاتا تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو مجھے بتایا گیا کہ سرکاری رہائش گاہ ابھی تعمیر ہو رہی ہے۔ اس لئے مجھے چند دنوں کیلئے دریا کے کنارے واقع ایک پرانے محل میں رہنا ہوگا۔ میں نے اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ آخر محل میں رہنے کا موقع ہر کسی کو کہاں ملتا ہے۔ 
مگر جب مقامی لوگوں کو معلوم ہوا کہ میں اس محل میں رہنے والا ہوں تو ان کے چہروں پر عجیب سا تاثر نمودار ہو گیا۔ ایک بوڑھے کلرک نے ہچکچاتے ہوئے کہا:
’’صاحب… اگر ممکن ہو تو وہاں رات نہ گزاریئے گا۔ ‘‘میں نے ہنستے ہوئے پوچھا، 
’’کیوں ؟ کیا وہاں بھوت رہتے ہیں ؟‘‘
بوڑھے نے سر ہلایا۔ ’’بھوت نہیں … پتھر ہیں۔ ‘‘ میں نے مذاق میں کہا، ’’پتھر کیا کریں گے؟‘‘
وہ بولا:’’وہ بھوکے ہیں۔ ‘‘
اس کے لہجے میں ایسی سنجیدگی تھی کہ لمحے بھر کیلئے میں خاموش ہو گیا۔ مگر پھر میں نے اس کی بات کو وہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ محل دریا کے کنارے واقع تھا۔ 
جب میں پہلی بار وہاں پہنچا تو شام ڈھل رہی تھی۔ سورج کی آخری کرنیں سنگ مرمر کی دیواروں پر پڑ رہی تھیں اور پورا محل سنہری روشنی میں نہا رہا تھا۔ 
محل بہت وسیع تھا۔ اونچے ستون، کشادہ ہال اور لمبی راہداریاں۔ یہ سب دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ کبھی یہاں شاہی زندگی کی رونقیں رہی ہوں گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: راشومون

مگر اب وہاں خاموشی تھی۔ 
اتنی گہری خاموشی کہ انسان کو اپنے قدموں کی آواز بھی غیر مانوس لگنے لگتی تھی۔ 
ہوا جب کھڑکیوں سے گزرتی تو ایک مدھم سی آواز پیدا ہوتی جیسے کوئی آہستہ آہستہ سرگوشی کر رہا ہو۔ 
میرے ساتھ صرف ایک چوکیدار تھا۔ اس نے میرا سامان رکھا اور جلدی سے جانے لگا۔ 
میں نے پوچھا، ’’رات کو پہرہ نہیں دو گے؟‘‘
وہ گھبرا گیا۔ ’’نہیں صاحب۔ سورج ڈوبنے کے بعد میں یہاں نہیں رکتا۔ ‘‘
’’کیوں ؟‘‘
اس نے محل کی دیواروں کی طرف دیکھا۔ 
’’یہ پتھر پرانی یادوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ رات کو یہ جاگ جاتے ہیں۔ ‘‘
میں ہنس پڑا اور اسے جانے کیلئے کہا۔ 
اب پورے محل میں صرف میں تھا۔ 
رات آہستہ آہستہ محل پر اتر آئی۔ 
چاندنی کھڑکیوں سے اندر آ رہی تھی۔ ستونوں کے لمبے سائے فرش پر پھیل گئے تھے۔ 
میں نے ایک بڑے کمرے میں بستر لگایا اور سونے کی کوشش کی۔ مگر کچھ دیر بعد مجھے عجیب سا احساس ہونے لگا۔ جیسے کوئی مجھے دیکھ رہا ہو۔ 
میں اٹھ کر کھڑکی کے پاس گیا۔ دریا چاندنی میں چمک رہا تھا۔ پھر اچانک مجھے ایک آواز سنائی دی۔ 
ہلکی سی موسیقی۔ میں چونک گیا۔ محل تو خالی تھا۔ 
مگر آواز صاف تھی جیسے کہیں دور ستار بج رہا ہو۔ 
میں اس آواز کے پیچھے چل پڑا۔ 
راہداریوں سے گزرتے ہوئے مجھے محسوس ہوا جیسے محل کی فضا بدل رہی ہو۔ دیواروں پر پڑی روشنی حرکت کرنے لگی۔ سایے لرزنے لگے۔ 
پھر اچانک میرے سامنے ایک منظر نمودار ہوا۔ 
وہی خالی ہال اب روشنی سے بھر گیا تھا۔ سنہری چراغ جل رہے تھے۔ نرم قالین بچھے تھے۔ اور دربار سجا ہوا تھا۔ شاہی لباس پہنے ہوئے مرد، زیورات سے لدی ہوئی عورتیں، رقاصائیں اور موسیقار۔ میں حیرت سے کھڑا رہ گیا۔ اسی لمحے ایک حسین عورت آہستہ آہستہ میری طرف آئی۔ اس کے قدم نرم تھے مگر واضح۔ 
اس کی آنکھوں میں عجیب سی اداسی تھی۔ 
اس نے مجھے دیکھا جیسے وہ مجھے پہچانتی ہو۔ 
میں اس کے قریب جانے ہی والا تھا کہ اچانک منظر غائب ہو گیا۔ ہال دوبارہ خالی تھا۔ صرف چاندنی باقی تھی۔ اگلی صبح میں نے خود کو یقین دلایا کہ یہ سب وہم تھا۔ مگر اگلی رات پھر وہی ہوا۔ پھر موسیقی۔ پھر دربار۔ 
اور اس بار وہ عورت پہلے سے زیادہ واضح تھی۔ 
اس کی آنکھوں میں ایک خاموش سوال تھا۔ 
جیسے وہ مجھے اپنی دنیا میں بلانا چاہتی ہو۔ 
دن گزرتے گئے۔ اور آہستہ آہستہ مجھے احساس ہوا کہ میں بدل رہا ہوں۔ دن میں میں اپنے کام میں مصروف رہتا، مگر ذہن رات کا انتظار کرتا۔ 
رات کو وہی پراسرار دنیا میرے سامنے آ جاتی۔ 
محل جیسے مجھے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ 
ایک دن ایک درویش نما مسافر میرے دفتر آیا۔ 
وہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ 
پھر اچانک بولا:’’آپ اس محل میں رہتے ہیں نا؟‘‘ میں حیران رہ گیا۔ ’’آپ کو کیسے معلوم؟‘‘
وہ مسکرایا۔ ’’آپ کی آنکھوں میں وہی خواب ہیں جو وہاں رہنے والوں کی آنکھوں میں آ جاتے ہیں۔ ‘‘
میں نے اسے سب کچھ بتا دیا۔ 
وہ دیر تک خاموش رہا۔ 
پھر بولا:’’وہ محل صدیوں تک عیش و عشرت کا مرکز رہا ہے۔ وہاں بادشاہ، رقاصائیں اور درباری رہتے تھے۔ ان کی خواہشیں، ان کی خوشیاں، ان کے دکھ سب ان پتھروں میں جذب ہو گئے ہیں۔ ‘‘
میں نے پوچھا:’’تو پھر؟‘‘
وہ بولا:’’جو وہاں زیادہ دیر رہتا ہے وہ ان یادوں کا حصہ بن جاتا ہے۔ ‘‘
یہ سن کر میرے دل میں عجیب سا خوف پیدا ہوا۔ 
اسی رات میں نے فیصلہ کیا کہ میں محل چھوڑ دوں گا۔ جب میں آخری بار محل سے نکلا تو صبح ہو رہی تھی۔ 
دریا پر ہلکی دھند پھیلی ہوئی تھی۔ سورج کی پہلی کرنیں سنگ مرمر کی دیواروں پر پڑ رہی تھیں۔ 
میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ محل خاموش کھڑا تھا۔ 
مگر مجھے ایسا لگا جیسے اس کے پتھر مجھے دیکھ رہے ہوں۔ جیسے وہ اب بھی بھوکے ہوں۔ 
یہ کہانی سنا کر وہ آدمی خاموش ہو گیا۔ 
ریل گاڑی اندھیرے میں آگے بڑھ رہی تھی۔ 
کچھ دیر تک ہم میں سے کوئی کچھ نہیں بولا۔ 
آخر ایک مسافر نے ہنستے ہوئے پوچھا:
’’تو کیا واقعی وہ پتھر بھوکے تھے؟‘‘
وہ آدمی کھڑکی سے باہر دیکھتا رہا۔ 
پھر آہستہ سے بولا:
’’پتھر نہیں … یادیں بھوکی تھیں۔ ‘‘
اور کبھی کبھی یادیں انسان کو اس طرح نگل لیتی ہیں جیسے وہ زندہ ہوں۔ 
کہتے ہیں کچھ جگہیں صرف عمارتیں نہیں ہوتیں۔ 
وہ وقت کی قید میں بند جذبات ہوتی ہیں۔ 
اور اگر کوئی انسان ان کے بہت قریب چلا جائے تو وہ اسے اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔ 
 شاید اسی لئے بعض محل ویران رہتے ہیں کیونکہ ان کے پتھر اب بھی بھوکے ہوتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK