میرا وجود ایک خاص اور اہم مقصدکیلئے تراشا گیا ہے۔ بظاہر میں محض لکڑی کا ایک چھوٹا سا ہتھوڑا ہوں، لیکن میری ایک ضرب میں وہ قوت ہے جو شور سے بھرے پورے مجمع کو لمحوں میں خاموش کرا سکتی ہے۔
EPAPER
Updated: October 10, 2026, 7:24 PM IST | Mumbai
میرا وجود ایک خاص اور اہم مقصدکیلئے تراشا گیا ہے۔ بظاہر میں محض لکڑی کا ایک چھوٹا سا ہتھوڑا ہوں، لیکن میری ایک ضرب میں وہ قوت ہے جو شور سے بھرے پورے مجمع کو لمحوں میں خاموش کرا سکتی ہے۔
میرا نام’موگری‘ ہے، مجھے انگریزی زبان میں ’گیول‘(Gavel) کہتے ہیں ۔ ویسے تو مجھے امید ہے کہ آپ میں سے بیشتر نے مجھے کہیں نہ کہیں ضرور دیکھا ہوگا، کیونکہ جہاں بھی عدالت کا تصور ہوتا ہے، وہاں میں جج صاحب کی نگرانی میں بظاہر ایک چھوٹا، مگر نہایت اہم کردار نبھاتا ہوا نظر آتا ہوں۔ اب میرا کردار کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو، مگر میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ میں سے کسی نے بھی میرے متعلق معلومات حاصل کرنے کی زحمت نہیں کی ہوگی۔ شاید آپ آج پہلی بار میرے نام سے بھی واقف ہوئے ہیں۔
میں آپ کی مصروفیات سے بخوبی واقف ہوں۔ اسی لئے آج میں نے خود ہی اپنا تعارف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں ایک گیول ہوں، لکڑی کا ایک چھوٹا سا ہتھوڑا، مگر میری حیثیت معمولی نہیں۔ میری وابستگی ایک باوقار اور اعلیٰ رتبے والی شخصیت سے ہے، جسے لوگ احترام سے ’’Your Highness‘‘ یا’’My Lord‘‘جیسے القاب سے مخاطب کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پیکابو: ہجوم جانتا ہی نہیں تھا کہ یہی شخصیت مستقبل میں مہاتما کہلائے گی
میرا وجود ایک خاص اور اہم مقصدکیلئے تراشا گیا ہے۔ بظاہر میں محض لکڑی کا ایک چھوٹا سا ہتھوڑا ہوں، لیکن میری ایک ضرب میں وہ قوت ہے جو شور سے بھرے پورے مجمع کو لمحوں میں خاموش کرا سکتی ہے اور جب میری آواز عدالت کی فضا میں گونجتی ہے، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری گونج منصف کے اداکئے گئے جملوں پر کسی نقطہ ختمہ کی مانند ہے۔ لہٰذا میری تمام زندگی عدالت کے میز پر گزرتی ہے جہاں پر میں نے بے شمار مظلومیت کے قصے سنے ہیں اور کئی مجرموں کو سزا ملتے دیکھی۔ بعض اوقات تو لوگوں کے شور سے میں گھبرا جاتا ہوں اور جب انہیں خاموش کرانے کیلئے مجھے پٹخا جاتا ہے تو میرے سر درد میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور کبھی کبھی تو وہ آرڈر آرڈر کی سماعت مجھے تھکا دیتی ہے لیکن پھر تھک ہار کر میں اس بات کو قبول کر لیتا ہوں کہ میرا وجود اسی فرض کو نبھانے کیلئے ہوا ہے۔ خیر جب بات وجود کی آ ہی گئی ہے تو میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ میرا آغاز کس طرح ہوا۔
پہلے مجھے اوزار کی حیثیت سے پتھروں کی شناخت کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ تب میرے خدوخال بالکل سادہ تھے۔ مجھ میں نہ ہی چمک تھی اور نہ ہی وقار۔ میں پتھروں کی شناخت کر کے تعمیراتی مناسبت سے بہتر پتھر کا فیصلہ کرتا تھا۔ پھر مجھے مقروض کسانوں کے قرض چکانے کے معاہدوں پر بولی لگانے کی ذمہ داری ملی اور اسی طرح زمانے بدلے، پس منظر بدلے مگر میرا کام کسی حد تک وہی رہا۔ ایک زوردار ضرب کھا کر تمام فیصلوں کو اس کے انجام تک پہنچانا۔ بلا شبہ مجھ پر وقت کی روانی کے اثرات بے حد متاثر کن رہے ورنہ شاید ہی کسی نے قیاس کیا ہوگا کہ دور ماضی کا یہ معمولی سا اوزار مستقبل میں اتنا خاص ہوگا۔
کالم نگار ’نیٹ‘(NEET) امتحان کی تیاری کررہی ہیں