Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسٹریلیائی ٹیم کو ہندوستان سے کامیابی حاصل کرنےکیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑا

Updated: December 13, 2019, 10:17 PM IST | Sydney

پہلے ایک روزہ میچ میں ہندوستان کی ۳۴؍رن سے شکست۔ روہت شرما کی شاندار سنچری ۔ایم ایس دھونی نے بھی نصف سنچری بنائی۔ کوہلی، شکھر اور رائیڈو ناکام۔ رچرڈسن مین آف دی میچ ۔میزبان ٹیم سیریز میں صفر۔ ایک سے آگے

روہت شرما اور ایم ایس دھونی۔ پی ٹی آئی
روہت شرما اور ایم ایس دھونی۔ پی ٹی آئی

سڈنی (ایجنسی): نائب کپتان روہت شرما (ناٹ آؤٹ۱۳۳؍رن )کی شاندار اننگز بھی ہندوستان کو آسٹریلیا کے خلاف سنیچر کو ایک روزہ سیریز کے پہلے مقابلے میں جیت نہیں دلا سکی اور مہمان ٹیم ۳۴؍ رن سے شکست سے دوچار ہوئی۔ 
 آسٹریلیا نے ٹاس جیتنے کے بعد پہلے بلے بازی کرتے ہوئے مقررہ ۵۰؍ اوور میں۵؍ وکٹ پر ۲۸۸؍ رن بنائے تھے جس کے جواب میں ہندوستانی ٹیم مقررہ اوورس میں ۹؍ وکٹ گنواکر ۲۵۴؍ رن ہی بناسکی۔ ا س شکست کے ساتھ ہی ہندوستان ۳؍ میچوں کی سیریز میں صفر۔ایک سے پیچھے ہوگیا ہے۔
ہندوستانی اننگز میں صرف ۲؍ ہی بلے بازوں نے اپنی بہتر کارکردگی کامظاہرہ کیا اور افتتاحی بلے باز روہت نے ۱۳۳؍رن اور مڈل آرڈر بلے باز وکٹ کیپر مہندر سنگھ دھونی نے ۵۱؍ رن بنائے۔ شکھر دھون اور رائیڈو صفر پر آؤٹ ہوئے جبکہ ۹؍ میں سے ۶؍ بلے باز دہائی کے ہندسے تک بھی نہیں پہنچ پائے۔
 آسٹریلیا کے لئے محض اپنا ۵؍واں ون ڈے کھیلنے والے میڈیم پیسر جائے رچرڈسن نے ۱۰؍اوورس میں خطرناک اور کفایتی گیند بازی کرتے ہوئے ہندوستان کو ۲۶؍رن دے کر سب سے زیادہ ۴؍ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ انہوں نے کپتان وراٹ کوہلی، رائیڈو، دنیش کارتک اور رویندر جڈیجا کے وکٹ لئے اور مین آف دی میچ رہے۔
 نئے کھلاڑی جیسن بہرینڈورف نے ۱۰؍ اوور میں ۳۹؍رن پر ۲؍وکٹ اور مارکس اسٹوئنس نے ۶۶؍رن پر ۲؍ وکٹ لئے۔ پیٹر سڈل کو۴۸؍رن پر ایک وکٹ ملا۔ آسٹریلیا نے اپنی بہترین گیند بازی سے پہلے قابل اطمینان بلے بازی بھی کی جس کیلئے عثمان خواجہ نے ۵۹؍ رن، شان مارش نے۵۴؍ رن اور پیٹر ہینڈسکومب نے ۷۳؍رن کی نصف سنچری اننگز کھیلی۔
 ٹیسٹ سیریز میں ۱۔۲؍ کی جیت کے ساتھ تاریخ رقم کرنے والی ہندوستانی ٹیم سڈنی گراؤنڈ پر کھیلے جانے والے پہلے ون ڈے میں فارم سے بھٹکی ہوئی نظر آئی اور ہدف کا پیچھا کرتے ہوئے اس کی شروعات خراب رہی۔ ٹیم میں لوٹنے والے اسٹار بلے باز دھون پہلی ہی گیند پر بہرینڈورف کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوکر پویلین لوٹ گئے جبکہ کپتان وراٹ نے بھی مایوس کیا اور۸؍گیندوں میں ۳؍ رن ہی بنائے۔ وہ نئے گیند باز رچرڈسن کی گیند پر اسٹوئنس کے ہاتھوں کیچ ہوئے اور ہندوستان نے ۴؍ رن پر۲؍ اہم وکٹ گنوا دیئے۔ 
 ہندوستان کو تیسرا جھٹکا چوتھے اوور میں ۴؍ رن کے اسکور پر ہی لگ گیا جب رچرڈسن نے رائیڈو کو صفر پر ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ اس کے بعد روہت اور وکٹ کیپر دھونی نے مورچہ سنبھالا اور چوتھے وکٹ کیلئے ۱۳۷؍رن کی اہم ساجھیداری کی۔ ہندوستانی ٹیم پٹری پر لوٹتی ہوئی نظر آرہی تھی کہ بہرینڈورف نے دھونی کو ایل بی ڈبلیو کرکے ہندوستان کو زبردست جواب دے دیا۔ دھونی نے اپنی ۶۸؍ویں نصف سنچری بنائی اور اس اننگز کے دوران انہوں نے ہندوستان کی جانب سے ۱۰؍ہزار ون ڈے رن بھی پورے کرلئے۔ دھونی نے۹۶؍ گیندوں پر ۵۱؍ رن میں ۳؍ چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ دھونی نے دھیمی شروعات کی اور پھر رفتار پکڑی اور روہت کے ساتھ ایک اچھی سنچری پارٹنرشپ کی لیکن ان کے آؤٹ ہوتے ہی ہندوستانی اننگز کا فارم بگڑ گیا۔ کارتک ۲۱؍گیندوں میں ۱۲؍رن بنانے کے بعد رچرڈسن کی گیند کو اسٹمپ پر کھیلے جانے والے جبکہ جڈیجا نے۸؍ رن بنانے کے بعد رچرڈسن کی گیند پر شان مارش کو کیچ تھما دیا۔ ہندوستان کا ۵؍واں وکٹ ۱۷۶؍ اور چھٹا وکٹ ۲۱۳؍رن کے اسکور پر گرا۔ روہت کے رہتے ہندوستان کو جیت کی امید تھی لیکن ان کے ۴۶؍ ویں اوور میں ۲۲۱؍رن کے اسکور پر آؤٹ ہوتے ہی ہندوستانی امیدیں ختم ہوگئیں۔ روہت کا وکٹ اسٹوئنس نے لیا۔
 ہندوستانی نائب کپتان نے اپنے ۵۰؍ رن ۶۲؍ گیندوں اور ۱۰۰؍رن ۱۱۰؍گیندوں میں پورے کئے۔ یہ روہت کی ۲۲؍ویں ون ڈے سنچری تھی۔ بھونیشور نے ۲۳؍ گیندوں میں ناٹ آؤٹ ۲۹؍رن بنائے اور ہندوستان جیت سے کافی دور رہ گیا۔
اس سے قبل خراب شروعات سے ابھرنے کے بعد عثمان خواجہ، شان مارش اور پیٹر ہینڈسکومب کی نصف سنچریوں کی مدد سے آسٹریلیا نے یہاں سڈنی کرکٹ گراؤنڈ پر سیریز کے پہلے ایک روزہ میچ میں سنیچر کو جیت کیلئے ہندوستا ن کے سامنے ۲۸۹؍ رن کا ہدف رکھا۔ 
میزبان آسٹریلیا نے ٹاس جیتنے کے بعد پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور خراب شروعات کے بعد اس نے مقررہ ۵۰؍ اوورس میں ۵؍ وکٹ کے نقصان پر۲۸۸؍ رن بنائے۔ خواجہ نے ۵۹؍رن، شان نے ۵۴؍رن اور ہینڈسکومپ نے ۷۳؍رن کی شاندار اننگز کھیلیں ۔ اس کے علاوہ اسٹوئنس نے ناٹ آؤٹ ۴۷؍ رن کا تعاون بھی دیا۔
ہندوستان سے پہلی بار اپنی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز گنوانے والی آسٹریلیائی ٹیم نے پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا لیکن اس کی شروعات خراب رہی اور کپتان ایرون فنچ کو تیز گیند باز بھونیشور کمار نے محض ۶؍ رن کے ذاتی اسکور پر بولڈ کر کے ہندوستان کو پہلا وکٹ دلایا۔
فنچ نے الیکس کیری کے ساتھ اوپننگ میں صر ف ۸؍رن ہی جوڑے۔ بائیں ہاتھ کے بلے باز عثمان خواجہ پھر میدان پر آئے جنہوں نے دوسرے وکٹ کے لئے کیری کے ساتھ۳۳؍ رن جوڑے۔ کیری کو روہت شرما نے کلدیپ یادو کے ہاتھوں کیچ کروایا۔ کیری نے ۳۱؍گیندوں میں ۵؍ چوکے لگاکر ۲۴؍ رن بنائے۔ خواجہ نے پھر شان مارچ کے ساتھ تیسرے وکٹ کیلئے ۹۲؍رن کی ساجھیداری کرتے ہوئے آسٹریلیا کو ۱۰۰؍رن کے پار پہنچادیا اور اننگز کو سنبھالا۔
 خواجہ نے اپنے ایک روزہ ون ڈے کریئر کی ۵؍ویں نصف سنچری بنائی۔ انہوں  نے۸۱؍ گیندوں میں ۶؍ چوکے لگا کر ۵۹؍رن بنائے۔ ہینڈسکومب نے پھر شان کے ساتھ اننگز کو آگے بڑھاتے ہوئے چوتھے وکٹ کیلئے ۳۵؍ گیندوں میں تیزی سے ۵۳؍رن جوڑے۔ 
 ہینڈسکومب اور اسٹوئنس نے ۴۷؍ویں اوور تک آسٹریلیا کو۲۵۴؍رن کے اطمینان بخش اسکور تک پہنچایا۔ دونوں نے ۵؍ویں وکٹ کیلئے۶۸؍ رن کی دوسری بڑی ساجھیداری کی۔ ہندوستانی گیند بازوں کیلئے دردسر بنے ہینڈسکومب ۷۳؍رن پر بھونیشور کا شکار بنے۔ انہوں نے ۶۱؍گیندوں میں ۶؍ چوکے اور ۲؍ چھکے لگائے۔
 حالانکہ اسٹوئنس آخر تک کریز پر جمے رہے اور کئی بہترین بڑے شاٹس کھیلے۔ انہوں نے ۴۳؍ گیندوں میں ۲؍چوکے اور۲؍چھکے لگا کر ۴۷؍رن بنائے۔ تیز گیند باز بھونیشور آخری اوور میں مہنگے گیندباز ثابت ہوئے۔ انہوں نے میچ کے۱۹؍ویں اوور میں اپنے ۱۰۰؍ وکٹ مکمل کئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK