• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہرادون: بجرنگ دل نے مسجد کی مرمت کا کام رکوایا، غیر قانونی تعمیر کا الزام

Updated: November 01, 2026, 12:59 PM IST | Dehradun

اتراکھنڈ کے دہرادون میں ایک مسجد میں مرمت کے کام کے دوران بجرنگ دل کے اراکین نے کام رکوایااور مسجد کے غیر قانونی ہونے کا الزام عائد کیا۔ خبروں کے مطابق، اس دوران مقامی حکام بھی وہاں موجود تھے لیکن انہوں نے اس معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ حالانکہ مسجد کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ تمام الزامات جھوٹے ہیں ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

شملہ بائی پاس پر دہرادون کے سیولا کلاں علاقے میں بجرنگ دل کے اراکین نے اس ہفتے ایک مسجد میں مرمت کا کام یہ الزام لگا کر رکوا دیا کہ عمارت غیر قانونی ہے اور اس نے سڑک پر تجاوزات کر رکھی ہیں اور انہوں نے اسے سیل کرنے کی دھمکی بھی دی۔ مقامی خبروں کے مطابق، جب بجرنگ دل کے اراکین کام رکوا رہے تھے تو مسوری دہرادون ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ایم ڈی اے) پولیس اور میونسپل کارپوریشن کے حکام بھی موقع پر پہنچ گئے لیکن انہوں نے اس معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ جب مسجد کی تیسری منزل پر گراؤنڈنگ کا کام جاری تھا تو وکاس ورما کی قیادت میں ایک گروہ وہاں پہنچ گیا اور مزدوروں کو زبردستی کام بند کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ورما اور اس کے ساتھیوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ڈھانچہ سڑک پر تجاوزات کرتا ہے اور اسے استعمال کرنے والے لوگوں کیلئے رکاوٹ بنتا ہے اور یہ کہ یہ ایک ہندو اکثریتی علاقے میں واقع ہے۔ اس نے پوری جائیداد کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور اگر اس کا کوئی بھی حصہ غیر قانونی پایا گیا تو مسجد کو فوری طور پر منہدم کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: تاریخی عوامی مواخذہ میں گیانیش کمار کی ’برطرفی‘ کی قرارداد منظور

تاہم، مسجد کمیٹی کے نمائندوں نے ان دعوہوں کو مسترد کر دیا ہے۔ `مسلم سیوا سنگٹھن کے صدر نعیم قریشی اور نائب صدر عاقب قریشی نے کہا کہ یہ کام تیسری منزل کی چھت سے بارش کے پانی کے رساو (لیکج) کو روکنے کیلئے معمول کی دیکھ بھال (مرمت) تھااور کوئی نئی تعمیر نہیں کی جا رہی تھی۔ اتراکھنڈمیں پچھلے کچھ مہینوں کے دوران مذہبی اداروں پر کنٹرول مزید سخت کرنے کے اقدامات بھی کئے گئے ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کو جھوٹا قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’مسجد مکمل طور پر قانونی ہے اور قوانین کے مطابق تعمیر کی گئی ہے۔ ‘ ‘یہ واقعہ حالیہ مہینوں میں دہرادون اور اس کے آس پاس کی مساجد کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے سلسلے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ۲؍ جون کو، کالی سینا کے بھوپیش جوشی کی قیادت میں ایک ہندوتوا گروہ کی جانب سے قریب واقع ایک مندر کے سامنے مسجد نہ ہونے کے مطالبے کے بعد، ایم ڈی ڈی اے نے تھانو گاؤں میں واقع ایک مسجد کو سیل کر دیا تھا۔ مسجد کے امام یاسر عرفات نے بتایا کہ پوری مسجد کو صرف اس لئے سیل کر دیا گیا کیونکہ ایک کمرہ، جسے ریاست کے اقلیتی فلاحی محکمے نے بنوایا تھا، کے پاس منظوری شدہ نقشہ نہیں تھا، جبکہ مسجد کے پاس رجسٹرڈ زمین اور مکمل دستاویزات موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہراسانی کی تمام حدیں پار؟ جیل سے رِہا ہوتے ہی اعظم خان کو ای ڈی نے گرفتار کرلیا!

مقامی مسلمانوں نے بتایا کہ یہ مسجد ۱۹۷۸ء سے قائم اور فعال تھی۔ انڈیا ٹوموروکے مطابق یہ اس علاقے میں بند کی جانے والی پانچویں مسجد تھی۔ مسجد کو سیل کئے جانے کے بعد، کالی سینا کے اراکین نے عمارت کے باہر ہوائی ہَون (ہندو مذہبی رسومات) بھی انجام دیا۔ ریاست نے اپنے مدرسہ قانون کو منسوخ کر دیا ہے، اقلیتوں کے زیرِ انتظام چلنے والے تمام اسکولوں کی نگرانی کیلئے ایک واحد اتھارٹی قائم کی ہے اور اب ان کیلئے ایک مذہبی تعلیمی نصاب تیار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات، ہندوتوا گروہوں کی مہمات کے ساتھ مل کر، ریاست میں مسلم اداروں پر دباؤ بڑھا رہے ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ضابطہ کاری اور یکساں معیارات کو یقینی بنانا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK