• Mon, 07 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’مودی سرکار ذات پر مبنی مردم شماری کروانا ہی نہیں چاہتی‘‘

Updated: September 06, 2026, 9:52 AM IST | Ghaziabad

کانگریس لیڈر سچن پائلٹ کا الزام، پارٹی نے نئی دہلی، احمد آباد، اندور، بنگلور، حیدر آباد، لکھنؤ اور غازی آباد میں پریس کانفرنسیں کیں اور حقائق پیش کئے۔

Congress leader Sachin Pilot addressing a press conference in Ghaziabad. Photo: INN
کانگریس لیڈرسچن پائلٹ غازی آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

’’مودی حکومت ذات پر مبنی مردم شماری کروانا ہی نہیں چاہتی تھی۔ ہم انصاف اور یکساں حقوق کی بات کرتے ہیں، لیکن ہمارے پاس ایسا کوئی ڈیٹا نہیں ہے جس سے ملک میں لوگوں کی شراکت داری معلوم کی جا سکے۔ اسی لئے کانگریس صدر کھرگے اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی لگاتار مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت ذات پر مبنی مردم شماری پرآل پارٹی میٹنگ طلب کرے، اسٹیک ہولڈرس سے بات کرے اور تلنگانہ ماڈل کو اختیار کرے۔ ‘‘ یہ بیان کانگریس کے سینئر لیڈر سچن پائلٹ نے غازی آباد کی پریس کانفرنس میں دیا۔ 
بہار اور تلنگانہ ماڈل
سچن پائلٹ نے یہاں ذات پر مبنی مردم شماری کی بابت مودی سرکار کوگھیرنے کیلئے پریس کانفرنس کی۔ یہ اجلاس پارٹی کے دیگر لیڈروں کی جانب سے مختلف شہروں میں کی جارہی پریس کانفرنسوں کا ہی حصہ تھا۔ سچن پائلٹ نے کہا کہ ہم نے مودی حکومت کے سامنے بہار اور تلنگانہ دونوں ماڈل پیش کئے اور ان سے اپیلیں بھی کیں کہ اس معاملے میں سیاست نہ کرتے ہوئےوہ نہایت سنجیدگی سے ان ماڈل کو اپنائے اور گنتی کروائے لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں ہے۔ اس طریقے کو اپنالینے سے ملک کو مختلف ذاتوں کے بارے میں بالکل درست اور مکمل معلومات حاصل ہو گی۔ 
اندور میں راگنی نائک کی پریس کانفرنس 
پارٹی لیڈر راگنی نائک نے مدھیہ پردیش کے تجارتی شہر اندور میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ کانگریس کے دباؤ کے سبب مودی حکومت ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کو راضی تو ہوئی ہے لیکن اس کا طریقہ کچھ ایسا ہے جو اصل مقاصد کو حاصل نہیں کر پائے گا۔ اسی لئے ہم نے بہار اور تلنگانہ ماڈل پیش کیا لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بازار میں اضافی لیکویڈیٹی کے باعث اپریل ۲۰۲۷ء تک ریپو ریٹ ۶ فیصد تک پہنچنے کا امکان

سبھاشنی یادو کی پریس کانفرنس 
دہلی میں کانگریس کی نوجوان ترجمان سبھاشنی یادو نے پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری ملک کے لئے بہت ضروری ہے۔ اس سے ملک میں لوگوں کی اصل شراکت داری یقینی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ذاتوں کی گنتی کا جو خاکہ پیش کیا گیا ہے، اس سے صاف ہے کہ مودی حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔  سبھاشنی یادو نے کہا کہ راہل گاندھی نے ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے دوران ذات پر مبنی مردم شماری کا معاملہ اٹھایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ذات پر مبنی مردم شماری ہوگی تو ہمیں پتہ چل پائے گا کہ ملک میں لوگوں کی کتنی شراکت داری ہے۔ لیکن تب پی ایم مودی نے ذات پر مبنی مردم شماری کی بات کرنے والوں کو ’اَربن نکسل‘ کہا تھا۔ حالانکہ ہمارے دباؤ کے سبب انھیں ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا اعلان کرنا پڑا۔ ذات پر مبنی مردم شماری کا اعلان تو مودی حکومت نے کر دیا لیکن جس طرح یہ کرایا جا رہا ہے، اس میں ذات کے بارے میں سیلف-ڈکلیریشن کا متبادل دیا گیا ہے، جو کہ ایک طرح سے چالاکی ہے۔ سبھاشنی یادو نے واضح لفظوں میں کہا کہ ہم سبھی نے حکومت سے کہا ہے کہ بہار اور تلنگانہ کا ماڈل اختیار کیا جائے لیکن انھوں نے ہمارے مطالبات کو نظر انداز کردیا ہے۔ اسی سلسلے میں ایک دیگر پریس کانفرنس اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں بھی منعقد ہوئی، جس سے ڈاکٹر جئے ہند نے خطاب کیا۔ کانگریس او بی سی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر جئے ہند نے کہا کہ ہمارے ملک میں صدیوں سے ۹۰؍ فیصد لوگوں کا استحصال ہوا ہے۔ چاہے کوئی کتنا بھی قابل ہو، اسے پیدائش کی بنیاد پر کام کرنا پڑتا تھا۔ ایسے لوگوں کو تعلیم سے دور رکھا گیا، جائیداد رکھنے کا حق نہیں دیا گیا۔ موجودہ حالات پر فکر ظاہر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ آج بھی بڑی بڑی کمپنیوں کے بڑے عہدوں پر ایس سی-ایس ٹی، او بی سی کے لوگ نہیں ملتے، میڈیا میں بھی ان کا نام نظر نہیں آتا۔ اس لیے ذات پر مبنی مردم شماری سے ہمیں ملک کا سماجی و معاشی ڈھانچہ سمجھ میں آئے گا، جس کے بعد مسئلہ کا حل تلاش کیا جا سکے گا۔ دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے راجستھان کے جئے پور میں میڈیا سے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج ملک میں حالات ایسے بن گئے ہیں کہ امیر مزید امیر ہوتا جا رہا ہے، جبکہ غریب مزید غریب ہوتا جا رہا ہے۔ اس بڑھتی عدم مساوات کا سب سے زیادہ اثر غریب و محروم طبقات پر پڑ رہا ہے۔ ضرورت مند لوگوں کو سرکاری منصوبوں کا فائدہ ہی نہیں مل پا رہا ہے۔ ‘‘ انھوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’کانگریس پارٹی طویل مدت سے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا مطالبہ کر رہی تھی، لیکن حکومت اسے نظر انداز کرتی رہی۔ ہمارے لیڈر راہل گاندھی نے اس معاملے کو سڑک سے لے کر ایوان تک مضبوطی کے ساتھ اٹھایا۔ اس دباؤ کے بعد مودی حکومت آخر میں ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کو مجبور ہوئی۔ ‘‘ دیویندر یادو نے بھی اس بات پر زور دیا کہ جب مردم شماری ہو رہی ہے، تو اس کو درست طریقے سے کیا جائے تاکہ محروم طبقات کو فائدہ پہنچ سکے۔ بہار کی راجدھانی پٹنہ میں بھی ایک پریس کانفرنس ہوئی، جس سے کانگریس کے سینئر لیڈر مانک راؤ نے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس صدر کھرگے اورراہل گاندھی مستقل طور پر ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ اٹھا رہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ مودی حکومت درست طریقے سے ذات پر مبنی مردم شماری کروانا ہی نہیں چاہتی۔ وہ صرف وقت ضائع کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے فارم میں او بی سی کا کالم ہی ہٹا دیا گیا ہے۔ 
کانگریس کا اعتراض کیا ہے ؟
کانگریس نے ذات پر مبنی مردم شماری کے موجودہ سوالنامے کے طریقۂ کار پر شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے بنیادی طور پر ناقص قرار دیا ہے۔ 
پارٹی کا کہنا ہے کہ عام اور پسماندہ طبقات کی ذاتوں سے متعلق سوال کو ’’اوپن‘‘ چھوڑ دینا اعداد و شمار کی درستگی کیلئے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ اسے اوپن نہیں رکھنا چاہئے۔ 
کانگریس نے مطالبہ کیا کہ اس کے بجائے ریاست وار تصدیق شدہ ذاتوں کی فہرست یا ڈراپ ڈاؤن فہرست فراہم کی جائے، جیسا کہ بہار اور تلنگانہ میں اختیار کیا گیا۔ 
پارٹی کے مطابق مختلف ہجوں، مترادف ناموں اور علاقائی بولیوں کے باعث ایک ہی ذات کے کئی الگ الگ اندراج ہوسکتے ہیں، جس سے آبادی کے حقیقی اعداد و شمار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ 
او بی سی کی ذیلی ذاتوں کی شناخت کیلئے بھی مطلوبہ خانے نہیں ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK