’این وِیڈیا ‘ کے بانی جینس ہوانگ کا کارنیگی میلن یونیورسٹی کے ۲۰۲۶ء بیچ کے گریجویٹس سے خطاب کے ۸؍اہم حصے جو دُنیابھرطلبہ کیلئے بھی بہترین پیغام ہے۔
EPAPER
Updated: May 13, 2026, 5:15 PM IST | Mumbai
’این وِیڈیا ‘ کے بانی جینس ہوانگ کا کارنیگی میلن یونیورسٹی کے ۲۰۲۶ء بیچ کے گریجویٹس سے خطاب کے ۸؍اہم حصے جو دُنیابھرطلبہ کیلئے بھی بہترین پیغام ہے۔
کارنیگی میلن یونیورسٹی سے امسال گریجویشن مکمل کرنیوالے طلبہ اور ان کے والدین کیلئےآج خوشی، فخر اور خوابوں کی تعبیر کا دن ہے۔ میرے والدین بھی مجھ پر بے حد فخر کرتے ہیں۔ میری کامیابی دراصل ان کی کامیابی ہے۔ میں ان کے خواب کی تعبیر ہوں۔ اس ہال میں موجود بہت سے لوگوں کی طرح میں بھی پہلی نسل کا مہاجر ہوں۔ میرے والد کا خواب تھا کہ وہ اپنے خاندان کو امریکہ میں بہتر زندگی دیں۔ جب میں نو سال کا تھا تو انہوں نے میرے بڑے بھائی اور مجھے امریکہ بھیج دیا۔ ہم کینٹکی کے چھوٹے سے قصبے اونائیڈا میں ایک بیپٹسٹ بورڈنگ اسکول پہنچے۔ دو سال بعد میرے والدین بھی سب کچھ چھوڑ کر ہمارے پاس آ گئے۔ ان کے پاس بہت کم وسائل تھے۔ میرے والد کیمیکل انجینئر تھے، جبکہ میری والدہ ایک کیتھولک اسکول میں ملازمہ تھیں۔ وہ مجھے صبح چار بجے جگا کر اخبار تقسیم کرواتیں۔ میرے بڑے بھائی نے مجھے ریسٹورنٹ میں برتن دھونے کی نوکری دلوائی، جو اُس وقت مجھے بڑی کامیابی محسوس ہوتی تھی۔یہی امریکہ کا میرا تصور تھا۔ آسان نہیں، مگر مواقع سے بھرا ہوا۔ ضمانت نہیں، مگر ایک موقع ضرور۔ میرے والدین یہاں اس یقین کے ساتھ آئے تھے کہ امریکہ انکے بچوں کو بہتر موقع دے گا۔۱این ویڈیا کا قیام اور جدوجہد۔
یہ بھی پڑھئے : مختصر مدتی ملازمت، تیز ترقی: نئی نسل (جین زی) کی کریئر حکمت عملی
۱۔ این ویڈ یا کا قیام اور جدو جہد
جب میں۳۰؍ سال کا تھا تو میں نے کرس مالاچوسکی اور کرٹس پریم کے ساتھ مل کر این ویڈیا کی بنیاد رکھی۔ ہم ایک نئی قسم کا کمپیوٹر بنانا چاہتے تھے جو ایسے مسائل حل کر سکے جو عام کمپیوٹر نہیں کر سکتے۔ ہمیں کمپنی چلانے، سرمایہ جوڑنے یا کاروبار سنبھالنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ میں نے صرف اتنا سوچا کہ یہ کتنا مشکل ہو سکتا ہے؟ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ہماری سوچ سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ ہماری پہلی ٹیکنالوجی تو ناکام ہوگئی تھی، ہم تقریباً دیوالیہ ہو گئے تھے۔ ایک وقت ایسا آیا جب مجھے جاپان جا کر’سیگا‘ کے سی ای او کو یہ بتانا پڑا کہ جس ٹیکنالوجی کا ہم نے وعدہ کیا تھا وہ کامیاب نہیں ہوگی۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ معاہدہ ختم کر دیں، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہمیں ادائیگی کر دیں، ورنہ این ویڈیا ختم ہو جائے گی۔ یہ لمحہ انتہائی شرمندگی اور ذلت کا باعث تھا، مگر سیگا کے سی ای او نے ہماری مدد کی۔ میں نے وہیں سیکھا کہ سی ای او ہونا طاقت کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا نام ہے، اور ایمانداری اور عاجزی اکثر مہربانی اور سخاوت سے جواب پاتی ہے۔ اسی سرمایہ سے ہم نے کمپنی کو دوبارہ کھڑا کیا اور نئی ٹیکنالوجیز ایجاد کیں، جنہیں آج بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ ۳۳؍ برس میں این ویڈیا نے خود کو بارہا نئے سرے سے دریافت کیا۔ ہر بار ہم نے یہی سوال کیا: ’’یہ کتنا مشکل ہو سکتا ہے؟‘‘ اور ہر بار جواب ملا: ’’ہماری سوچ سے زیادہ مشکل۔‘‘ مگر انہی تجربات نے ہمیں سکھایا کہ ناکامی کامیابی کی ضد نہیں بلکہ سیکھنے کا ایک مرحلہ ہے۔ ہر ناکامی انسان کے کردار کو مضبوط بناتی ہے۔
۲۔ اے آئی انقلاب کا آغاز
میرا کریئر پرسنل کمپیوٹر انقلاب کے آغاز میں شروع ہوا تھا، جبکہ آپ کا کریئر اے آئی انقلاب کے آغاز پر شروع ہو رہا ہے۔ اس سے زیادہ دلچسپ وقت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ مصنوعی ذہانت کا آغاز یہیں کارنیگی میلن میں ہوا تھا۔۱۹۵۰ء کی دہائی میں یہاں ’لاجک تھیورسٹ‘ تیار کیا گیا، جسے دنیا کا پہلا اے آئی پروگرام سمجھا جاتا ہے۔۱۹۷۹ءمیں کارنیگی میلن نے روبوٹکس انسٹیٹیوٹ قائم کیا، جو روبوٹکس کیلئے دنیا کا پہلا تعلیمی ادارہ تھا۔
۳۔ ہر انسان پروگرامر ہے
دنیا میں صرف چند لوگ سافٹ ویئر لکھنا جانتے تھے، مگر اب کوئی بھی اے آئی سے کہہ سکتا ہے کہ وہ اس کے لیے کوئی مفید چیز بنا دے۔ ایک دکاندار ویب سائٹ بنا سکتا ہے، ایک بڑھئی کچن ڈیزائن کر سکتا ہے۔ اے آئی کوڈ لکھ دیتی ہے۔ اب ہر انسان پروگرامر بن سکتا ہے۔
۴۔ کمپیوٹنگ کی مکمل نئی دنیا
مصنوعی ذہانت نے کمپیوٹنگ کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ میں نے مین فریم، پی سی، انٹرنیٹ، موبائل اور کلاؤڈ ہر بڑی ٹیکنالوجی لہر کو دیکھا ہے۔ مگر اب جو ہونے جا رہا ہے، وہ ان سب سے بڑا ہے۔ ۶۰؍ برسوں تک کمپیوٹنگ ایک ہی اصول پر چلتی رہی: انسان سافٹ ویئر لکھتے تھے اور کمپیوٹر ہدایات پر عمل کرتے تھے۔ اب یہ دور ختم ہو چکا ہے۔ اے آئی نے کمپیوٹنگ کو نئی شکل دے دی ہے۔ اب انسان کوڈ نہیں لکھتا بلکہ مشینیں سیکھتی ہیں۔ سی پی یو کی جگہ جی پی یو پر چلنے والے نیورل نیٹ ورکس نے لے لی ہے۔ کمپیوٹر اب صرف ہدایات نہیں مانتے بلکہ سمجھتے، سوچتے، منصوبہ بناتے اور مسائل حل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : آئی آئی ٹی میں ناکام نوجوان نے انجینئر بن کر پرکشش جاب پائی۔
۵۔ اے آئی خوف یا موقع؟
بہت سے لوگ آرٹی فیشیل انٹیلی (اے آئی) سے خوفزدہ ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ اے آئی تکنیک کوڈ لکھ رہی ہے، تصویریں بنا رہی ہے، گاڑیاں چلا رہی ہے۔ اور پھر سوال کرتے ہیں کہ آگے کیا ہوگا؟ کیا نوکریاں ختم ہو جائیں گی؟ کیا انسان پیچھے رہ جائے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ ہر بڑی ٹیکنالوجی کے ساتھ خوف بھی آیا، مگر جب معاشرے نے ذمہ داری اور امید کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی کو اپنایا تو انسانی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ہماری نسل کی ذمہ داری صرف اے آئی کو آگے بڑھانا نہیں بلکہ اسے سمجھداری اور احتیاط کے ساتھ آگے بڑھانا ہے۔
۶۔ اے آئی اور نئی صنعتی دنیا
اے آئی کے لیے کھربوں ڈالر کی انفراسٹرکچر سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ امریکہ میں چِپ فیکٹریاں، ڈیٹا سینٹرز اور جدید مینوفیکچرنگ مراکز بنیں گے۔ یہ ایک نئی صنعتی دنیا کا آغاز ہے۔
۷۔ ہر نوکری بدلےگی
ہاں، اے آئی ہر نوکری کو بدلے گی، مگر کسی نوکری کا مقصد صرف اس کے کام نہیں ہوتے۔ کچھ کام خودکار ہو جائیں گے، کچھ نوکریاں ختم ہوں گی، مگر نئی صنعتیں اور نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اے آئی انسان کے مقصد کو ختم نہیں کرتی بلکہ اس کی صلاحیت بڑھاتی ہے
۸۔کلاس آف ۲۰۲۶ء کیلئے پیغام
آپ ایک غیر معمولی دور میں دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں۔ سائنس اور دریافت کا نیا دور شروع ہو رہا ہے۔ آپکے پاس یہ موقع ہے کہ آپ ٹیکنالوجی کو اربوں لوگوں تک پہنچائیں، دنیا کو بہتر بنائیں اور زیادہ امید افزا مستقبل تخلیق کریں۔ کارنیگی میلن کا نعرہ مجھے بیحدپسند ہے:’’میرا دل میرے کام میں ‘‘ لہٰذا اپنے دل کو اپنے کام میں لگائیے۔ ایسی چیز بنائیےجو آپکی تعلیم، آپکی صلاحیت اور ان لوگوں کے اعتماد کے لائق ہو جنہوں نے دنیا سے پہلے آپ پر یقین کیا۔شکریہ ،خداحافظ!