’’آج اس نے حلوہ چُرا کر کھا لیا تھا اور جب اس کے ابّا جان نے پوچھا تو اس نے صاف انکار کر دیا۔‘‘
EPAPER
Updated: January 17, 2026, 6:31 PM IST | M Anwar Burhanpuri | Mumbai
’’آج اس نے حلوہ چُرا کر کھا لیا تھا اور جب اس کے ابّا جان نے پوچھا تو اس نے صاف انکار کر دیا۔‘‘
’’شمیم...‘‘
’’ہوں۔‘‘
’’عقیلہ آرہی ہے!‘‘
’’تو آنے دو.... کیا ہوا؟‘‘ شمیم نے گُڑیا کے بال بناتے ہوئے کہا۔
’’نہیں بھئی.... آج وہ بہت اداس ہے....‘‘
’’کیوں کیا ہوا اسے؟‘‘
’’آج اس کے ابّا جان نے اس کو بہت مارا۔‘‘ کوثر نے غمگین لہجہ میں کہا۔
’’کیوں بھلا....؟‘‘
’’آج اس نے حلوہ چُرا کر کھا لیا تھا اور جب اس کے ابّا جان نے پوچھا تو اس نے صاف انکار کر دیا۔‘‘
’’تو پھر انہوں نے اسے کیوں مارا؟‘‘ شمیم نے جاسوسی انداز میں پوچھا۔
’’دراصل انہوں نے اسے حلوہ کھاتے ہوئے دیکھ لیا تھا!‘‘
یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: وھیل
’’تبھی تو انہوں نے اسے مارا.... اچھا ہوا.... جھوٹ بولنے کی سزا اس کو ملنی ہی چاہئے۔‘‘ شمیم نے روکھے پن سے کہا۔ اتنے میں عقیلہ ان کے پاس آگئی اسلئے انہوں نے بات کا رُخ بدل دیا کیونکہ وہ اس کا اور دل جلانا نہیں چاہتی تھیں!
کچھ دنوں بعد....
’’عقیلہ....‘‘ کوثر نے گُڑیا کو سلاتے ہوئے کہا۔ ’’کیا ہے....؟‘‘ عقیلہ نے گڈّے کو قمیص پہناتے ہوئے کہا۔
’’شمیم آج صبح سے دکھائی نہیں دی.... کہاں چلی گئی....؟‘‘
’’آج بیچاری کو اُس کی امّی جان نے بہت مارا اسلئے شرم کی وجہ سے گھر سے باہر نہیں نکلی۔‘‘
’’اسکی امّی جان نے بھلا اس کو کیوں مارا؟‘‘
’’رات اُس نے چپکے اُٹھ کر ساری مٹھائی کھا لی اور جب صبح اس کی امّی جان نے اس سے پوچھا تو اُس نے سچ سچ بتا دیا اس پردہ بہت ناراض ہوئیں اور اسے بہت مارا!‘‘
’چچ.... چچ.... چچ.... چہ.... کتنی بُری بات ہے.... ارے بھئی میری تو یہ بڑوں کی سیاست خاک سمجھ میں نہیں آتی۔ اگر جھوٹ بوتو تو مارتے ہیں اور سچ بولو تو مارتے ہیں۔‘‘
اور پھر وہ دونوں شمیم کو منانے اس کے گھر کی طرف چل دیں۔