نہ جانے کیسے سب کچھ بدل گیا، اور یوں لگا جیسے ہم سلطان ہی کے دَور میں کئی سال آگے آگئے ہیں۔ ہم محل کے کسی حصے میں چہل قدمی کر رہے تھے۔ مَیں نے پوچھا کہ کیا آپ جیسے پرہیز گار اور عبادت گزار شخصیت کیلئے سلطان بننا آسان تھا؟
EPAPER
Updated: October 10, 2026, 7:27 PM IST | Altamash Azmi | Mumbai
نہ جانے کیسے سب کچھ بدل گیا، اور یوں لگا جیسے ہم سلطان ہی کے دَور میں کئی سال آگے آگئے ہیں۔ ہم محل کے کسی حصے میں چہل قدمی کر رہے تھے۔ مَیں نے پوچھا کہ کیا آپ جیسے پرہیز گار اور عبادت گزار شخصیت کیلئے سلطان بننا آسان تھا؟
اپنے دہلی ٹور کے ویڈیوز دیکھ رہا تھا کہ نہ جانے کب مَیں صدیوں قدیم ایک انجان شہر میں پہنچ گیا مگر وہاں بھی اپنائیت محسوس ہورہی تھی۔
سامنے ایک مینار پر موذّن اذان دے رہے تھے۔ غور سے دیکھا تو شبہ ہوا کہ قطب مینار ہے لیکن اس وقت اس کی بلندی کم تھی۔ بغل میں قوت الاسلام مسجد بھی زیر تعمیر تھی۔ اِن عمارتوں کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ شاید مَیں ہندوستان کی پہلی خود مختار مسلم حکومت ’دہلی سلطنت‘ میں ہوں۔
تجسس نے ایک راہگیر پر سوال پوچھنے پر مجبور کر دیا۔ جواب ملا کہ مملوک حاکمِ نو کی تاجپوشی ہونے والی ہے۔ مَیں نے سوچا یہاں ایک غلام سلطان بن رہا ہے اور حاکمِ وقت فقیر بننے کا ڈھونگ کر رہے ہیں۔ لوگ ہجوم کی شکل میں قلعہ کی طرف جارہے تھے، مَیں بھی ان کے پیچھے ہولیا۔ لیکن یہ کیا؟ محل کے صدر دروازے پر سلطان خود موجود تھے۔ مجھے دیکھتے ہی میری طرف یوں آئے جیسے مَیں ان کا خاص مہمان ہوں اور وہ میری ہی راہ دیکھ رہے ہیں۔ سلطان کے اس انداز پر مَیں حیرت زدہ تھا اور وہاں موجود لوگ مجھے عجیب نظروں سے گھور رہے تھے۔ مَیں نے لوگوں کی پروا نہیں کی اور انہیں تخت نشینی کی مبارکباد پیش کی۔
تبھی مجھے سلطان کے بچپن کا وہ واقعہ یاد آگیا جب اُن کے بھائیوں نے حسد کی بنا پر انہیں بازار میں فروخت کر دیا تھا۔ لیکن آج خدا نے انہیں ہندوستان کا حکمراں بنا دیا تھا۔ ٹھیک حضرت یوسفؑ کی طرح۔ جی ہاں ! مَیں سلطان شمس الدین التمش کا مہمان تھا۔
نہ جانے کیسے سب کچھ بدل گیا، اور یوں لگا جیسے ہم سلطان ہی کے دَور میں کئی سال آگے آگئے ہیں۔ ہم محل کے کسی حصے میں چہل قدمی کر رہے تھے۔ مَیں نے پوچھا کہ کیا آپ جیسے پرہیز گار اور عبادت گزار شخصیت کیلئے سلطان بننا آسان تھا؟ انہوں نے ایک لمبی آہ بھری، پھر کہا ’’بالکل نہیں ! درباریوں نے ہماری نرمی کا بے جا فائدہ اٹھایا، پھر کچھ امراء غرور کے نشہ میں سرکشی کے خواب دیکھنے لگے اور ہمیں سیاسی چالوں میں پھنسانا چاہا حتیٰ کہ ہماری دستبرداری کا مطالبہ بھی کرنے لگے مگر ہم نے نہایت دلیری سے بغاوت کو کچل دیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پیکابو: ہجوم جانتا ہی نہیں تھا کہ یہی شخصیت مستقبل میں مہاتما کہلائے گی
’’حاکم کے نزدیک سب سے مشکل کام کون سا ہے؟‘‘ میرا اگلا سوال سن کر وہ سنجیدہ ہوگئے۔ پھر جواب دیا، ’’انسان میدانِ جنگ میں دشمنوں سے لڑ لیتا ہے۔ مگر سب سے زیادہ پریشانی سرحدوں میں موجود منافقوں اور مخبروں سے ہوتی ہے۔ جب وہ لوگ جو پہلے سلطنت کے رحم وکرم پر تھے اور خراج ادا کرتے تھے، غیروں کے ساتھ مل کر بغاوت پر آمادہ ہوجاتے ہیں تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ ان کی غداری سے نہ صرف مملکت میں انتشار پیدا ہوتا ہے بلکہ بغاوت ناکام ہونے کے بعد انہیں اپنی جان کے بھی لالے پڑجاتے ہیں۔ ‘‘
ابھی ہماری بات جاری ہی تھی کہ ایک قاصد ہانپتا کانپتا سلطان کے سامنے آیا اور کہا کہ دہلی کے نواح میں کچھ سپاہیوں نے بغاوت کردی ہے اور ہنگامہ آرائی پر اتر آئے ہیں۔ میری زبان سے فوراً نکلا، ’’نام لیا، باغی حاضر!‘‘ مگر سلطان کا ردِعمل قابل دید تھا۔ وہ میری بات پر مسکرائے اور وزراء کو لشکر تیار کرنے کا حکم دیا۔
مَیں پُرجوش تھا کہ اب تاریخ کی ایک بغاوت دیکھنے کا موقع ملنے والا ہے، مگر یہ کیا، منظر بدل گیا۔ مَیں سلطان کی ایک تربیت گاہ میں تھا جہاں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جنگی امور سیکھ رہے تھے۔ مَیں حیرت سے آگے بڑھا۔ تبھی ایک نوعمر لڑکی کی لکڑی کی تلوار کی نوک میری گردن پر آ رُکی۔ مَیں نے حیرت و خوف سے اسے دیکھا۔ اچانک سلطان کی آواز آئی، ’’رضیہ! مہمان کو خوفزدہ نہیں کرتے۔ ‘‘ رضیہ نام سنتے ہی ذہن میں جھماکا سا ہوا۔ یہ وہی رضیہ ہے جسے آگے چل کر ہندوستان جیسے عظیم ملک کی پہلی خاتون حکمراں کا خطاب ملے گا۔
یہ بھی پڑھئے: پیکابو: گلیلیو گلیلی صاحب! چٹکی بجاتے اور سارا منظر بدل جاتا تھا
سلطان نے پیچھے سے میرے دائیں کندھے پر ہاتھ رکھا، اور یوں لگا مَیں کسی تپتے علاقے میں پہنچ گیا ہوں۔ دھوپ اس قدر تھی کی بار بار پیاس لگ رہی تھی۔ سامنے مزدور بڑا سا گڑھا کھود رہے تھے۔ سلطان نے چمڑے کا مشکیزہ میری سمت بڑھاتے ہوئے کہا، ’’چند مہینوں میں مہرولی کے لوگ اس تالاب سے پانی حاصل کرسکیں گے۔ ‘‘ ’’کیا یہ حوضِ شمسی ہے؟‘‘ میرے سوال پر سلطان نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔
سوال زبان پر تھا، اور مَیں پلٹا ہی تھا کہ منظر بدل گیا۔ اب مَیں دربار میں کھڑا تھا، اور سلطان اپنے تخت پر تھے۔ پیغام پڑھا جارہا تھا کہ سلطنتِ عباسیہ کا ایک قاصد سلطان کی تعظیم و اکرام کیلئے عمامۂ خلافت لے کر نکل چکا ہے۔ سلطان نے مجھے اشارہ کیا، مَیں نے آنکھیں سکوڑ کر دیکھا تو لگا مَیں کسی دوسری جگہ ہوں۔ تبھی سلطان کی آواز آئی، ’’یہ ہمارا ذاتی کتب خانہ ہے اور ہم نے حال ہی میں احیاء العلوم کا ترجمہ کروایا ہے۔ ‘‘ پھر انہوں نے کہا کہ ’’ابھی سوجاؤ، اگلی صبح آپ کو ایک دلچسپ مقام دکھائیں گے۔ ‘‘ تبھی میرے ویڈیو کی موسیقی تھم گئی، اور مَیں یک لخت نیند سے نکل آیا۔
کالم نگار احمد غریب یونانی میڈیکل کالج (اکل کوا) میں بی یو ایم ایس کررہے ہیں، اور تعلیمی انقلاب کے سابق طالب علم ہیں۔