الکا لامبا نے بی جےپی اور آر ایس ایس کو خواتین مخالف قرار دیا، اعلان کیا کہ پارٹی اور راہل گاندھی تمام بیٹیوں کی انصاف کی جدوجہد میں ساتھ ہیں۔
EPAPER
Updated: September 05, 2026, 8:32 AM IST | Agency | New Delhi
الکا لامبا نے بی جےپی اور آر ایس ایس کو خواتین مخالف قرار دیا، اعلان کیا کہ پارٹی اور راہل گاندھی تمام بیٹیوں کی انصاف کی جدوجہد میں ساتھ ہیں۔
کانگریس نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ ان تمام نوجوان خواتین اور بچیوں کے ساتھ کھڑی ہے جو انصاف کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔ آل انڈیا مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا نے خاص طور پر جنتر منتر احتجاج سے وابستہ طالبہ کارکن نیشو آزاد، ۲؍مسلم صحافیوں شاہین خان اور نفیسہ خان نیز دہلی یونیورسٹی کی طالبہ آکرتی چودھری اور جنتر منتر احتجاج میں شامل رہنے والی روچیکا سنگھ کے معاملات اٹھائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کانگریس اور راہل گاندھی ان تمام بیٹیوں کی انصاف کی جدوجہد میں ہر ممکن تعاون کریں گے۔
لامبا نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ بی جےپی اور اور آر ایس ایس خواتین، دلتوں اور خصوصاً ان خواتین کے خلاف ہیں جو حکومت یا اس کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکمراں طلبہ براہ راست سامنے آنے کے بجائے اپنے ’’کارندوں اور غنڈوں‘‘ کے ذریعے ایسے لوگوں کو نشانہ بنوا رہے ہیں جو سوال کرتےہیں۔ لامبا نے مسلم خاتون صحافیوں شاہین خان اور نفیسہ خان کا معاملہ بھی اٹھایا۔ دونوں ۳؍ستمبر کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے متعلق ایک پروگرام کی کوریج کیلئے ساکیت کے ایک نجی اسپتال پہنچی تھیں۔ الزام ہے کہ انہیں پولیس نے حراست میں لیا اور مسلم نام دیکھ کر ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ دونوں صحافیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے جسم پر چوٹوں کے نشانات موجود ہیں۔
لامبا نے مطالبہ کیا کہ اسپتال میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ عوام کے سامنے لائی جائے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ صحافیوں کو کس طرح اور کس کے ذریعے مبینہ طور پر زخمی کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مارپیٹ کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور انہیں فوری طور پر معطل کیا جائے۔