Inquilab Logo Happiest Places to Work

مختصر کہانی: گدھے کے سینگ

Updated: March 07, 2026, 10:55 AM IST | Muhammad Qasim Siddiqui | Mumbai

گدھا پڑھا لکھا تھا۔ وہ صبح سویرے جانوروں کو پریڈ کراتا اور پھر انہیں پڑھانے بیٹھ جاتا۔ جنگل میں ہر سال کشتیاں ہوتیں۔ گدھے نے بھی اپنی ٹیم میدان میں اتار دی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

گدھا کئی کہاوتوں میں شامل ہے۔ جب کسی آدمی کو بےوقوف کہنا ہو تو ہم جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ وہ گدھا ہے۔ کسی شخص کے چپ چاپ کہیں سے اڑنچھو ہوجانے پر کہتے ہیں کہ وہ ایسا غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ تمہیں معلوم ہے کہ گدھے کے پہلے سینگ تھے پھر اسکے سینگ کیسے غائب ہوئے۔ پرانے زمانے میں کچھ جانوروں نے ایک جلسہ کیا اور طے کیا کہ وہ دوسرے جانوروں سے الگ ہو کر اپنی سرکار بنائیں گے۔ اس جلسے میں گدھا، شیر، ہاتھی اور خرگوش پیش پیش تھے۔ انہوں نے اپنی ایک چھوٹی سی فوج بنا لی۔ اس فوج کا کمانڈر ایک گدھے کو بنایا گیا۔ وہ بہت عقلمند سمجھا جاتا تھا، اسی لئے ہاتھی یا گینڈے کے بجائے اسے سرداری دی گئی۔
سارے جانور گدھے سے ڈرتے تھے۔ وہ سب سے زیادہ اس کے نکیلے سینگوں سے خوف کھاتے تھے۔ جنگل کا راجہ گدھے سے بہت خوش تھا، اس لئے کہ گدھا اس کے لئے بہت سے کام کرتا تھا۔ کام کا اتنا بھاری بوجھ اور کوئی جانور نہیں اٹھا سکتا تھا۔ (آج جب کسی پر کام پڑتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اسے گدھے کی طرح لاد دیا)۔

یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: بڑوں کی سیاست

گدھا بہت مگن رہتا۔ سارے جانوروں پر اس کا رعب تھا۔ ایک زراف ہی ایسا تھا جو اس کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ وہ اپنے قد کی وجہ سے بہت اکڑتا تھا اور دل ہی دل میں گدھے سے خار کھاتا تھا، دونوں میں ان بن شروع ہو گئی، لیکن دونوں کھل کر سامنے نہیں آئے۔ بس خاموشی سے ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بناتے رہے۔
گدھا پڑھا لکھا تھا۔ وہ صبح سویرے جانوروں کو پریڈ کراتا اور پھر انہیں پڑھانے بیٹھ جاتا۔ جنگل میں ہر سال کشتیاں ہوتیں۔ گدھے نے بھی اپنی ٹیم میدان میں اتار دی۔ تین ٹیموں میں مقابلہ تھا۔ گدھے کی ٹیم دوسرے نمبر پر آگئی۔ اس نے اس طرح سینگ چلائے اور ایسی دولتیاں جھاڑیں کہ سب پریشان ہوگئے۔ اب تو گدھا اور بھی آسمان پر چڑھ گیا۔ اس نے بات بات پر جانوروں کو ستانا شروع کر دیا۔ آخر شکایت راجہ کے پاس پہنچی۔ گدھا غرور کے نشہ میں ایسا چور تھا کہ اس نے راجہ کی بات بھی نہ مانی۔ وہ اسی طرح سینگ مارتا رہا اور جانوروں کو زخمی کرتا رہا۔ ایک دن جنگل کے سارے جانور راجہ کے پاس شکایت لے کر پہنچ گئے۔
راجہ بہت انصاف پسند تھا۔ رعایا کہ فریاد سن کر اسے بہت غصہ آیا۔ اس نے گدھے کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا۔ گدھے کو گرفتار کرکے راجہ کے سامنے پیش کیا گیا تو راجہ نے حکم دیا کہ گدھے کے سینگ جڑ سے کاٹ دیئے جائیں۔ پھر کیا تھا، سارے جانوروں نے گدھے کو دبوچ لیا اور اسکے سینگوں کو جڑ تک کھرچ کر رکھ دیا۔ گدھا تکلیف سے بیہوش ہوگیا۔ جب گدھے کو ہوش آیا تو وہ بالکل بدل چکا تھا۔ اب وہ بالکل سیدھا ہوگیا تھا۔ وہ چپ چاپ سب سے الگ تھلگ رہنے لگا۔ اس دن سے لے کر آج تک گدھے کے سر پر سینگ نہیں اگے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK