دادر چیتیہ بھومی پر طلبہ تنظیموں اور یونین کی جانب سے اس کا اہتمام کرنے والوں کو تحویل میں لیا گیا مگر وہ بھی ڈٹے رہے اور زبردست نعرے بازی کی۔
EPAPER
Updated: October 26, 2026, 11:29 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
دادر چیتیہ بھومی پر طلبہ تنظیموں اور یونین کی جانب سے اس کا اہتمام کرنے والوں کو تحویل میں لیا گیا مگر وہ بھی ڈٹے رہے اور زبردست نعرے بازی کی۔
آئی آئی ٹی بامبے کے طالب علم ساحل واکوڈے کو انصاف دلانے اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے کے لئے اتوار کی شام چیتیہ بھومی(دادر) پر طلبہ کی تنظیموں کا کینڈل مارچ کا اعلان کیا گیا تھا ۔ اس کے ساتھ ہی پولیس بھی صبح سے حرکت میں آئی اور بڑی تعداد میں پولیس فورس کے ذریعے کینڈل مارچ کرنے والوں کو پولیس وین میں بٹھاکر الگ الگ پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ کینڈل مارچ کے تعلق سے ایک الگ انداز میں پوسٹر شائع کیا گیا تھا جس میں سریش اور انیل نام کے نوجوانوں کے مکالمے کے ذریعے چیتیہ بھومی آنے اور اس کا مقصد، حصول انصاف، ذات برادری کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی مخالفت ، اس طرح کا سلسلہ فوراً روکنے کے علاوہ انصاف کو ہی حقیقی ترقی قرار دیا گیا تھا۔
پولیس نے تحویل میں لیا مگر ہم رکنے والے نہیں
پروگریسیو اسٹوڈنٹس یونین کی سربراہ اور کینڈل مارچ کے تعلق سے پیغام رسانی میں پیش پیش رہنے والی سامیا کورڈے کو پولیس نے تحویل میں لیا اور جب انہیں پولیس وین میں لے جایا گیا توانہوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کون سا پولیس کا طریقہ ہے، ہم آئی آئی ٹی کے طالب علم کی خودکشی معاملے میں انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں، کینڈل مارچ کرنا چاہتے تھے تو جواب دینے اور خودکشی کرنے پر آمادہ کرنے والے خاطیوں کے خلاف ایکشن لینے کے بجائے ہمیں حراست میں لیا جارہا ہے اور یہ سب کچھ ملک کی معاشی راجدھانی ممبئی میں ہورہا ہے۔ سامیا نے یہ بھی کہا کہ ہم ڈرنے یا خوف کھانے والے نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: را ج ٹھاکرے نے’’مودی-اڈانی دوستی‘‘ پر ویڈیو ہٹا دیا
ڈی وائی ایف آئی ممبئی صدر نے۵؍ سوال قائم کئے
ڈیمو کریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا ممبئی کے صدر مہندر اگھڑے نے پولیس کے ذریعے کینڈل مارچ پر روک لگانے اور اس میں حصہ لینے والوں پر سختی کی شدید مذمت کی اور پانچ سوال قائم کرتے ہوئےحکومت اور پولیس سے پوچھا کیا کسی طالب علم کی موت پر آواز اٹھانا جرم ہے، آخر کئی ساتھیوں کو گھروں میں کیوں نظر بند کیا گیا۔ دوسرے ایک ماہ سے زائد وقت گزر گیا ، ساحل کی خود کشی کے متعلق رپورٹ کیوں عام نہیں کی گئی، تیسرے یہ کہا جارہا ہے کہ آئی آئی ٹی پوائی کا ڈین فرار ہوگیا ، اگر یہ سچ ہے تو یہ کیسے ممکن ہوا اور کس نے فرار ہونے میں مدد کی اور کس نے فرار ہونے کا موقع دیا ، چوتھے کیا ذات پات کی بنیاد پر انسٹی ٹیوٹ میں اس طرح پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ اسی طرح زیادتی کا شکار ہوتے رہیں گے اور پانچویں آئی آئی ٹی کے اندر احتجاج کرنے والے طلبہ سے چھیںنی گئی بابا صاحب کی تصویریں، پلے کارڈ اور دوسری چیزیں کیوں نہیں لانہیں وٹائی جارہی ہیں۔عامر قاضی نے کہا کہ خودکشی کرنے والے طالب علم کے تعلق سے آزاد میدان میں احتجاج اور بھوک ہڑتال کی گئی، اتوار کو چیتیہ بھومی پر کینڈل مارچ کا اعلان کیا گیا مگر پولیس نے سختی برتی اور جمع ہونے والوں کو تحویل میں لے لیا۔ یہ طریقہ غلط ہی نہیں بلکہ کھلی زیادتی ہے۔
دیپاولی سالوے کا پیغام
آل انڈیا انڈیپنڈنٹ شیڈیولڈ کاسٹ اسوسی ایشن کی ذمہ دار دیپاولی سالوے کو پولیس نے تحویل میں لیا اور وین میں بٹھایا تو انہوں نے پیغام دیا کہ اس طرح کی زیادتی اور دھر پکڑ سے حق وانصاف کی آواز نہیں دبائی جاسکتی۔ چیتیہ بھومی پر موجود کاکروچ جنتا پارٹی کے رکن ساحل پارسیکر نے کہا کہ چیتیہ بھومی پر کینڈل مارچ کرنا کیسے غلط ہوگیا ؟ پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے کے سبب نامناسب تبصرے کی بنیاد پر خود کشی کرنے والے طالب علم کے لئے انصاف کا مطالبہ اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ تو ہم سب کا جمہوری حق ہے، اس سے کیوں روکا اور تحویل میں لیا گیا۔ پولیس کے مطابق چیتیہ بھومی پرکینڈل مارچ کے لئے جمع ہونے والے تقریباً۲۵؍ مظاہرین کو تحویل میں لے کر پولیس اسٹیشن لے جایا گیا، پھر انہیں چھوڑ دیا گیا۔