Updated: June 23, 2026, 11:14 PM IST
| New Delhi
۲۰؍جولائی درخواست دینے کی آخری تاریخ ۔ قرعہ اندازی جولائی کے اخیر میںہوگی ۔منتخب عازمین کو ۱۰؍اگست تک پہلی قسط کے طور پرایک
لاکھ ۵۲؍ ہزار ۳۰۰؍روپے جمع کرانا ہوگا ۔مہاراشٹر حج کمیٹی کے دفتر مسافر خانہ میںفارم بھرنے کی سہولت ۔سنیچر اور اتوار کو بھی دفتر کھلا رہے گا
ریاستی حج کمیٹی کے دفتر میں فارم حج فارم بھرنے کا سہولت دی گئی ہے۔(فائل فوٹو)
حج ۲۰۲۷ء کیلئے ۱۱؍ ماہ قبل آن لائن درخواست دینے کا آغاز ہوگیا۔ حج کمیٹی آف انڈیا کے سی ای او شہنواز سی کی بیان کردہ تفصیل اور جاری شدہ سرکیولرکی رو سے ۲۲؍ جون ۲۰۲۶ء بروز پیر سے درخواست دینے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ فارم بھرنے کی آخری تاریخ ۲۰؍ جولائی ہوگی۔واضح ہوکہ اس دفعہ بھی یہی ہوا ہے کہ ابھی حجاج کی وطن واپسی مکمل نہیںہوئی ہےمگر اس سے قبل ہی ۲۰۲۷ءکیلئے حج کا اعلان کردیا گیا۔گزشتہ سال بھی عازمین نے یہ سوال قائم کیا تھا کہ اتنے پہلے حج کا اعلان اور حج سے متعلق کارروائی کا عازمین کو کیا فائدہ ہے؟ سوائے اس کے کہ انہیں کئی ماہ قبل رقومات کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ علاوہ ازیں، دیگر ضابطوں کی تکمیل بھی روانگی سے بہت پہلے کردینی پڑتی ہے مگرنہ توسہولتوں میں کوئی اضافہ ہوا اور نہ ہی خرچ میں کمی واقع ہو ئی، تب اتنی عجلت کا مقصد کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں حج کمیٹی نے سعودی حکومت کی ہدایات کاحوالہ دیا تھا ۔
فارم کے ساتھ ضروری دستاویزات
حج کمیٹی آف انڈیا کے تازہ اعلان کے مطابق آن لائن درخواست حج کمیٹی آف انڈیا کی ویب سائٹ اور موبائل ایپلی کیشن ’حج سویدھا ایپ‘ پر دستیاب ہے۔ ۲۰؍جولائی کی رات ۱۱؍بجکر ۵۹؍ منٹ تک درخواست دی جاسکتی ہے۔ جولائی کے آخری ہفتے میں قرعہ اندازی (ڈیجیٹل رینڈم سلیکشن) کی جائیگی۔ قرعہ اندازی میں منتخب عازمین کو ۱۰؍ اگست تک ایک لاکھ ۵۲؍ہزار ۳۰۰؍ روپے پہلی قسط کے طور پر ایڈوانس جمع کرانا ہوگا۔ مطلب یہ کہ حج کے ایام شروع ہونے سے ۱۱؍ماہ قبل یہ رقم ادا کرنی ہوگی ۔ہر مرتبہ کی طرح اس دفعہ پھریہ وضاحت کی گئی ہے کہ آخری تاریخوں میں توسیع ممکن نہیں ہوگی، حالانکہ ہر دفعہ ایک سے زائد مرتبہ توسیع کی جاتی ہے اورمرکزی حج کمیٹی اس کے لئے ریاستی حج کمیٹیوں اور موصول ہونے والی سفارشات کا جواز پیش کرتی ہے ۔
عازمین کوخصوصی ہدایت اور انتباہ
حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ درخواست دہندگان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ درخواست کو قابل ِ قبول بنانے کیلئے تمام رہنما خطوط اور اعلانات کو بغور پڑھیں۔