Salvador Dalí نے انسانی خوابوں، خوف، خواہشات اور لاشعور کو ایسی بصری زبان دی جسے دنیا بھر میں پہچانا گیا، ان کی پینٹنگز آج بھی مثالی ہیں۔
EPAPER
Updated: August 21, 2026, 9:35 PM IST | Mumbai
Salvador Dalí نے انسانی خوابوں، خوف، خواہشات اور لاشعور کو ایسی بصری زبان دی جسے دنیا بھر میں پہچانا گیا، ان کی پینٹنگز آج بھی مثالی ہیں۔
سلواڈور ڈالی بیسویں صدی کے ان عظیم اور منفرد فن کاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مصوری کی دنیا میں خواب، لاشعور، تخیل، خوف، خواہش اور حقیقت کو ایک دوسرے میں اس طرح ضم کیا کہ ان کا فن پوری دنیا میں پہچانا جانے لگا۔ وہ بنیادی طور پر’’ سریئلزم‘‘ (Surrealism) یا مافوق الفطرت مصوری کے سب سے نمایاں فنکاروں میں سے ایک تھے۔ ان کی شہرت صرف ان کی غیر معمولی پینٹنگز تک محدود نہیں رہی بلکہ ان کا مخصوص لباس، گھنی اوپر کو اُٹھی مونچھیں، ڈرامائی شخصیت اور تشہیر کا منفرد انداز بھی ان کی شناخت بن گیا۔
سلواڈور ڈالی۱۱؍ مئی۱۹۰۴ء کو اسپین کے شہر فیگیراس، کاتالونیا میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد ایک وکیل تھے جبکہ والدہ نے ان کی فنّی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کی۔ بچپن ہی سے ڈالی میں مصوری کا غیر معمولی شوق اور تخلیقی صلاحیت دکھائی دینے لگی تھی۔ انہوں نے کم عمری میں ہی تصویریں بنانا شروع کردی تھیں اور قدرتی مناظر، لوگوں کے چہروں اور اپنے اردگرد کی اشیا کو غور سے دیکھ کر انہیں کاغذ پر منتقل کرتے تھے۔ بعد میں ان کی فنی تربیت نے باقاعدہ شکل اختیار کی اور وہ فنونِ لطیفہ کی تعلیم کی طرف بڑھے۔ ڈالی نے میڈرڈ میں رائل اکیڈمی آف فائن آرٹس آف سان فرنینڈو میں تعلیم حاصل کی۔ یہاں انہیں کلاسیکی مصوری کے ساتھ جدید فنون کے مختلف رجحانات سے واقفیت حاصل ہوئی۔ ان کے ابتدائی کاموں میں امپریشنزم، کیوبزم، فیوچرزم اور دیگر جدید فنّی تحریکوں کے اثرات نظر آتے ہیں۔ بعد میں انہوں نے ان مختلف اثرات کو اپنی ذاتی تخلیقی زبان میں جذب کیا۔
یہ بھی پڑھئے: کرسٹینا روزیٹی: وکٹورین دور کی مشہور شاعرہ، ’گوبلن مارکیٹ ‘ کی مصنفہ
۱۹۲۰ءکی دہائی کے آخر میں ڈالی پیرس گئے، جہاں ان کی ملاقات اس دور کے متعدد اہم فن کاروں اور ادیبوں سے ہوئی۔ ۱۹۲۹ءمیں وہ سریئلسٹ تحریک سے باقاعدہ طور پر وابستہ ہوئے اور اسی زمانے میں ان کی مصوری نے وہ منفرد شکل اختیار کی جس نے انہیں عالمی شہرت دلائی۔ سریئلزم کا بنیادی مقصد خوابوں، لاشعور اور انسانی ذہن کی غیر منطقی کیفیتوں کو فن کے ذریعے ظاہر کرنا تھا۔ ڈالی نے اس نظریے کو انتہائی حقیقت پسندانہ تکنیک کے ساتھ پیش کیا، یعنی ان کی تصویروں میں عجیب و غریب اور ناممکن مناظر ایسے باریک اور حقیقی انداز میں بنائے جاتے تھے کہ دیکھنے والے کو کچھ لمحوں کیلئے وہ حقیقت محسوس ہونے لگتے تھے۔ ڈالی کی مشہور ترین پینٹنگ’’دی پرسسٹنس آف میموری‘‘( The Persistence of Memory ) ہے جسے عام طور پر پگھلتی ہوئی گھڑیوں والی تصویر کہا جاتا ہے۔ ڈالی کی اس پینٹنگ نے انہیں بین الاقوامی شناخت دلائی۔
ڈالی صرف مصور نہیں تھے بلکہ انہوں نے فلم، مجسمہ سازی، ڈرائنگ، فوٹوگرافی، تھیٹر، فیشن اور ڈیزائن سمیت کئی شعبوں میں کام کیا۔ زندگی کے آخری برسوں میں ڈالی کی صحت کمزور ہوتی گئی۔ بلآخر ان کا انتقال ۲۳؍ جنوری۱۹۸۹ءکو فیگیراس، اسپین میں ہوگیا۔ اسپین کے میوزیم رینا صوفیا میں ان کے متعدد اہم فن پارے محفوظ ہیں۔
(وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام)