فاروق شیخ نےڈراموں اور فیچر فلموں کےساتھ آرٹ یا متوازی سنیمامیں اپنی گہری چھاپ چھوڑی

Updated: March 25, 2021, 12:50 PM IST | Agency | Mumbai

بالی ووڈمیںفاروق شیخ کو ایک ایسےاداکار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے ڈراموں اور متوازی سنیما کے ساتھ ساتھ پیشہ وارانہ سنیمامیں بھی ناظرین کے درمیان اپنی خاص شناخت بنائی۔

Farooque Shaikh - Pic : INN
فاروق شیخ ۔ تصویر : آئی این این

 فاروق شیخ کی پیدائش ۲۵؍مارچ ۱۹۴۸ءکو گجرات کےشہر بدولی کے قریب ایک گاؤں نشوالی، امراہلی ضلع بڑودہ میں ہوئی تھی ان کے والد مصطفیٰ شیخ ممبئی کےمعروف وکیل تھے۔ فاررق شیخ ۵؍بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔فاروق شیخ نے ابتدائی تعلیم سینٹ میری اسکول ممبئی سےحاصل کی جبکہ وکالت کی تعلیم سدھارتھ کالج سےحاصل کی۔ وہ کچھ دن اپنے والدکے ساتھ وکالت کرتے رہے مگر وہ وکالت کے میدان میں کامیاب نہ ہوسکے۔
 فاروق شیخ نے قانون کےپیشے میں ناکام رہنے کےبعد تھیٹر کا رخ کیا اور پونےفلم انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لےلیا۔ کالج کے دنوں میں وہ اداکاری اور اسٹیج ڈراموں میں حصہ لیتے تھے اور یہیں پر ان کی ملاقات ان کی مستقبل کی شریک حیات روپا سےہوئی۔ ان کی دو بیٹیاں ثناء شیخ اور شائستہ شیخ ہیں۔وہ بہت شستہ اردو میں گفتگو کیاکرتے تھے اور ان کا طرز تحریر بھی بہت خوب صورت تھا۔ کئی فلمی مکالمہ نگار اپنی اسکرپٹ میں زبان و بیان کی اصلاح فاروق شیخ سے کرایا کرتے تھے۔ 
 کلاسیکی اردو شاعری میں ان کا ذوق بہت اعلی تھا۔ اکثر ولی دکنی، غالب، میر، مومن، فیض، مخدوم محی الدین اور مجاز کے شعر گنگناتے تھے۔
  فاروق شیخ کو۱۹۷۳ءمیں ہندوستان کی آزادی پر بننےوالی فلم ’گرم ہوا‘میں کام کرنے کا موقع ملا اور یہیں سے ان کے فلمی کریئرکا آغاز ہوا۔ اس فلم میں کام کرنےکا معاوضہ انہیں۷۵۰؍روپےملاتھا۔يوں تو پوری فلم اداکار بلراج ساہنی پر مبنی تھی لیکن اس فلم سے فاروق شیخ ناظرین کے درمیان کچھ حد تک شناخت بنانےمیں کامیاب رہے۔
 فلموں میں ان کی اصل پہچان متوازی سنیما یا تجرباتی سنیما سے تھی انہوں نے ستیہ جیت رے، مظفر علی، رشی کیش مکھرجی اور کیتن مہتا جیسے ہدایتکاروں کے ساتھ کام کیا تھا۔ انتہائی ذہین اور باصلاحیت فاروق شیخ کی اصل شخصیت فلم بازار میں ان کے ’بھولے بھالےکیریکٹر‘ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی۔فاروق شیخ نے آرٹ فلموں کی کم وبیش تمام معروف ہیروئنوں کےساتھ کام کیا۔ فاروق شیخ کے فلمی کریئر میں ان کی جوڑی اداکارہ دپتی نول کے ساتھ کافی پسند کی گئی ہے۔۱۹۸۱ءمیں آئی فلم چشم بددور میں سب سےپہلے یہ جوڑی سلور اسکرین پر ایک ساتھ نظر آئی۔اس کے بعد اس جوڑی نے ساتھ ساتھ کسی سے نہ کہنا، کہانی، ایک بار چلے آؤ،کتھا، رنگ برنگی ، فاصلے اورٹیل می او خدا میں بھی ناظرین کا دل جیت لیا۔ انہوں نے شبانہ اعظمی کے ساتھ بھی کئی فلمیں کیں جن میں ہدایت کار ساگر سرحدی کی ’لوری‘، کلپنا لاجمی کی ’ایک پل‘ اور مظفر علی کی’ انجمن‘ شامل ہیں۔ہندی فلمی دنیامیں فاروق شیخ ان چنندہ اداکاروں میں شامل ہیںجو فلم کی تعداد کے بجائے اس کے معیار پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ اسی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے ۴؍ دہائیوں پر مشتمل فلمی کريئرمیں تقریباً ۴۴؍فلموں میں ہی کام کیا۔
  ان کی مشہور فلموں میں امراؤجان، طوفان، نوری، شطرنج کے کھلاڑی، چشم بددور،ساتھ ساتھ،کلب سکسٹی، شنگھائی، لاہور، بیوی ہو تو ایسی، ساگر،میرے ساتھ چل، بازار، کسی سے نہ کہنا، رنگ برنگی، سلمی، فاصلے، کھیل محبت کا جیسی فلمیں شامل ہیں۔۱۹۸۷ءمیں آئی فلم بیوی ہو تو ایسی ہیرو کے طور پر فاروق شیخ کے فلمی کریئر کی آخری فلم تھی۔ اس فلم میں انہوںنے اداکارہ ریکھا کے ساتھ کام کیا۔۹۰؍ کی دہائی میں انہوں نے مناسب کردار نہ ملنے پر فلموں میں کام کرناکافی حد تک کم کر دیا۔۱۹۹۷ءمیںآئی فلم محبت كےبعدانہوں نے تقریبا ۱۰؍سال تک فلم انڈسٹری سے کنارہ کر لیا۔
 ۲۰۰۸ء میں تقریباً ۸؍سال کے وقفے کے بعد فاروق شیخ نے فلموں میں دوبارہ اداکاری شروع کی اور  ۲۰۱۳ءتک فلموں سے جڑے رہے۔انہوں نے ۲۰۱۳ء کیہٹ فلم ‘ یہ جوانی ہے دیوانی’ میں کام کیا ۔۲۰۱۰ء میں انھیں فلم ‘ لاہور‘ میں بہترین معاون اداکار کے لیے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔فاروق شیخ نےناظرین کی پسند کا خیال کرتے ہوئے چھوٹے پردے کا بھی رخ کیا اور ایک مشہور ٹی وی شو’جینا اسی کا نام ہے‘کی میزبانی بھی کی۔ اس کے علاوہ کئی سریلوں میں کام کیا جن میں چمتکار اور جی منتری جی جیسے مزاحیہ سیریل میں اپنی بہترین اداکاری سے ناظرین کی تفریح کی۔اپنی لاجواب، سنجیدہ، مزاحیہ اور دلفریب اداکاری سےناظرین کو رجھانے والے فاروق شیخ ۲۷؍ دسمبر ۲۰۱۷ءکو ۶۵؍برس کی عمر میں اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK