یوکرین پر پوتن کی جنگ کو بحیرہ اسود میں ایک لاکھ ۲۰؍ ہزارڈولفن کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا گیا، ماہرین نے کہا کہ ولادیمیر پوتن کے۲۰۲۲ء میں یوکرین پر حملہ شروع کرنے کے بعد سے یہ ڈولفن ہلاک ہو ئی ہیں۔
EPAPER
Updated: November 01, 2026, 9:04 PM IST | Mascow
یوکرین پر پوتن کی جنگ کو بحیرہ اسود میں ایک لاکھ ۲۰؍ ہزارڈولفن کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا گیا، ماہرین نے کہا کہ ولادیمیر پوتن کے۲۰۲۲ء میں یوکرین پر حملہ شروع کرنے کے بعد سے یہ ڈولفن ہلاک ہو ئی ہیں۔
جنوبی یوکرین میں ٹوزلی لیگونز نیشنل پارک کے ہیڈ ریسرچر ایوان روسیف نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے یوکرین پر پوتن کی جنگ کو بحیرہ اسود میں ایک لاکھ ۲۰؍ ہزارڈولفن کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا گیا، ماہرین نے کہا کہ ولادیمیر پوتن کے۲۰۲۲ء میں یوکرین پر حملہ شروع کرنے کے بعد سے یہ ڈولفن ہلاک ہو ئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یوکرین جنگ کے دوران استعمال ہونے والے دھماکے، میزائل لانچ، اور فوجی سونار سسٹم بحیرہ اسود میں ڈولفنز کو الجھا رہے ہیں اور انہیں شکار کرنے سے قاصر بنا رہے ہیں۔ٹرالر ان حیوانوںکو دم گھٹتے ہوئے اور اپنے جالوں میں الجھے ہوئے پاتے ہیں اور انہیں چھوڑنے کے لیے جال کاٹ دیتے ہیں، جس سے وہ اپنے پنکھ میں الجھےجال کےساتھ ساحل پر بہہ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سپر ایل نینو سے دنیا بھر میں مارچ تک ۳؍ لاکھ۷۳؍ ہزار اموات کا خدشہ
انہوں نے کہا کہ بہت سی فوجی ٹیکنالوجیز ان کے بنیادی بقا کے آلے، ایکولوکیشن کو بلاک کر دیتی ہیں، اور انہیں نیویگیٹ کرنے، بات چیت کرنے اور شکار کرنے سے قاصر کر دیتی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’اگر ڈولفن مچھلی نہیں پکڑ سکتی تو اس کا وزن تیزی سے کم ہو جاتا ہے،‘‘انہوں نے مزید کہا کہ یہ جاندار پھر خود کو توانائی فراہم کرنے کے لیے اپنی چربی پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ لیکن جنگ سے آلودہ سمندر میں، چربی پہلے ہی گندے پانی، زرعی بہاؤ، مائیکرو پلاسٹک اور اینٹی بائیوٹکس سے آلودگی جمع کر چکی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ان کا مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے اور وہ سانس کی نالی کے مہلک انفیکشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔مزید برآں بحیرہ اسود کے ماحولیاتی نظام کو جاری تنازع سے بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے، کیونکہ گرائے گئے ڈرونز اور ڈوبی ہوئی آبدوزوں سے زہریلے کیمیکل اور ایندھن پانی میں رس رہے ہیں۔ اس خطے میں ماہی گیری پر پابندیوں کے باوجود مچھلی کی کچھ اقسام جیسے مولیٹ اور بلیو فش نایاب ہو گئی ہیں۔
روسیف نے کہا، ’’ڈولفن فوڈ چین میں سب سے اوپر ہونے کے ساتھ، زوپلانکٹن سے لے کر مچھلی تک سب کچھ ان تک پہنچتا ہے۔‘‘ روسیف نے مزید کہا کہ اس کا اثر پرندوں پر بھی پڑ رہا ہے، جو سمندر سے مچھلی کھاتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ دھماکے مچھلیوں کو بہرا کر دیتے ہیں اور مار دیتے ہیں اور شمالی یورپ اور مشرق وسطی کے درمیان ہجرت کرنے والے پرندوں کو ڈرا دیتے ہیں۔ روسیف نے کہا، ’’ جب کوئی پرندہ کافی خوراک نہیں ڈھونڈ پاتا،اور اس کے پاس توانائی نہیں ہوتی، تو وہ اس منزل تک نہیں پہنچ سکتا جہاں وہ سردیاں گزارتا ہے یا گھونسلہ بناتا ہے۔یہ برسوں تک پرندوں کی بعض آبادیوں کی تعداد کو متاثر کرے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کینسر میں مبتلا ڈچ پروفیسر کا موت کے بعد لیکچر کیلئے اپنا اے آئی ورژن تخلیق
اس کے ساتھ ہی ان ہلاکتوں نے یوکرینیوں کو خوفزدہ کر دیا ہے، جو بحیرہ اسود کے ساحل پر کمزور اور زخمی ڈولفن کو بہتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ٹیٹیانا سمولچینکو نے الجزیرہ کو بتایا کہ وہ اگست میں جنوبی شہر اوڈیسا میں اپنے آٹھ سالہ بیٹے اولیہ کے ساتھ سیر کر رہی تھیں جب بچے نے ایک سڑتی ہوئی ڈولفن دیکھی۔۳۳؍ سالہ خاتون، جس کا شوہر فوج میں خدمات انجام دیتا ہے اور جس کی اپارٹمنٹ کی عمارت دو بار روسی ڈرون سے تباہ ہو چکی ہے، نے کہا، ’’مجھے تقریباً الٹی آ گئی۔‘‘انہوں نے کہا، ’’ہم اب انسانی اموات کے اتنے عادی ہو چکے ہیں، لیکن جنگ کی وجہ سے ان مخلوقات کو مرتے ہوئے دیکھنا کم خوفناک نہیں ہے۔ہم دونوں رو پڑے۔‘‘