Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیتا دت کی درد میں ڈوبی آواز سامعین کو الگ دنیا میں لے جاتی ہے

Updated: July 21, 2026, 11:19 AM IST | Mumbai

گیتادت بالی ووڈ کی ایک انتہائی معروف اور مقبول ترین پلے بیک گلوکارہ تھیں جن کی جادوئی اور منفرد آواز نے۵۰ء اور ۶۰ءکی دہائی میں ہندوستانی سنیماپرگہرے نقوش چھوڑے۔

Geeta Dutt. Photo: INN
گیتا دت۔ تصویر: آئی این این

گیتادت بالی ووڈ کی ایک انتہائی معروف اور مقبول ترین پلے بیک گلوکارہ تھیں جن کی جادوئی اور منفرد آواز نے۵۰ء اور ۶۰ءکی دہائی میں ہندوستانی سنیماپرگہرے نقوش چھوڑے۔گیتا دت ایک منفرد آوازلے کر پیدا ہوئی تھیں ۔ ان کی گائیکی میں جوسوز تھا وہ انہیںپرختم ہو گیا ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ۴؍دہائیاں گزرجانے کے باوجود گیتا دت کی آواز مدھم نہیں ہوئی ہے۔ان کے بول آج بھی دل میں اتر جاتے ہیں اور سننےوالا محو ہو کر رہ جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ گلو کارہ کا درد اپنے اندر بھی محسوس کرتا ہے ۔

گیتا دت کا پیدائشی نام گیتا گھوش رائے چودھری تھا اور وہ ۲۳؍نومبر ۱۹۳۰ءکوایک دولت مند زمیندار خاندان میں پیدا ہوئی تھیں۔جس کا تعلق مشرقی بنگال کےفرید پور سے تھا جو اب بنگلہ دیش میںہے ۔لیکن ان کے والدین ۱۹۴۲ءمیںممبئی آگئے تھے اور اس وقت گیتاکی عمر صرف ۱۲؍برس تھی۔چونکہ گانا بجانا بنگلہ تہذیب و ثقافت کا ایک حصہ ہے ۔ اس لئے انہیں بھی بچپن سےہی اس کی تعلیم دی گئی ۔ انہوں نے اپنی ابتدائی طور پر ۱۹۴۶ءمیںایک فلم ’بھگت پرہلاد‘میں میں گیت گایا تھا۔اس کے بعدوہ کچھ چھوٹی چھوٹی فلموں میںبھجن گاتی رہیں۔لیکن ان کی شناخت ۱۹۵۵ء میں ’دیوداس‘ اور ۱۹۵۷ءمیں ریلز فلم ’پیاسا‘سے ہوئی ۔ انہوں نے فلم ’پیاسا‘کے جو گانے اپنی پر سوز آواز میں گائےانہیں آج بھی فراموش نہیں کیا جاسکاہے۔ان کے گائے ہوئے گانے ’آج سجن موہے انگ لگا لو‘ یا’ ہم آپ کی آنکھوں‘میں بہت ہی مقبول ہوئے ۔ دیو داس کا گانا ’آن ملو آن ملو‘ہر شخص کی زبان پر تھا یا پھر اس سے قبل کا گانا’میرا سندر سپنا بیت گیا‘فلم ’ دو بھائی‘ کا ’تدبیر سےبگڑی ہوئی تقدیر بنا لے‘ مقبول عام تھے ۔فلم ’بازی‘کے گانوں کی ریکارڈنگ کے دوران ان کی ملاقات فلم کے نوجوان ہدایت کار گرودت سے ہوئی اور رومانس شروع ہو گیا جو ان کی شادی پر منتج ہوا۔ ۱۹۵۷ءمیںگرودت نے ایک فلم ’گوری‘شروع کی۔ گیتا دت اس کی مرکزی اداکارہ تھیں۔یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ یہ ملک کی پہلی سینما سکوپ فلم ہو گی لیکن کچھ روز شوٹنگ کےبعدیہ فلم بند کر دی گئی۔ اس وقت گیتا دت کی شادی خطرات کا شکارتھی کیونکہ گرو دت وحیدہ رحمان کےعشق میں بری طرح گرفتار تھے۔گیتا دت سخت صدمے کی حالت میں تھیں انہوں نے اس صدمے کی وجہ سے مے نوشی شروع کردی۔یہ ۱۹۵۵ءتھاجب ایس ڈی برمن کے لتا کے ساتھ اختلافات پیدا ہو گئے اورانہوں نے آشا بھوسلے کی جگہ گیتا دت سے اپنے گیت گوانےکا فیصلہ کیا ۔لیکن ہوا یوں کہ گیتا دت ایس ڈی برمن کی توقعات پر پورا نہ اتر سکیں۔اس کے بعد ایس ڈی برمن اور اوپی نیر نے آشا بھوسلے کو موقع دیا اوران دونوں عظیم سنگیت کاروں نے آشا کے کیرئر کو عروج پر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔۱۹۶۴ءمیں ’گرو دت‘کی بے حد شراب نوشی کے سبب موت واقع ہو گئی تھی بلکہ کہا تو یہ جاتا ہے کہ انہوں نےذہنی تناؤکےسبب خود کشی کرلی تھی۔ان کی موت کےبعدگیتا دت۸؍ برسوں تک زندہ رہیں ۔ لیکن انہیں بھی حالات کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا اور ۲۰؍ جولائی ۱۹۷۲ءکولیور کی بیماری کےسبب ان کی ممبئی میں موت واقع ہو گئی ۔گیتا دت نے کئی فلموں میں بھی کام کیا تھا ۔ لیکن انہیں ان کی ریشمی غمناک آواز کی وجہ سے یاد کیاجاتا ہے اور اس آواز کے سہارے انہوں نےبہت سے ناقابل فراموش گیت تخلیق کئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK