Inquilab Logo Happiest Places to Work

اِن Heroes نے عزم کیا، عمل کیا، منفرد راہ اپنائی اور نام کمایا

Updated: August 21, 2026, 9:45 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

ہم منا چکے ہیں جشنِ آزادی مگر یاد رکھئے کہ بہت سے لوگوں کا یوم آزادی منانے کا الگ طریقہ ہوتا ہے۔ وہ معاشرہ کو بہتر بنانے کی عملی کوشش کرتے ہوئے جشن مناتے ہیں۔ ملئے ایسے ہی ۱۰؍ افراد سے جنہوں نے سماجی بیداری کیلئے نئی پہل کی، اسے یوم آزادی سے جوڑا تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری ان کی مہم سے وابستہ ہوسکیں اور ملک کو مزید بہتر بنانے میں اپنی خدمات پیش کرسکیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

پریہ رنجن سرکار جشنِ آزادی ختم ہونے کے بعد ترنگے جمع کرتے ہیں 
Priya Ranjan Sarkar (The Flag Man)
ہاوڑہ کے پریہ رنجن سرکار ۲۰۰۹ء سے قومی تقریبات کے بعد سڑکوں اور مقامات پر یہاں وہاں پڑے ترنگے جمع کر رہے ہیں۔ 
یہ کام انہوں نے اپنی والدہ سے متاثر ہوکر شروع کیا، جنہوں نے انہیں پرچم کا احترام کرنا سکھایا تھا۔ وہ یہ کام تنہا کرتے تھے۔ 
۲۰۲۳ء تک وہ ایک لاکھ سے زائد پرچم جمع کرچکے تھے۔ بعد میں ’’مائر پریرنا‘‘ (ماؤں سے تحریک) رضاکار گروپ بھی اس مہم میں شامل ہوا۔ ۲۰۲۵ء تک مغربی بنگال کے ۱۵۰۰؍ نوجوان اس کام سے وابستہ ہوچکے تھے۔ اس سال بھی یہ روایت جاری رہی۔ 
جشنِ آزادی کے فوراً بعد ان کی مہم شروع ہوجاتی ہے۔

’’دی ڈاکٹر آف روڈز‘‘ جو ۱۴؍ سال سے حیدرآباد شہر کے گڑھے بھر رہے ہیں 
Gangadhara T. Katnam (Dr. of Roads)
حیدرآباد کی ایم ایم ٹی ایس کمپنی میں سافٹ ویئر انجینئر کے عہدے پر فائز رہنے والے گنگادھر تلک کٹنم گزشتہ ۱۴؍ سال سے شہر کی سڑکوں کے گڑھے بھر رہے ہیں۔ 
یہ کام انہوں نے ۲۰۱۲ء سے اپنے ریٹائرمنٹ کے بعد شروع کیا۔ ۲۰۱۱ء میں گڑھے کی وجہ سے وہ ایک سڑک حادثے میں بال بال بچے تھے۔ لہٰذا انہوں نے ٹھان لیا کہ کسی کو ان گڑھوں کو بھرنے کی ذمہ داری لینی ہوگی، اور یہ ذمہ داری انہوں نے لے لی۔ 
وہ اپنی پنشن سے گڑھے بھرتے ہیں۔ ۲؍ ہزار سے زائد گڑھے بھرچکے ہیں جس کیلئے ۲۰؍ لاکھ روپے خرچ کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: منفرد طریقے، جشن ِآزادی منانے کیلئے۱۶؍ آئیڈیاز

سربیا کا ایک شہری جو ہندوستان کی گلیوں کی صفائی کررہا ہے
Lazar Jankovic (One Day, One Street)
۲۰۱۸ء میں لازار یانکووچ ہندوستان آئے اور صفائی کے کام سے جڑ گئے۔ ۲۰۲۴ء میں گڑگاؤں منتقل ہونے کے بعد انہوں نے اپنی سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینا شروع کی۔ 
اگست ۲۰۲۵ء میں انہوں نے ’’ایک دن، ایک گلی‘‘ مہم شروع کی۔ اس مہم کا مقصد لوگوں کو اطراف کی صفائی کی ذمہ داری لینے کی ترغیب دینا تھا۔ مقامی رہائشی بھی سرگرمیوں میں شریک ہوئے۔ 
یہ سرگرمی محدود نہیں رہی۔ ۲۰۲۶ء میں لازار نے دہلی، بنگلور، امرتسر اور فریدآباد سمیت شہروں میں صفائی مہمات جاری رکھیں۔ 
یومِ آزادی سے جڑی ان کی یہ عادت اب مہم بن گئی ہے۔

انوکھی صفائی مہم، ہر نئے فالوور کے بدلے کچرا اٹھانے کا عہد
Divya Fofani (One Kachra)
ممبئی کی کانٹینٹ کریئٹر دیویہ فوفانی نے جون ۲۰۲۶ء میں ’ون کچرا موومنٹ‘ شروع کیا، جس میں ہر نئے فالوور کے بدلے کچرا اٹھانے کا عہد کیا گیا۔ مہم کا مقصد ایک شہر کی ایک گندی بستی کی صفائی تھا۔ دیویہ نے اس سرگرمی کو سوشل میڈیا پر دستاویزی شکل دی۔ 
فالوورز بڑھنے کے ساتھ صفائی کا ہدف بھی بڑھتا گیا۔ پانچویں دن دو بچوں نے کچرے کے ۱۰؍ ہزار ٹکڑے اٹھانے میں مدد کی۔ 
یہ مہم اگست تک جاری رہی۔ ۱۴؍ اگست کو دیویہ نے ’صفائی کے ہفتے‘ کا ذکر کیا، اور ۱۵؍ اگست کو صفائی کا ۱۴؍ واں دن مکمل کیا۔ 
اپنے اقدام سے انہوں نے صفائی کا عملی کارنامہ پیش کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ۲۲؍ جولائی، پائی اپروکس ڈے: ایک ایسا دِلچسپ نمبر جس کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا!

اسکول ٹھیک کرو: یوم آزادی پر سرکاری اسکولوں کی جانچ کی مہم
Abhijeet Dipke (School Thik Karo)
۱۵؍ اگست کو ابھجیت دپکے نے اپنے گاؤں سنتوک پمپری سے ’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم شروع کی جس کا مقصد سرکاری اسکولوں کی حالت جانچنا تھا۔ اس کے تحت رضاکار بجلی، پانی، بیت الخلا، مڈ ڈے میل اور دیگر سہولتوں کا جائزہ لے کر تصاویر لیتے ہیں، اور خامیاں ہیڈ ماسٹر اور متعلقہ حکام تک پہنچاتے ہیں۔ 
پہلے اسکول میں بینچ، پینے کے پانی، بیت الخلا، کمپیوٹر اور اساتذہ کی کمی سامنے آئی۔ بعد میں مختلف ریاستوں سےبھی ایسی رپورٹس موصول ہوئیں۔ مہم سے ۱۵۰۰؍ رضاکار جڑے۔ اب یہ مہم ملک کے مختلف حصوں تک پھیل چکی ہے۔

یوم آزادی پر دوبارہ قابل استعمال راکٹ کا تجربہ
Suyash Bafna
(Astrophel Aerospace)
پونے کی ایسٹروفل ایرو اسپیس کے شریک بانی سویش بافنا نے ۱۵؍ اگست ۲۰۲۶ء کو دوبارہ قابلِ استعمال راکٹ کے تجربے کو یومِ آزادی سے جوڑا۔ 
تین میٹر طویل اور ۲۰۰؍ کلوگرام وزنی ’ہاپر‘ عمودی پرواز اور لینڈنگ کیلئے تیار کیا گیا۔ مقصد نظاموں کی جانچ تھا۔ 
واضح رہےکہ ۱۵؍ اگست ۲۰۲۳ءکو کمپنی نے چھ لاکھ روپے کی لاگت سے تیار کرائیوجینک انجن کا تجربہ کیا تھا۔ 
۲۰۲۵ء میں ایسٹروفل نے اِن اسپیس کے ساتھ معاہدہ کیا، جس سے آئی ایس آر او کی سہولتوں میں ذیلی نظاموں کی جانچ اور تکنیکی جائزے کی رسائی ملی۔

یہ بھی پڑھئے: آپ مشین کو سکھائیں گے کہ وہ ڈیٹا سے کیسے سیکھے اور فیصلے کرے!

سات معمر شہریوں نے آشرم شروع کیا
Vijay Dobariya
(Sadbhavna Vrudhashram)
۱۵؍ اگست ۲۰۱۵ء کو وجے ڈوباریہ نے ۷؍ معمر شہریوں کے ساتھ سدبھاؤنا وِردھ آشرم شروع کیا۔ مقصد بے سہارا بزرگوں کو رہائش اور دیکھ بھال فراہم کرنا تھا۔ 
وجے نے یہ مہم تب شروع کی جب انہوں نے ٹریفک سگنل پر اسٹال لگانے والے ایک معمر شخص کو دیکھا۔ لہٰذا انہوں نے معمر شہریوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ 
آشرم میں معذور، بے اولاد اور انتہائی بیمار معمر افراد کو رہائش، خوراک اور طبی امداد بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہے۔ 
سات افراد سے شروع ہونے والا ادارہ ۲۰۲۴ء تک ۶۵۰؍ سے زائد معمر افراد تک پہنچ گیا۔ ابھی کیمپس زیرِ تعمیر ہے۔

ہندوستانی انداز میں کھیلوں سے وابستگی
Kruti Shah
(Unboxed)
کرُتی شاہ نے ۲۰۱۵ء میں بورڈ گیمز میں دلچسپی لی۔ بعد میں انہوں نے احمدآباد میں گیم کمیونٹی قائم کی جہاں خاندانوں کو ہندوستانی انداز میں گیمز سے جوڑا گیا۔ 
فروری ۲۰۲۴ء انہوں نے ’اَن باکسڈ‘ بورڈ گیم کلب قائم کیا، جس نے ۱۰۰؍ سے زائد گیم نائٹس منعقد کئے۔ 
۲۰۲۶ء میں کلب نے یومِ آزادی کو میڈ اِن انڈیا گیم سازی سے جوڑا اور ’گیم میکرز میلہ‘ منعقد کیا جس میں انڈین ڈیزائنرز کی تخلیقات پیش کی گئیں۔ 
احمدآباد میں منعقد ہوئے اس میلے میں ۲۲؍ ٹیموں نے شرکت کی۔ یہاں نئے انڈین گیمز آزمائے گئے۔

یہ بھی پڑھئے: ایسی مشین بنانا چاہیں گے جو خود سوچ سکے؟

قلم: یوم آزادی پر بی ایچ یو کی ادبی تحریک
Tee Aniket Dattatreya
(Qalam)
۱۵؍ اگست ۲۰۲۵ء کو دتاتریہ انیکیت، روپسا داس اور رامندر ورما نے بنارس ہندو یونیورسٹی میں ’’قلم‘‘ قائم کیا۔ یومِ آزادی پر شروع ہونے والی سوسائٹی کا مقصد طلبہ کو اظہار کا پلیٹ فارم دینا تھا۔ 
قلم نے شاعری، کہانی، اوپن مائک، نشستوں اور مباحثوں کے ذریعے خیالات پیش کرنے کا موقع دیا۔ پروگراموں میں جمہوریت، صنف، عدم تحفظ اور طلبہ کے مسائل زیرِ بحث آئے۔ 
ایک سال میں سوسائٹی کی کمیونٹی ۵۰۰؍  سے زائد طلبہ تک پہنچ گئی جبکہ انتظامی اور تخلیقی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ امسال ’’قلم‘‘ نے اپنی پہلی سالگرہ منائی۔

۱۱؍ سال، ایک ترنگا: لال چوک تک کا سالانہ سفر
Balbeer Singh
(Tiranga Yatra to Lal Chowk)
۲۰۱۵ء میں بلبیر سنگھ نے راجستھان سے سری نگر تک ترنگا یاترا شروع کی جس کا مقصد یومِ آزادی پر لال چوک پر پرچم لہرانا تھا۔ اس کے بعد وہ ہر سال یومِ آزادی پر سری نگر (کشمیر) پہنچتے رہے۔ 
۲۰۲۵ءمیں انہوں نے مسلسل دسویں مرتبہ لال چوک کے گھنٹہ گھر پر ترنگا لہرایا۔ 
یہ مہم صرف سفر تک محدود نہیں ہے۔ بلبیر سنگھ کے مطابق اس دوران ملک میں ۲۰؍  لاکھ سے زائد ترنگے تقسیم کئے جاچکے ہیں۔ 
بلبیر سنگھ کیلئے ۱۵؍ اگست سفر بن چکا ہے۔ ان کے ذاتی اقدام نے یاترا کو مہم بنادیا ہے۔ وہ ملک بھر میں کثرت میں وحدت کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK