Updated: September 05, 2026, 4:02 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ وہ واشنگٹن میں عمارتوں، منصوبوں اور یادگاروں پر اپنا نام یا اپنی شناخت اس لیے نمایاں کررہے ہیں کیونکہ ان کے بقول ان کے عہدے سے رخصت ہونے کے بعد کوئی اور ایسا نہیں کرے گا؛ اسی دوران وہائٹ ہاؤس بال روم اور ۲۵۰؍ فٹ بلند فتحی محراب سمیت ان کے کئی منصوبے قانونی اور سیاسی تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ وہ اپنے دورِ صدارت کے دوران واشنگٹن میں ایسے منصوبے آگے بڑھا رہے ہیں جو ان کی ذاتی یادگار بن جائیں گے۔ نیویارک میگزین کے صحافی بین ٹیرس سے گفتگو میں ٹرمپ نے ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف کے اس تبصرے سے اتفاق کیا کہ صدر اپنے لیے یادگاریں تعمیر کر رہے ہیں کیونکہ ان کے جانے کے بعد شاید کوئی اور ایسا نہیں کرے گا۔ ٹرمپ نے کہا، ’’یہ درست ہے، میرے جانے کے بعد کوئی ایسا نہیں کرے گا۔‘‘ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہائٹ ہاؤس کے احاطے میں زیر تعمیر نئے بال روم پر بھی ان کا نام ہونا چاہیے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ اس عمارت کو ان کے نام سے منسوب کیا جائے تو انہوں نے جواب دیا، ’’ایسا ہونا چاہیے۔ مجھے نہیں معلوم ہوگا کہ ایسا ہوگا یا نہیں، لیکن ہونا چاہیے۔‘‘ یہ منصوبہ وہائٹ ہاؤس کے مشرقی حصے کی جگہ تقریباً ۹۰؍ ہزار مربع فٹ کی عمارت تعمیر کرنے سے متعلق ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کے ۸۳؍ فیصد جین زی پروفیشنلز سے رابطہ کرنے میں گھبراتے ہیں: لنکڈ اِن
ٹرمپ انتظامیہ نے اس منصوبے کو محض تقریبات کے لیے بننے والے بال روم کے بجائے قومی سلامتی سے متعلق ایک وسیع کمپلیکس قرار دیا ہے۔ عدالتی دستاویزات میں زیر زمین بنکر، محفوظ طبی سہولیات، ڈرون سے تحفظ، میزائل اور دھماکوں سے مزاحمت کرنے والے ڈھانچے، محفوظ شیشے اور چھت پر فوجی استعمال کی سہولیات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق عمارت کا مقصد مستقبل کے صدور کی حفاظت بھی ہوگا۔تاہم منصوبے کی قانونی حیثیت پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ نے حال ہی میںفیصلے میں تعمیر روکنے کی کوشش کرنے والے تحفظِ آثارِ قدیمہ کے حامیوں کو مقدمہ آگے بڑھانے کے لیے مطلوبہ قانونی حیثیت حاصل نہ ہونے کے باعث تعمیر جاری رکھنے کی راہ ہموار کردی۔ چیف جسٹس جان رابرٹس نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ تعمیر غالباً غیر قانونی ہے کیونکہ کانگریس نے اسے واضح طور پر منظور نہیں کیا۔
واشنگٹن میں ٹرمپ کے منصوبوں کی فہرست بال روم تک محدود نہیں۔ انتظامیہ نے دارالحکومت میں Great Triumphal Arch کے نام سے تقریباً ۲۵۰؍ فٹ بلند ایک محراب بنانے کا منصوبہ بھی آگے بڑھایا ہے، جو پیرس کی Arc de Triomphe سے مشابہ ہوگی اور لنکن میموریل اور آرلنگٹن نیشنل سیمٹری کے درمیان علاقے میں تعمیر کی جانی ہے۔ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ اس مقام پر کھدائی کا کام اگلے ۲؍ ہفتوں میں شروع کیا جائے گا، حالانکہ منصوبے کو ابھی تمام حتمی منظوری حاصل نہیں ہوئی۔ محراب کے منصوبے کو بھی عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔ ۳؍ سابق فوجی اہلکاروں اور ایک ماہرِ تعمیرات نے عدالت سے کام رکوانے کی درخواست کی ہے۔ وفاقی جج تانیا چٹکن نے انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ کسی بھی عملی سرگرمی کے آغاز سے کم از کم ۴۸؍ گھنٹے قبل اطلاع دی جائے، جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی کھدائی تعمیر نہیں بلکہ زیر زمین آثار کی جانچ کا عمل ہے۔ مخالفین کا مؤقف ہے کہ منصوبے کے لیے موجودہ قانونی منظوری اور کانگریس کی اجازت درکار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایرک ٹرمپ کے نئے پاسپورٹ پر والد کی غصے والی تصویر، کہامجھے یہ بے حد پسند ہے
ٹرمپ نے اس کے علاوہ وہائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں بڑی تبدیلیاں، لنکن میموریل کے Reflecting Pool کی تزئین، نیا ہیلی پیڈ اور دیگر تعمیراتی منصوبے بھی شروع کیے ہیں۔ ان میں بعض منصوبوں پر ماہرینِ تعمیرات اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے اداروں نے اعتراض کیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ اور Ipsos کے جولائی کے سروے میں صرف ۳۲؍ فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کے تعمیراتی منصوبوں کے بارے میں ’’پرجوش‘‘ یا ’’مطمئن‘‘ ہونے کا اظہار کیا، جبکہ ۶۵؍ فیصد نے خود کو ’’غیر مطمئن‘‘ یا ’’پریشان‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ کا اپنی شناخت کو سرکاری اور عوامی مقامات سے جوڑنے کا رجحان دیگر منصوبوں میں بھی نظر آتا ہے۔ کینیڈی سینٹر کے نام میں اپنی شمولیت کی کوشش، سرکاری عمارتوں پر ان کی بڑی تصاویر، ’’Trump Accounts‘‘، ’’TrumpRx‘‘ اور ’’Trump Gold Card‘‘ جیسے نام اور امریکی بحریہ کے لیے مجوزہ ’’Trump-class‘‘ جنگی جہاز اسی سلسلے کا حصہ ہیں۔ کینیڈی سینٹر کے نام کی تبدیلی کو ایک وفاقی جج پہلے ہی غیر قانونی قرار دے چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دنیا کا ’’نقشہ‘‘ درست کرنے کا فیصلہ، افریقہ کو اصل حجم میں دکھانے کی مہم کامیاب
ٹرمپ کی واشنگٹن کو اپنی ترجیحات کے مطابق تبدیل کرنے کی مہم کو سیاسی طور پر بھی خطرہ لاحق ہے۔ ڈیموکریٹس نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد کانگریس کا کنٹرول حاصل کرتے ہیں تو ٹرمپ کے تعمیراتی منصوبوں، ان کی مالی معاونت اور انتظامی اختیارات کے استعمال کی تحقیقات کریں گے۔ اس دوران ریپبلکن قیادت نے بڑے پیمانے پر ان منصوبوں کو روکنے کے لیے قانون سازی یا نگرانی کا راستہ اختیار نہیں کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے تعمیراتی منصوبے واشنگٹن کو ’’خوبصورت‘‘ اور زیادہ محفوظ بنائیں گے، لیکن ناقدین انہیں صدر کی ذاتی شناخت اور سیاسی ورثے کو سرکاری املاک پر مستقل کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ بال روم اور فتحی محراب اب اسی وسیع تر تعمیراتی منصوبے کے سب سے نمایاں اور متنازع حصے بن چکے ہیں۔