• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

انسان کو سمجھنے کا ہنر سیکھئے، رشتے مضبوط بنایئے

Updated: September 05, 2026, 3:47 PM IST | Tayyaba Asrar Ahmed | Mumbai

۳ء۴۸؍فیصد طلبہ نے اس نکتے پر توجہ دلائی کہ نصاب میں انہیں انسانوں کو سمجھنے کا ہنر نہیں ملتا۔

Symbolic image: iStock
علامتی تصویر: آئی اسٹاک

ہر چہرہ کی ایک کہانی ہے۔ 
دوسروں کو سمجھیں، یہ اہم ہے۔ 
جانئے ہمدردی کیا ہے؟
ڈجیٹل دنیا میں، حقیقی انسان!

ہر چہرے کے پیچھے ایک کہانی ہے
ہم روزانہ درجنوں لوگوں سے ملتے ہیں، مگر کیا ہم واقعی انہیں سمجھتے ہیں ؟ یہ ضروری نہیں کہ کلاس میں خاموش بیٹھا طالب علم مغرور ہو؛ ممکن ہے وہ کسی فکر میں ہو۔ جو دوست معمول سے کم بات کر رہا ہے، شاید وہ ناراض نہیں بلکہ پریشان ہو۔ ہم اکثر لوگوں کو ان کے چند الفاظ، لباس یا انداز سے پرکھ لیتے ہیں۔ 
دوسروں کو سمجھنے کی کوشش
ہر انسان کے اندر ایک ایسی کہانی ہوتی ہے جو ہمیں دکھائی نہیں دیتی۔ کسی کے بارے میں فیصلہ کرنے سے قبل اس کی کہانی کا وہ حصہ جاننے کی کوشش کریں جو آپ کی نظروں سے اوجھل ہے۔ انسان کو سمجھنے کا آغاز اسی احساس سے ہوتا ہے۔ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے اس کے حالات، احساسات اور نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہی حقیقی انسان فہمی ہے۔ سامنے والے کو سمجھنے کی کوشش کریں تو آسانیاں بڑھ جاتی ہیں۔ 
ہمدردی کیا ہے؟
سبھی کی زندگی، حالات اور تجربات مختلف ہوتے ہیں۔ جو بات ہمارے لئے معمولی ہو، وہ دوسرے کیلئے اہم ہوسکتی ہے۔ ہمدردی کا مطلب کسی غمگین شخص کی جگہ خود کو رکھ کر سوچنا ہے۔ ہمدردی دوسروں کو سمجھنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ ہمدردی سکھاتی ہے کہ ہر شخص کے احساسات کو اپنی نظر کے پیمانے سے نہ ناپیں۔ جب ہم دوسروں کے جذبات کو اہمیت دیتے ہیں تو ہمارے الفاظ نرم، رویے بہتر اور تعلقات مضبوط ہوجاتے ہیں۔ 
اختلاف میں بھی احترام
ہر طالب علم کی پسند، سوچ اور رائے ایک جیسی نہیں ہوسکتی۔ کوئی کھیل کو اہم سمجھتا ہے، کوئی کتابوں کو، کوئی فوراً جواب دینا پسند کرتا ہے، کوئی پہلے سوچتا ہے۔ اختلافِ رائے انسانی زندگی کا فطری حصہ ہے۔ دوستوں، بہن بھائیوں، اساتذہ اور ساتھیوں کے درمیان بھی خیالات مختلف ہوسکتے ہیں۔ مسئلہ اختلاف میں نہیں، اختلاف کے دوران احترام کھو دینے میں ہے۔ ’’تم غلط ہو‘‘ کہہ دینا آسان ہے، مگر ’’میں اس بات کو مختلف انداز سے دیکھتا ہوں ‘‘ کہنا سمجھداری ہے۔ گفتگو کا مقصد دوسرے کو خاموش کرانا نہیں، ایک دوسرے کو سمجھنا ہونا چاہیے۔ آج جب معمولی اختلاف بھی بحث اور جھگڑے میں بدل جاتا ہے، وہاں برداشت ایک بڑی خوبی بن گئی ہے۔ کسی کی رائے سے اتفاق نہ کرنا آسان ہے، مگر اسے سمجھنے کی کوشش کرنا ذہنی پختگی کی علامت ہے۔ 
جذبات سنواریں 
کبھی ایک معمولی سا جملہ کسی کا دل خوش کر دیتا ہے اور کبھی ایک لمحے کا غصہ برسوں کی دوستی میں دراڑ ڈال دیتا ہے۔ ایسا کیوں ؟ اس کا تعلق الفاظ سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی ہے کہ ہم اپنے اور دوسروں کے جذبات کو کتنا سمجھتے ہیں۔ یہی سمجھ جذباتی ذہانت کہلاتی ہے۔ غصہ آئے تو فوراً ردِعمل ظاہر کرنے کے بجائے خود کو سنبھالنا، ناکامی میں حوصلہ قائم رکھنا، دوست کی خوشی میں دل سے خوش ہونا اور اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھنا، اسی ذہانت کی خوبصورت علامتیں ہیں۔ اسکولی زندگی میں اس صلاحیت کی خاص اہمیت ہے کیونکہ یہاں ہر روز مختلف مزاج اور احساسات کے حامل دوستوں، اساتذہ سے واسطہ پڑتا ہے۔ جو طالب علم اپنے جذبات کو پہچاننا اور سنبھالنا سیکھ لیتا ہے، وہ دوسروں کے دل کی کیفیت بھی بہتر سمجھنے لگتا ہے۔ یہی سمجھ شخصیت نکھارتی ہے۔ 
ڈجٹیل دنیا میں حقیقی انسان 
آج ہماری گفتگو اسکرین کے شور میں دب جاتی ہے۔ پیغام پڑھتے ہوئے ذہن کہیں اور، گفتگو کرتے ہوئے نگاہ موبائل پر اور سامنے والا اپنی بات مکمل کرنے کا منتظر! مگر کسی کو سمجھنے کیلئے صرف اس کے الفاظ سن لینا کافی نہیں، اس کے الفاظ کے پیچھے چھپے احساس کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ جب کوئی دوست اپنی پریشانی بتائے تو موبائل ایک طرف رکھ دینا، اس کی طرف متوجہ ہونا اور درمیان میں بات نہ کاٹنا بھی احترام کی ایک خوبصورت شکل ہے۔ ’’Seen‘‘ کا نشان ہمیشہ یہ نہیں بتاتا کہ سامنے والے نے ہماری بات سمجھ بھی لی ہے۔ ایموجی جذبات کا اظہار کرسکتے ہیں، مگر ہر احساس کو لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے۔ اس لیے ٹیکنالوجی کو رابطے کا ذریعہ بنائیں، رشتوں کا متبادل نہیں۔ حقیقی رابطہ وہ ہے جہاں احساسات بھی ایک دل سے دوسرے دل تک پہنچیں۔

ان نکات پر توجہ دیں

غور سے سننے کی عادت
کسی کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کی بات توجہ اور صبر سے سنیں۔ جواب دینے کے بجائے پہلے اس کے احساسات اور الفاظ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ 
جذبات کو پہچانیں 
اپنے اور دوسروں کے جذبات کو پہچاننا جذباتی ذہانت کو بہتر بناتا ہے۔ چہرے کے تاثرات، لہجے اور رویے سے بھی جذبات سمجھنے کی کوشش کریں۔ 
اختلاف میں احترام رکھیں 
اچھے تعلقات کیلئے ہر بات پر اتفاق ضروری نہیں۔ اختلافِ رائے کے باوجود دوسرے شخص کے جذبات اور عزت کا خیال رکھنا تعلقات کو مضبوط بناتا ہے۔ 
اپنے تعصبات پہچانیں 
ہماری اپنی پسند، ناپسند اور پہلے سے قائم خیالات دوسروں کو سمجھنے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اپنے ذہنی تعصبات کو پہچان کر غیر جانب داری سے لوگوں کو دیکھیں۔ 
صبرکریں اور وقت دیں 
کسی انسان کی شخصیت کو ایک ملاقات یا ایک واقعے سے مکمل طور پر نہیں سمجھا جاسکتا۔ وقت کے ساتھ اس کے خیالات کو سمجھنا حقیقی پہچان پیدا کرتا ہے۔ 
اعتماد کا ماحول بنائیں 
لوگ اسی وقت اپنے دل کی بات کھل کر کرتے ہیں جب وہ خود کو محفوظ محسوس کررہے ہوں۔ دوسروں کی بات کو راز میں رکھنا اور تنقید سے گریز اعتماد بڑھاتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK