Updated: October 26, 2026, 7:08 PM IST
| Gaza
شجاعیہ کے قریب اتوار کی شام خیموں میں آگ لگنے سے خواتین، بچوں، بزرگوں اور مریضوں سمیت سیکڑوں افراد کا بچا کھچا سامان بھی تباہ ہوگیا؛ غزہ کی وزارتِ تعمیرات و رہائش نے واقعے کو جبری بے دخلی کی پالیسی کا حصہ قرار دیتے ہوئے جنگی جرم کہا، جنگ بندی کے باوجود حملوں میں ہزاروں فلسطینی ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔
غزہ شہر کے مشرقی علاقے شجاعیہ کے قریب بے گھر فلسطینیوں کے ایک کیمپ میں آگ لگنے سے ۸۰۰؍ سے زائد افراد اپنے عارضی ٹھکانوں سے بھی محروم ہوگئے۔ غزہ کی وزارتِ تعمیرات و رہائش کے مطابق اتوار ۲۵؍ اکتوبر کی رات تقریباً ۸؍ بجے اسرائیلی کواڈ کاپٹر ڈرونز نے خیموں کو آگ لگائی، جس کے نتیجے میں ۲۰۰؍ سے زیادہ خاندانوں کی پناہ گاہیں اور ان کا بچا کھچا سامان جل کر خاکستر ہوگیا۔ متاثرین میں بڑی تعداد خواتین، بچوں، بزرگوں اور مریضوں کی بتائی گئی ہے۔ وزارت نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ ان خاندانوں کے پاس پہلے ہی محفوظ رہائش اور بنیادی سہولتیں موجود نہیں تھیں اور اس واقعے نے انہیں ایک بار پھر بے سروسامانی کی حالت میں پہنچا دیا۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے اس مخصوص واقعے پر کوئی ردعمل اس رپورٹ میں درج نہیں ہے، اس لیے حملے سے متعلق تفصیلات فلسطینی وزارت کے بیان سے منسوب ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: انتخابی نتائج کے بعد تشدد کا خدشہ، ۲۲؍ ہزار پولیس تعینات کرنے کی تیاری
وزارتِ تعمیرات و رہائش نے کہا کہ خیموں میں آگ لگنے سے متاثرہ خاندانوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور ان کے پاس سخت موسمی حالات سے بچنے کے لیے نہ مناسب پناہ گاہ باقی رہی اور نہ ہی فوری طور پر کسی متبادل انتظام کی ضمانت تھی۔ بیان میں اس واقعے کو فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور انہیں بار بار اپنے ٹھکانوں سے اکھاڑنے کی پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا۔ وزارت نے اسے ’’مکمل جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم‘‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ یہ وزارت کا مؤقف ہے؛ کسی بین الاقوامی عدالتی ادارے کی جانب سے اس مخصوص واقعے کو جنگی جرم قرار دیے جانے کی اطلاع مذکورہ رپورٹ میں نہیں ہے۔ غزہ میں بے گھر افراد کے لیے یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بڑی تعداد میں فلسطینی اپنے گھر کھو چکے ہیں اور عارضی خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور کی اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں تقریباً ۲؍ لاکھ ۷۹؍ ہزار افراد ایسے ۴۰۰؍ بے دخلی کے مقامات پر پناہ لیے ہوئے تھے جہاں بارش اور سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔ ان مقامات پر نکاسیٔ آب، صفائی، پناہ گاہوں کو مضبوط بنانے اور پانی و دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے امدادی ادارے کام کر رہے ہیں، لیکن سلامتی کی غیر یقینی صورتِ حال، مالی وسائل کی کمی اور ضروری سامان کی رسائی میں رکاوٹیں ان کوششوں کو محدود کر رہی ہیں۔ شجاعیہ کے قریب کیمپ میں آگ لگنے سے متاثر ہونے والے خاندانوں کے لیے بھی فوری طور پر محفوظ متبادل رہائش کا انتظام ایک بڑا سوال بن گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک کے پارک میں ۸۹؍ ہزار ڈالر کا اے آئی روبوٹ، انسانوں سے میل جول کی تربیت
غزہ میں ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں اور زخمیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ وزارت کے اعدادوشمار کے مطابق جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے کم از کم ۱۵۵۱؍ فلسطینی ہلاک اور ۵۵۷۳؍ زخمی ہوچکے تھے۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد ۷۴؍ ہزار سے تجاوز اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ ۷۵؍ ہزار سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ یہ اعدادوشمار غزہ کی وزارتِ صحت کے ہیں۔ ان میں سے ہر واقعے کی الگ الگ آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، تاہم اقوام متحدہ کے ادارے اور امدادی تنظیمیں غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں، تباہ شدہ رہائش گاہوں اور انسانی ضروریات کی مسلسل نشاندہی کرتے رہے ہیں۔ اس تازہ واقعے کو فلسطینی حکام نے اسرائیل میں انتخابی سرگرمیوں سے پہلے غزہ پر حملوں میں شدت کے تناظر میں بھی دیکھا ہے۔ فلسطینی وزیرِ خارجہ ورسن آغابیکیان نے جمعہ کو کہا تھا کہ اسرائیلی انتخابات میں فلسطینیوں کا خون ’’جیتنے کا کارڈ‘‘ بن گیا ہے۔ اسرائیل میں کنیسٹ انتخابات ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے ہیں۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں حملوں اور بے دخلی کے واقعات کو انتخابی سیاست میں سخت گیر مؤقف کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ اس دعوے کے سیاسی پہلو سے قطع نظر، شجاعیہ کے قریب خیموں کے جلنے کے بعد ۲۰۰؍ سے زائد خاندانوں کو دوبارہ پناہ کی ضرورت ہے، جبکہ غزہ میں رہائش، خوراک اور طبی سہولتوں کی کمی پہلے ہی بڑے پیمانے پر موجود ہے۔