• Sat, 10 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

خوف یا گھبراہٹ میں پسینہ آتا ہے، کیوں؟

Updated: October 10, 2026, 6:40 PM IST | Mumbai

خوف کے وقت پسینہ آنا اس بات کی علامت ہے کہ دماغ اور جسم خطرے کے مقابلے کیلئے فوری طور پر سرگرم ہو گئے ہیں۔

Upon sensing danger, the brain activates the autonomic nervous system. Photo: INN
خطرہ محسوس ہوتے ہی دماغ خودکار اعصابی نظام کو متحرک کرتا ہے۔ تصویر: آئی این این

اچانک خوف یا گھبراہٹ کے عالم میں بعض اوقات انسان کے ہاتھ، پاؤں، چہرہ اور جسم پسینے سے بھیگنے لگتے ہیں، حالاں کہ موسم گرم نہیں ہوتا۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ آخر خوف کی کیفیت میں پسینہ کیوں نکلتا ہے؟
یہ ایک قدرتی جسمانی ردِعمل ہے
خوف، گھبراہٹ یا اچانک خطرے کی صورت میں پسینہ آنا انسانی جسم کا ایک قدرتی جسمانی ردِعمل ہے۔ اس وقت دماغ کسی ممکنہ خطرے کو محسوس کرتے ہی جسم کو فوری طور پر دفاع یا بچاؤ کیلئے تیار کرتا ہے۔ اسے عموماً ’’فائٹ یا فلائٹ‘‘ (Fight or Flight) ردِعمل کہا جاتا ہےیعنی جسم خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے۔ 
دماغ خطرے کو کیسے محسوس کرتا ہے؟
جب انسان کسی خوفناک صورتِ حال، اچانک آواز، حادثے کے خدشے، امتحان، عوام کے سامنے بولنے یا کسی پریشان کن خبر کا سامنا کرتا ہے تو دماغ کا ایک حصہ امیگڈالا (Amygdala) خطرے کا اندازہ لگاتا ہے۔ اگر دماغ کو صورتِ حال خطرناک محسوس ہو تو وہ اعصابی نظام کو متحرک کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم کے اندر چند لمحوں میں کئی تبدیلیاں شروع ہو جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کاغذ کا ٹکڑا ہوا میں آہستہ گرتا ہے مگر پتھر تیزی سے، کیوں؟

ایڈرینالین کا کردار
خوف کے وقت جسم ایڈرینالین (Adrenaline) جیسے ہارمونز خارج کرتا ہے۔ ایڈرینالین دل کی دھڑکن اور سانس کی رفتار بڑھاتا ہے، خون کی گردش میں تبدیلی لاتا ہے اور جسم کو فوری کارروائی کیلئے تیار کرتا ہے۔ اسی دوران پسینے کے غدود بھی فعال ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے جسم کے دیگر حصوں پرپسینہ آنے لگتا ہے۔ 
پسینہ جسم کو ٹھنڈا کیوں کرتا ہے؟
پسینہ صرف خوف کے وقت ہی نہیں بلکہ جسم کا درجۂ حرارت بڑھنے پر بھی آتا ہے۔ پسینہ جلد کی سطح پر پہنچ کر بخارات میں تبدیل ہوتا ہے اور اس عمل کے دوران جسم سے حرارت خارج ہوتی ہے۔ اس طرح جسم کا درجۂ حرارت قابو میں رہتا ہے۔ خوف کی حالت میں بھی جسم خود کو تیزی سے حرکت کرنے کیلئے؛ تیار کرتا ہے، اس لئے پسینہ آنا جسم کے درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے کا ایک مفید طریقہ ہے۔ 
خوف میں ہاتھوں پر زیادہ پسینہ کیوں آتا ہے؟
خوف یا گھبراہٹ کے وقت بعض لوگوں کے ہاتھوں، پاؤں، بغلوں اور چہرے پر خاص طور پر پسینہ آتا ہے۔ ہاتھوں اور پاؤں کی ہتھیلیوں میں ایسے پسینے کے غدود بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں جو جذباتی کیفیت سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جذباتی پسینہ جسم کو گرم ہونے سے بچانے کے علاوہ گرفت اور جسمانی ردِعمل سے بھی وابستہ ہو سکتا ہے۔ لہٰذاخوف یا گھبراہٹ میں پسینہ آنا دراصل جسم کا قدرتی حفاظتی نظام ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK