وہ میرے ہائی اسکول کے استاد تھے۔ بچّو! طلبہ کی پڑھائی کے دور میں سب سے یادگار وہ دن ہوتے ہیں جو ’ہائی اسکول‘ میں گزرتے ہیں۔
EPAPER
Updated: September 05, 2026, 4:24 PM IST | Muhammad R. Fai Ansari | Mumbai
وہ میرے ہائی اسکول کے استاد تھے۔ بچّو! طلبہ کی پڑھائی کے دور میں سب سے یادگار وہ دن ہوتے ہیں جو ’ہائی اسکول‘ میں گزرتے ہیں۔
وہ میرے ہائی اسکول کے استاد تھے۔ بچّو! طلبہ کی پڑھائی کے دور میں سب سے یادگار وہ دن ہوتے ہیں جو ’ہائی اسکول‘ میں گزرتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ شب و روز کالج کے دنوں کے مقابلہ میں زیادہ عرصہ تک رہتے ہیں۔ اس لئے یہ بچوں کی زندگی پر سب سے زیادہ اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ ہائی اسکول میں بہت سے استاد ہوتے ہیں، اور یہ بھی صحیح ہے کہ سب کے سب یاد بھی نہیں رہتے۔ مگر جو یاد رہ جاتے ہیں ان کیلئے دل سے ہمیشہ دعائیں نکلتی ہیں۔ میں آج اپنے ایک محترم استاد کا ذکر کر رہا ہوں۔ میرے اُن استاد کا نام ’سیّد شفیق‘ تھا۔ اپنے نام ہی کی طرح وہ پڑھنے والوں پر شفقت کرتے اور ان پر بڑے مہربان رہتے۔ ہم بچے جب انہیں ’سَر‘ کہتے تو وہ مسکراتے ہوئے فرماتے کہ ’بچّو! سَر کہنا تو صرف سرسیّد احمد خاں کو زیب دیتا ہے‘۔ دراصل وہ سر سیّد کے بڑے مدّاح یعنی تعریف کرنے والے تھے۔ اکثر ہمیں سرسیّد کی باتیں بتاتے۔ ان کا قول سناتے۔ مدرسہ کے پرنسپل اور دوسرے اساتذہ انہیں ادب سے ’حضرت‘ کہتے تھے۔ اسکول میں اکیلے وہی ’حضرت‘ کہلاتے تھے۔
وہ ہمارے اردو کے استاد تھے۔ انہوں نے طلبہ کے دلوں میں اُردو کی ایسی محبت پیدا کی کہ ہم اپنی قسمت پر ناز کرنے لگے۔ وہ کہتے کہ دیکھو برخوردار، اپنی مادری زبان اردو میں قابل بننے کیلئے کوشش کرو، اس میں لیاقت پیدا کرو گے تو دُنیا کی کسی بھی زبان کو سیکھنا تمہارے لئے مشکل نہ ہوگا۔ آگے چل کر ہمیں اندازہ ہوا کہ ان کا کہنا کس قدر صحیح تھا۔ تلفظ کے ساتھ ساتھ املا درست کرنے کیلئے وہ بچوں کو روز ایک صفحہ لکھ کر لانے کے لئے کہتے اور پھر اس کی بغور جانچ بھی کرتے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا ہر طالبِ علم خوش خط ہو۔ چنانچہ یہی ہوا کہ تھوڑے دنوں میں کلاس کے زیادہ تر بچوں کا خط بہت اچھا ہوگیا۔ انہیں ’بیت بازی‘ منعقد کرنے کا بھی بہت شوق تھا۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے کہ دیکھو، جسے درست شعر پڑھنا آگیا یوں سمجھو کہ اس کے تلفظ درست ہوگئے۔ جب کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو بولے دیکھو! شعروں میں جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں ان کے تلفظ میں عام طور سے غلطی نہیں ہوتی۔ فلاں لفظ کا صحیح تلفظ کیا ہے؟ جب ان سے کوئی یہ سوال کرتا تو وہ مثال میں کوئی نہ کوئی شعر ضرور سناتے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے انہوں نے بچوں میں مطالعہ کا شوق بھی پیدا کیا تھا۔ اس زمانے میں بچوں کا رسالہ ’کھلونا‘ بہت مقبول تھا۔ وہ اسے ہر ماہ منگواتے اور باری باری بچوں کو پڑھنے کے لئے دیتے۔ کھلونا خود بھی پڑھتے اور مسکراتے ہوئے کہتے یہ ’آٹھ سے اسّی (۸۰) سال کے بچوں کا ساتھی ہے۔ خود بھی پڑھو اور اپنے والدین کو بھی پڑھواؤ۔ مطالعہ کا شوق جب پروان چڑھا تو ہم لوگ غیر درسی کتابیں بھی پڑھنے لگے۔ ان دنوں اردو کے مشہور ادیب کرشن چندر کا بڑا نام تھا۔ بچوں کے لئے لکھا گیاان کا ناول ’چڑیوں کی الف لیلہ‘ جب بچوں کے رسالہ ’کھلونا‘ میں قسط وار چھپنے لگا تو سارے ملک میں اس ناول کی دھوم مچ گئی۔ جب یہ ناول کتابی شکل میں شائع ہوا تو شفیق سر نے اسے سب سے پہلے ہمارے اسکول کی لائبریری میں منگوایا۔
یہ بھی پڑھئے: شیخی دَھری رہ گئی
شفیق سر میں بے شمار خوبیاں تھیں۔ وقت کی پابندی کرنا ان کا اصلی مقصد تھا۔ وہ کلاس روم سے اکثر غائب رہنے والے لڑکوں کو نصیحت کرتے ہوئے ایک بات زور دے کر کہتے کہ میاں! ایک دن اسکول نہ آنے کے نقصان کا خمیازہ تین دن تک بھگتنا پڑتا ہے۔ ایک بچّے نے پوچھا کیسے، تو بولے نہ آنے کے ایک دن کا نقصان، دوسرا دن اس کی بھرپائی میں گزرنے کی سزا، تیسرے دن خود کو سنبھلنے کی نذرکرناپھرچوتھے دن جا کے کہیں معاملہ رفع دفع ہونے کی نوبت آئے۔ اس لئے اس بڑے خسارے کی بچنے کی کوشش کرو اور خود کو وقت کا پابند بناؤ۔
ان کی دوسری خوبی ان کی سادہ مزاجی تھی۔ سادہ لباس اور ان کا سیدھا پن سب کو بھاتا تھا۔ ناک کی سیدھ میں چلتے اور ہنس کر حال پوچھتے۔ وہ فطرتاً دین پسند اور طبعاً مصلحت پسند تھے۔ ادارہ میں اردو زبان کے ساتھ ساتھ علم ِ دین کے چلن کو عام کرنے کیلئے ہمیشہ کوشاں رہے۔ سرسیّد کے اقوال موقع کی مناسبت سے سنا کر خوش ہوتے اور خوش کرتے۔ ہمارے شہر میں فساد ہوا تو انہیں اس کا اتنا ملال ہوا کہ ہفتوں اداس رہے۔ پھر کچھ عرصہ بعد ملاقات ہوئی تو سرسّید احمد خاں کا قول سناتے ہوئے آبدید ہوگئے۔ بولے میرے عزیزو! آج اس قول کو گرہ میں باندھنے کی ضرورت ہے۔ پھر انہوں نے وہ قول سنایا ’’ہندوستان ایک خوب صورت دلہن کی طرح ہے۔ ہندو اور مسلمان اس کی دو آنکھیں ہیں۔ اگر دونوں قومیں مل کر رہیں تو دلہن خوبصورت رہے گی، اور اگر ایک بھی آنکھ خراب ہوئی تو دلہن کی خوبصورتی ختم ہو جائیگی۔‘‘
شفیق صاحب واقعی ایک استاد تھے بلکہ استادوں کے استاد تھے۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں۔ لیکن ان کے کام اور ان کی باتیں برسوں بعد بھی ہماری رہنمائی کرتی رہتی ہیں۔ آج انہیں یاد کرتے ہوئے ڈاکٹر ذاکر حسین کے اس قول کے ساتھ نہیں خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں ’’استاد کی کتابِ زندگی پر علم نہیں محبت کا عنوان ہوتا ہے۔‘‘ خدا انہیں غریق ِ رحمت کرے، آمین۔