Updated: September 05, 2026, 10:08 PM IST
| Gandhinagar
گجرات میں قائم ۶ رجسٹرڈ لیکن غیر تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں نے مالی سال ۲۴-۲۰۲۳ء کے دوران بی جے پی کے علاوہ تمام قومی قومی سطح کی سیاسی پارٹیوں سے زیادہ عطیات حاصل کئے۔ ان پارٹیوں نے اس سال مجموعی طور پر ۱۷۰۰ کروڑ روپے کے عطیات حاصل کئے۔ اس کے مقابلے، اس وقت کی ۵ قومی پارٹیوں کانگریس، عام آدمی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، سی پی آئی (ایم) اور نیشنل پیپلز پارٹی کو مجموعی طور پر ۱۴۸۰ کروڑ روپے کے عطیات ملے۔
الیکشن کمیشن اور ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کے اعداد و شمار پر مبنی بی بی سی نیوز ہندی کی ایک رپورٹ کے مطابق، گجرات میں قائم ۶ رجسٹرڈ لیکن غیر تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں نے مالی سال ۲۴-۲۰۲۳ء کے دوران بی جے پی کے علاوہ تمام قومی قومی سطح کی سیاسی پارٹیوں سے زیادہ عطیات حاصل کئے۔
ان ۶ پارٹیوں میں عام جن مت پارٹی، بھارتیہ نیشنل جنتا دل، غریب کلیان پارٹی، نیو انڈیا یونائٹیڈ پارٹی، ستیہ وادی رکشک پارٹی اور سوتنترتا ابھی ویکتی پارٹی شامل ہیں۔ انہوں نے اس سال مجموعی طور پر ۱۷۰۰ کروڑ روپے کے عطیات حاصل کئے۔ اس کے مقابلے، اس وقت کی ۵ قومی پارٹیوں کانگریس، عام آدمی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، سی پی آئی (ایم) اور نیشنل پیپلز پارٹی کو مجموعی طور پر ۱۴۸۰ کروڑ روپے کے عطیات ملے۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق، اکیلی عام جن مت پارٹی نے ۶۲۰ کروڑ روپے حاصل کئے، جو کانگریس کے ۲8۱ کروڑ روپے کے مقابلے دگنا سے بھی زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر قانونی عمل تو ہے لیکن غیر منصفانہ: سابق الیکشن کمشنر لواسا
واضح رہے کہ یہ مالی سال، اپریل تا مئی ۲۰۲۴ء میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے قبل کے دورانیے پر محیط تھا۔ اتنے بڑے پیمانے پر عطیات ملنے کے باوجود، گجرات کی ان ۶ پارٹیوں نے مجموعی طور پر صرف ۱۵ امیدوار میدان میں اتارے، جبکہ پانچ قومی پارٹیوں نے ۸۹۳ اُمیدواروں کو ٹکٹ دیئے۔ ان ۶ میں سے ۴ جماعتیں احمد آباد کے ایک ہی علاقے نرودا میں قائم ہیں۔
بی بی سی کی حالیہ رپورٹ کے یہ نتائج اگست ۲۰۲۵ء میں شائع ہونے والی روزنامہ دینک بھاسکر کی ایک رپورٹ سے ہم آہنگ ہیں۔ دینک بھاسکر نے رپورٹ کیا تھا کہ گجرات کی ۱۰ ”گمنام پارٹیوں “ نے ۲۰-۲۰۱۹ء سے ۲۴-۲۰۲۳ء کے دوران مجموعی طور پر ۴۳۰۰ کروڑ روپے کے عطیات حاصل کئے۔ واضح رہے کہ اس عرصے میں ۲۰۱۹ء اور ۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخابات اور ۲۰۲۲ء کے گجرات اسمبلی انتخابات شامل تھے۔ اس قدر زبردست فنڈنگ کے باوجود ان پارٹیوں نے کل ملا کر صرف ۴۳ امیدوار کھڑے کئے۔ ان امیدواروں نے مجموعی طور پر صرف ۵۴۰۶۹ ووٹ حاصل کئے۔
یہ بھی پڑھئے: سونیا گاندھی کی کتاب ’Belonging‘ اب ہارپرکولنز شائع کرے گا، ۱۰؍ نومبر کو ریلیز
جمعہ کے روز جاری ہونے والی بی بی سی کی رپورٹ میں نامزد ۶ میں سے ۵ پارٹیاں ان ۱۰ پارٹیوں میں شامل تھیں جن کی نشان دہی دینک بھاسکر نے اپنی رپورٹ میں کی تھی۔ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد، کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن سے اس بات کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا تھا کہ ان پارٹیوں نے اتنی بڑی رقم کیسے جمع کی اور یہ پیسہ کہاں گیا ہے۔