Updated: October 14, 2026, 3:03 PM IST
| Bhopal
مدھیہ پردیش کے ضلع راج گڑھ میں آٹھ ماہ تک اجنار ندی سے ٹنوں کچرا نکالنے والے ماحولیاتی کارکن بٹو تباہی کو اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب ندی میں دوبارہ پلاسٹک کی تھیلیاں اور دیگر فضلہ جمع ہوگیا۔ تاہم، انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور ایک بار پھر ندی میں اتر کر صفائی شروع کردی۔
سریندر چودھری (بٹو تباہی)۔ تصویر: سوشل میڈیا
مدھیہ پردیش کے ضلع راج گڑھ سے ایک مایوس کن منظر سامنے آیا ہے، جہاں سریندر سنگھ چودھری، جو ’بٹو تباہی‘ کے نام سے مشہور ہیں، نے اجنار ندی کی تازہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔ انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی اس ویڈیو میں ندی ایک بار پھر پلاسٹک کی تھیلیوں اور دیگر کچرے سے بھری ہوئی نظر آرہی ہے۔ چودھری نے آٹھ ماہ تک ندی سے ٹنوں کچرا نکالنے کے لیے محنت کی تھی۔ انہوں نے یہ کام تنہا اور کسی خصوصی آلات کے بغیر انجام دیا۔ تاہم، ندی میں دوبارہ کچرا جمع ہوگیا، جس سے آبی گزرگاہ کو صاف کرنے کے لیے کی گئی ان کی بیشتر محنت ضائع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
اس صورت حال کے باوجود بٹو تباہی نے ہمت نہیں ہاری اور دوبارہ صفائی کے کام میں جٹ گئے۔ انہیں تیراکی بھی اچھی طرح نہیں آتی، اس کے باوجود وہ ندی میں اترے اور ایک ایک تھیلی کرکے کچرا جمع کرنے لگے۔ منگل کو ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انہوں نے ندی کی دوبارہ ایسی حالت دیکھ کر اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کیپشن میں لکھا، ’’میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ میری آٹھ ماہ کی محنت اس طرح ضائع ہوجائے گی۔‘‘ انہوں نے سوشل میڈیا صارفین سے یہ مشورہ بھی طلب کیا کہ اجنار ندی سے کچرا زیادہ مؤثر طریقے سے نکالنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی نےCJP لیڈرز سورَو داس، اشوتوش رانکا کی حراست کو بزدلانہ عمل قرار دیا
ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیے
اس ویڈیو کے بعد عوامی ذمہ داری اور آبی ذخائر میں بار بار کچرا پھینکے جانے کے مسئلے پر بحث شروع ہوگئی۔ کئی صارفین نے چودھری کی کوششوں کو سراہا، جبکہ بعض نے شہریوں میں شہری شعور اور ذمہ داری کی کمی پر ناراضی کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا، ’’آپ بہت اچھا کام کررہے ہیں، لیکن لوگ آپ کی اس نیکی کے مستحق نہیں ہیں۔ اگر کبھی آپ کو یہاں سے جانے کا موقع ملے تو ہچکچائیے گا نہیں۔‘‘ ایک اور صارف نے لکھا، ’’یہ بہت افسوس ناک ہے، لیکن آپ ایک ہیرو ہیں، دوست! آپ کو مزید طاقت ملے!‘‘ تیسرے صارف نے کہا، ’’ہمارے ملک کی موجودہ حالت کی وجہ ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ سیاست دانوں کو موردِ الزام ٹھہرانے سے پہلے ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ ہم ملک کے لیے کیا کررہے ہیں۔‘‘ ایک اور تبصرے میں کہا گیا، ’’اور پھر یہی لوگ ان سب مسائل کے لیے حکومت کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ کبھی کبھی مجھے سوچنا پڑتا ہے کہ کیا ہمارے لوگ بنیادی سہولتوں کے بھی مستحق ہیں؟‘‘