شیف ہرپال سنگھ سوکھی (۶۰؍سال) نے حال ہی میں فرح خان کے اپنے گھر آنے کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ فرح خان نے ان سے کہا تھا کہ میں صرف آپ کے گھر میں ہی شوٹ کرنا چاہتی ہوں، جیسا کہ یہ ہے ویسا ہی۔‘‘
EPAPER
Updated: February 02, 2026, 6:03 PM IST | Mumbai
شیف ہرپال سنگھ سوکھی (۶۰؍سال) نے حال ہی میں فرح خان کے اپنے گھر آنے کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ فرح خان نے ان سے کہا تھا کہ میں صرف آپ کے گھر میں ہی شوٹ کرنا چاہتی ہوں، جیسا کہ یہ ہے ویسا ہی۔‘‘
شیف ہرپال سنگھ سوکھی (۶۰؍سال) نے حال ہی میں فرح خان کے اپنے گھر آنے کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ فرح خان نے ان سے کہا تھا کہ میں صرف آپ کے گھر میں ہی شوٹ کرنا چاہتی ہوں، جیسا کہ یہ ہے ویسا ہی۔‘‘
فلمساز کی عاجزی سے متاثر ہو کر سوکھی نے مزید کہاکہ ’’ ہم نے کھانا بنایا، ہاں لیکن میری بیوی اپرنا نے ان کے لیے بہت سی چیزیں بنائیں۔ وہ ساری چیزیں انہوں نے ہاتھ سے کھائیں، چمچ سے نہیں اور انہوں نے انکار بھی نہیں کیا۔ میری بیوی نے انہیں دو یا تین بار اور دیا انہوں نے انکار نہیں کیا۔ وہ کھاتی رہیں اور دل بھر کر کھایا۔ ‘‘
سوکھی نے مزید کہاکہ ’’انہوں نے جو چیزیں پسند آئیں وہ پیک بھی کروائیں، یہ کہتے ہوئے کہ ان کے بچے بھی اسے شوق سے کھائیں گے۔ ہم نے ان کے لیے گرین ٹماٹو بٹر چکن بنایا تھا، جو وہ اپنے بچوں کے لیے لے گئیں۔ پھر انہوں نے رات۱۰؍ بجے مجھے میسج کیا کہ ان کے بچوں کو بٹر چکن بہت پسند آیا اور کہاکہ ’’یہ پہلی بار ہے کہ میں نے انہیں مزید مانگتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:جنوری میں مینوفیکچرنگ شعبے کی رفتار میں اضافہ
سوکھی نے یہ بھی بتایا کہ فرح خان نے ان سے کہا کہ جب بھی وہ کوئی خاص چیز بنائیں تو انہیں بھی ضرور بھیجیں۔ اس دل کو چھو لینے والے واقعہ پر بات کرتے ہوئے، سائیکو تھراپسٹ اور لائف کوچ دلنّا راجیش نے کہا کہ ایک ایسی دنیا میں جو تیزی سے چلتی ہے اور بغیر رکے محنت کو استعمال کرتی ہے، وہاں قدردانی ایک خاموش شفا بن جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’ایک بھرپور زندگی صرف خواہش، کامیابی یا حصول پر نہیں بنتی۔ یہ عام لمحوں میں خود کو قابلِ قدر محسوس کرنے سے بنتی ہے۔ قدردانی لوگوں کو یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ نظر انداز نہیں ہوئے، ان کی محنت کی قدر ہوئی، اور ان کی موجودگی اہم تھی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ایمباپے کا آخری لمحات میں جادو: ریئل میڈرڈ کی سنسنی خیز فتح
دلنّا کے مطابق جب کسی کی کوشش کو سراہا جاتا ہے اور موجودگی کو تسلیم کیا جاتا ہے تو اعصابی نظام پرسکون ہو جاتا ہے۔ جسم خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلوص بھری قدردانی کا ایک لمحہ ہفتوں کی جذباتی تھکن کو ختم کر سکتا ہے۔‘‘دلنّا نے یہ بھی کہا کہ قدردانی اور شائستگی میں گہرا فرق ہوتا ہے۔شائستگی سماجی نظم کو برقرار رکھتی ہے، جبکہ قدردانی جذباتی قربت پیدا کرتی ہے۔ جب کوئی شخص پوری توجہ کے ساتھ، بغیر کسی دکھاوے یا مجبوری کے، کسی کی محنت کو قبول کرتا ہے تو یہ احترام کا پیغام دیتا ہے۔ فطری ردِعمل، مزید مانگنا، بے تکلفی سے لطف اٹھانا، یا بعد میں چھوٹی تفصیلات کو یاد رکھنا یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ پیش کی گئی چیز دل سے قبول کی گئی، نہ کہ فرض کے طور پر۔‘‘