Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: گھر میں اُگتا سورج

Updated: April 30, 2026, 3:43 PM IST | Juweriya Qazi | Mumbai

صبح کی ہلکی روشنی کھڑکی سے اندر اتر رہی تھی۔ صبا نے چائے کا کپ میز پر رکھا اور ایک لمحے کے لئے رک گئی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

صبح کی ہلکی روشنی کھڑکی سے اندر اتر رہی تھی۔ صبا نے چائے کا کپ میز پر رکھا اور ایک لمحے کے لئے رک گئی۔ یہ وہی صبا تھی جو کبھی دن بھر باورچی خانے میں مصروف رہتی تھی.... چولہے کی آنچ، برتنوں کی کھنک اور بچوں کی آوازیں ہی اس کی دنیا تھیں۔ مگر آج کچھ بدل چکا تھا.... آہستہ آہستہ، مگر گہرا۔

صبا نے اپنی بیٹی عائشہ کو آواز دی ’’بیٹا! ناشتہ تیار ہے، اور ہاں.... آج تمہیں آن لائن کلاس کے بعد میرے ساتھ ایک میٹنگ میں بھی بیٹھنا ہے۔‘‘ عائشہ حیران ہوئی ’’امی، آپ کی میٹنگ؟‘‘

صبا مسکرائی ’’ہاں، اب میں محلے کی خواتین کے ساتھ مل کر ایک چھوٹا سا کاروبار چلا رہی ہوں۔ اور میں چاہتی ہوں کہ تم بھی سیکھو کہ زندگی صرف کتابوں یا کچن تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ شعور اور ہنر دونوں ضروری ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: ٹوٹا ہوا خواب

یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی تھی۔ برسوں کی خاموشی، تھکن اور خود کو صرف ’گھر تک محدود‘ سمجھنے کا احساس.... سب کچھ ایک دن سوال بن کر ابھرا تھا۔ جب صبا نے خود سے پوچھا ’’کیا میری پہچان صرف گھر کے کام ہیں....؟ یا اس سے آگے بھی کچھ ہے؟‘‘

اسی سوال نے اس کے اندر ایک نئی روشنی جگائی ایک ایسا شعور، جو اسے اپنی ذات، اپنی صلاحیتوں اور اپنے حق کی پہچان دے رہا تھا۔

پہلے پہل تو گھر والوں کو بھی عجیب لگا۔ شوہر نے کہا ’’گھر کے کام کم ہیں کیا؟‘‘

صبا نے نرم مگر مضبوط لہجے میں جواب دیا ’’گھر میرے لئے اہم ہے، مگر میں خود بھی تو اہم ہوں۔ اور یہ گھر صرف میرا نہیں.... ہم سب کا ہے، تو اس کے کام بھی ہم سب کے ہیں۔‘‘ یہ جملہ اس کی زندگی کا موڑ بن گیا۔

آہستہ آہستہ گھر کا ماحول بدلنے لگا۔

ایک دن صبا نے بچوں کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا ’’دیکھو، گھر ایک ٹیم کی طرح ہوتا ہے۔ اگر سب مل کر کام کریں گے تو زندگی آسان بھی ہوگی اور خوشگوار بھی۔‘‘

اس دن کے بعد عائشہ نے کھانے کی تیاری میں ہاتھ بٹانا شروع کیا، اور علی نے برتن سمیٹنا اور چائے بنانا سیکھ لیا۔ شروع میں یہ سب ایک نئی بات تھی، مگر جلد ہی یہ عادت بن گئی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: سناٹوں کی آواز

صبا کو سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوئی جب ایک دن علی نے کہا ’’امی، ہمیں اسکول میں سکھایا جاتا ہے کہ سب برابر ہیں.... تو گھر میں بھی سب کو کام کرنا چاہئے نا؟‘‘

صبا کی آنکھوں میں خوشی کی نمی اتر آئی۔

یہ صرف الفاظ نہیں تھے.... یہ نئی نسل کا بدلا ہوا شعور تھا۔

اب صبا صرف ایک ’’گھر سنبھالنے والی خاتون‘‘ نہیں رہی تھی، بلکہ ایک باخبر، خودمختار اور متحرک شخصیت بن چکی تھی۔ اس نے محلے کی دوسری خواتین کو بھی ساتھ جوڑا۔ کسی نے سلائی سیکھی، کسی نے آن لائن فروخت شروع کی، اور کسی نے اپنی ادھوری تعلیم مکمل کرنے کا حوصلہ پایا۔

محلے میں بھی باتیں ہونے لگیں، مگر اس بار انداز بدلا ہوا تھا۔

’’صبا نے تو کمال کر دیا.... گھر بھی سنبھال لیا اور خود کو بھی پہچان لیا۔‘‘

صبا جانتی تھی کہ اصل کامیابی صرف اس کی نہیں، بلکہ اس سوچ کی ہے جو بدل رہی ہے، وہ سوچ جو کہتی ہے کہ امورِ خانہ داری صرف عورت کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ایک مشترکہ فریضہ ہے۔

رات کو جب صبا نے آئینے میں خود کو دیکھا تو وہ مسکرائی۔ وہی چہرہ تھا، مگر آنکھوں میں ایک نئی چمک تھی.... خود اعتمادی کی، خود شناسی کی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: اوقات

اس نے دل ہی دل میں کہا ’’اس نے گھر کو چھوڑا نہیں.... بلکہ گھر کو ایک نئی سوچ دی ہے، جہاں ہر فرد شریک ہے، اور ہر عورت اپنی پہچان کے ساتھ جیتی ہے۔‘‘ اور شاید یہی اصل تبدیلی تھی جہاں خواتین کا شعور بالیدہ ہو رہا ہے، جہاں بچے برابری سیکھ رہے ہیں، اور جہاں گھر واقعی ’’سب کا‘‘ بن رہا ہے۔

یہ کہانی صرف صبا کی نہیں.... بلکہ ہر اس عورت اور ہر اس گھر کی ہے جو بدلتی سوچ کے ساتھ ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK