۲۵؍ جنوری ۲۰۲۶ء کی شب ساڑھے نوبجے پونے کے جہانگیر نرسنگ ہوم میں مشہور شاعر وادیب ادھومہاجن بسمل کا انتقال ہوگیا۔ بسمل صاحب ۱۷؍ فروری ۱۹۵۰ء بروز جمعہ مقام پاتونڈہ تعلقہ چالیس گاؤں ، ضلع جلگاؤں میں پیدا ہوئے۔
ادھو مہاجن بسمل :غزل کہوں تو میں اپنی غزل کے ساتھ رہوں۔ تصویر: آئی این این
۲۵؍ جنوری ۲۰۲۶ء کی شب ساڑھے نوبجے پونے کے جہانگیر نرسنگ ہوم میں مشہور شاعر وادیب ادھومہاجن بسمل کا انتقال ہوگیا۔ بسمل صاحب ۱۷؍ فروری ۱۹۵۰ء بروز جمعہ مقام پاتونڈہ تعلقہ چالیس گاؤں ، ضلع جلگاؤں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ پونہ آکر بس گئے تھے۔ یہاں انہوںنے اپنی تعلیم مکمل کی اوردرس وتدریس کے پیشے سے وابستہ ہوگئے۔ ایتھل گارڈن کالج برائے طالبات میں انہوںنے سبکدوش ہونے تک اپنا فریضہ انتہائی ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا ۔ وہ انگریزی اور ہندی کے استاد تھے۔ کالج کی ملازمت کے دوران ہی انہیں شعر وادب سے دلچسپی پیدا ہوگئی تھی۔ جب انہیں اردو کا شوق چرّایا تو تلاش کرتے کرتے وہ سہ ماہی ادبی رسالہ اسباق کے دفتر پہنچے اوراپنی اردو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ یہ تقریباً دودہائیو ںقبل کا واقعہ ہے۔ جب انہیں میری طرف سے مثبت جواب ملا تو پابندی کے ساتھ آنے لگے ۔ ایک بچے کی طرح ادب سے بیٹھ کراردو کا سبق شروع کردیا۔ ساتھ ہی غزلوں کی تخلیق کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ ان کا ذوق وشوق، لگن اور دلچسپی دیکھ کر خوشی ہوتی تھی۔ کچھ برسوں کے بعد اردو املا کی مشق بھی شروع کردی۔ بسمل صاحب کثرت سے شعر کہنے لگے تھے۔ حمد، نعت ، غزل ، دوہے ، گیت اور ماہیا کے دوش بدوش ’’کہہ مکرنی‘‘ کہنے اور لکھنے لگے۔ ساتھ ہی ادبی اور تبصراتی مضامین بھی لکھنے لگے ۔ یہ ایک طویل کہانی ہے۔
مختصراً یہ کہ دھیرے دھیرے وہ کتابوں کی اشاعت کے منصوبے بھی بنانے لگے تھے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں اردو ،ہندی اور مراٹھی میں ان کی ایک درجن سے زائد کتابیں شائع ہوکر منظر عام پر آگئیں۔ قرب وجوار کے احباب یہ کتابیں دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے۔ وہ متعجب تھے کہ ایک مراٹھی مانس خالص اردو میں خامہ فرسائی کیسے کرلیتا ہےلیکن پونے اور خاندیش کے اہل ذوق نے بہت جلد ان کی ادبی اور شعری حیثیت کو تسلیم کرلیا اور انہیں احترام سے ادبی مجلسوں کی زینت بنایا جانے لگا۔
بسمل صاحب کی شخصیت بھی دلکش، کشادہ اور متانت سے لبریز تھی۔ انہوںنے جہاں تک ممکن ہوسکا اردو، ہندی اور مراٹھی کے شعراء کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی۔ اس کے لئے انہوںنے احباب کے ساتھ مل کر ’’ ہندی ، اردو ، مراٹھی ساہتیہ اکادمی کی بنیاد رکھی اور اپنی جیب خاص سے خرچ کرکے مشاعرے ، ادبی جلسے اور کتابوں کے لئے اجرائی تقاریب برپا کرتے رہے۔جب ان کے دل میں نعتؐ کہنے کا جذبہ پیدا ہوا تو سب سے پہلے انہوں نے سیرتِ رسول کی تفہیم کے لئے کتابوں کا مطالعہ شروع کیا اور پھر ’’ محمدؐ سب کے لئے ‘‘ عنوان سے نعتیہ مجموعہ شائع کیا۔ ادبی حلقوں میں اس مجموعے کی بے حد پزیرائی ہوئی۔ ادھو مہاجن بسمل کے دل میں ’’آدمی‘‘ کے لئے بڑا پیار تھا۔ بلاتفریق مذہب وملت وہ سب کا احترام کرتے تھے۔
تخلیقی ادب میں غزل انہیں محبوب تھی۔ جب آتے دوچار غزلیں کہہ کر لاتے ۔ انتقال سے دوماہ قبل غزلوں کا نیا مجموعہ ’’ کمپوزر کے حوالے کرچکے تھے۔ اسی کے ساتھ پابند نظموں کا مسودہ تیارکرکے نظرثانی کے لئے میرے سپرد کرچکے تھے۔ بہت ضد کرکے ایک کتاب ’’ ادھومہاجن کے نام پچاس خطوط‘‘ مجھ سے لکھوائی تھی ان کی خواہش کو ملحوظ ِ خاطررکھتے ہوئے میں نے اپنے تمام ادبی کاموں کو مؤخر کرکے پچاس خطوط مکمل کئے اور کتاب مکمل کرکے شائع کی ۔ادھو مہاجن بسمل کے انتقال کی خبر سن کر وہاٹس ایپ گروپ کے لئے میں نے جو کچھ لکھا تھا وہ مندرجہ ذیل ہے۔’’ انتہائی دکھ کے ساتھ یہ خبر دے رہا ہو ںکہ اردو ، ہندی اور مراٹھی کے مشہور شاعر و ادیب ادھومہاجن بسمل ۲۵؍ جنوری کی رات نوبجے دنیاسے رخصت ہوگئے۔ وہ ایک عرصہ سے جہانگیر نرسنگ ہوم میں زیر علاج تھے۔ حال ہی میں ان کے نام ’’ پچاس خطوط‘‘ کی میری کتاب شائع ہوئی ہے ۔ وہ کتاب کے اجراء کا منصوبہ بنارہے تھے لیکن ’’ خواب تھا جو کچھ بھی دیکھا جو سنا افسانہ تھا۔ ‘‘ہمارا ۲؍ دہائی سے زائد کا ساتھ تھا۔ ان کے چلے جانے سے میں خود کو تنہا محسوس کررہا ہوں۔