انتظامیہ ہکا بکا، کانگریسی اراکین پارلیمان کو زبردستی ہٹایا گیا، راہل، پرینکا، وینو گوپال، پون کھیڑا اَور دیگر کو چھترسال اسٹیڈیم لے جایا گیا، راہل کی ناک سے خون نکل آیا، اُدھر جنتر منتر پر ہجوم جوں کا توں۔
EPAPER
Updated: July 22, 2026, 9:16 AM IST | New Delhi
انتظامیہ ہکا بکا، کانگریسی اراکین پارلیمان کو زبردستی ہٹایا گیا، راہل، پرینکا، وینو گوپال، پون کھیڑا اَور دیگر کو چھترسال اسٹیڈیم لے جایا گیا، راہل کی ناک سے خون نکل آیا، اُدھر جنتر منتر پر ہجوم جوں کا توں۔
کاکروچ جنتاپارٹی کے بینر تلے طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج کو طاقت کا استعمال کر کے دبانے کا داؤ مودی سرکار پر الٹا پڑ گیا ہے۔ اس احتجاج نے ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کرلی ہے۔ منگل کو ملک بھر اس کے خلاف مظاہرے کئے گئے۔اس کے ساتھ ہی احتجاج کو اپوزیشن کی بھی بھر پور حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ منگل کو کانگریس نے اچانک راہل گاندھی کی قیادت میں وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیکر حکومت ا ور انتظامیہ کو چونکا دیا۔ یعنی طلبہ اور نوجوانوں کی یہ لڑائی جنتر منتر سے پارلیمنٹ ہوتے ہوئے وزیراعظم کی رہائش گاہ تک پہنچ گئی ۔
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ ۷؍ لوک کلیان مارگ کے باہر دھرنے کے وقت اعلان کیا کہ طلبہ کو انصاف دلائے بغیر نہیں اٹھیں گے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پیر کے لاٹھی چارج کیلئے وزیراعظم معافی مانگیں اور دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لیں۔ اس احتجاج سے حکومت اور انتظامیہ کے ہاتھ پیر پھول گئے ۔ پہلے کانگریس کے اراکین پارلیمان کو حراست میں لیا گیا پھر راہل گاندھی ، پرینکا گاندھی، اکھلیش یادو اور دیگر سینئر لیڈران کو بھی زوروزبردستی کر کے تحویل میں لے لیاگیا۔اس دوران راہل گاندھی نے غیر معمولی مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔ پولیس اہلکاروں کو انہیں گھسیٹ کر و ین میں سوار کرنے میں دانتوں تلے پسینہ آگیا۔اس دوران ان کے ساتھ زبردستی بھی کی گئی اور ان کی ناک سے خون نکل آیا۔ قبل ازیں مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے راہل گاندھی اور کانگریس کے دیگر لیڈروں سے ملاقات کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ انہیں احتجاج ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بہرحال حراست میں لئے جانے کے بعد راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، اکھلیش یاد واور دیگر لیڈروں کو چھترسال اسٹیڈیم منتقل کردیاگیا اور کچھ دیر بعد انہیں جانے کی اجازت دیدی گئی۔