Updated: October 14, 2026, 9:01 PM IST
| Mumbai
مشہور ریپر اور گلوکار یو یو ہنی سنگھ کی مشکلات ایک بار پھر بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔ جنوری ۲۰۲۶ ءمیں دہلی میں منعقدہ ایک کنسرٹ کے دوران مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے سے متعلق معاملے میں مہاراشٹر سائبر نے انہیں دوبارہ پوچھ گچھ کے لیے سمن جاری کیا ہے۔
ہنی سنگھ۔ تصویر:آئی این این
مشہور ریپر اور گلوکار یو یو ہنی سنگھ کی مشکلات ایک بار پھر بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔ جنوری ۲۰۲۶ ءمیں دہلی میں منعقدہ ایک کنسرٹ کے دوران مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے سے متعلق معاملے میں مہاراشٹر سائبر نے انہیں دوبارہ پوچھ گچھ کے لیے سمن جاری کیا ہے۔ حکام نے ہنی سنگھ کو ۱۶ ؍اکتوبر کو تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ اس سے قبل بھی انہیں کئی مرتبہ پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا تھا، لیکن وہ مقررہ تاریخوں پر تفتیشی ایجنسی کے سامنے حاضر نہیں ہوئے۔ اب اس معاملے میں مزید کارروائی کی تیاری کی جا رہی ہے اور ذرائع کے مطابق، اگر ہنی سنگھ اس مرتبہ بھی پیش نہیں ہوتے ہیں تو ان کے خلاف لک آؤٹ سرکلر جاری کرنے کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سیف علی خان کی بہن صبا پٹودی پر ایک ہزار کروڑ کی خاندانی وراثت سنبھالنے کی ذمہ داری
مہاراشٹر سائبر کے ایک افسر کے مطابق، ہنی سنگھ کو ۱۶؍ اکتوبر کو تفتیشی افسر کے سامنے حاضر ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس سے پہلے انہیں تین مرتبہ سمن بھیجے جانے کے باوجود وہ پوچھ گچھ کے لیے نہیں پہنچے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہنی سنگھ کی جانب سے بیرون ملک موجود ہونے کی وجہ سے پیش نہ ہو پانے کی اطلاع دی گئی تھی۔ انہوں نے تفتیشی ایجنسی سے مزید وقت بھی طلب کیا تھا۔ اب انہیں ایک اور موقع دیا گیا ہے، جس کے بعد ان کی پیشی اور تفتیشی ایجنسی کے اگلے اقدام پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔
یہ معاملہ جنوری ۲۰۲۶ ءمیں دہلی میں منعقدہ ہنی سنگھ کے ایک کنسرٹ سے متعلق ہے۔ اس پروگرام کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں گلوکار مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرہ کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے ان کے بیان پر اعتراض کیا، جس کے نتیجے میں تنازع شدت اختیار کرگیا۔تنازع بڑھنے کے بعد ہنی سنگھ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کرکے معذرت کی تھی۔ انہوں نے وضاحت کی تھی کہ وائرل ویڈیو کلپ کو اس انداز میں تدوین کرکے پیش کیا گیا کہ لوگوں کو ان کی بات قابل اعتراض محسوس ہوئی۔ ان کے مطابق، ان کا مقصد کسی کو تکلیف پہنچانا، بے عزت کرنا یا کسی کے جذبات مجروح کرنا نہیں تھا۔اس معاملے میں ایک شکایت کنندہ نے مہاراشٹر سائبر کے پاس شکایت درج کرائی تھی، جس کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی گئیں اور ہنی سنگھ کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا۔ ستمبر میں بھی انہیں نوٹس جاری کرکے تفتیشی افسر کے سامنے حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:مودی کی ٹیم انڈیا کے ساتھ تقریب کے باعث آئی پی ایل سے متعلق اہم اجلاس ملتوی
۱۴؍ ستمبر کو جاری کیے گئے نوٹس کو آخری یاددہانی قرار دیا گیا تھا۔ اس میں ہنی سنگھ کو ۵؍ اکتوبر کی صبح ۱۱؍ بجے ممبئی کے کَف پریڈ علاقے میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں مہاراشٹر سائبر کے دفتر پہنچنے کے لیے کہا گیا تھا۔ تاہم، وہ مقررہ تاریخ پر بھی پیش نہیں ہوئے اور انہوں نے مزید وقت دینے کی درخواست کی تھی۔اب مہاراشٹر سائبر نے انہیں ۱۶؍اکتوبر کو دوبارہ طلب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اگر وہ اس مرتبہ بھی تفتیشی افسر کے سامنے حاضر نہیں ہوتے ہیں تو ان کے خلاف لک آؤٹ سرکلر جاری کرنے کی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ لک آؤٹ سرکلر کا مقصد متعلقہ شخص کی نقل و حرکت، بالخصوص ملک سے باہر جانے یا ملک میں داخل ہونے کے معاملے میں، متعلقہ حکام کو مطلع کرنا ہوتا ہے۔ تاہم، ہنی سنگھ کے خلاف ایسا سرکلر جاری کیے جانے کا فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا ہے اور فی الحال یہ امکان ذرائع کے حوالے سے ظاہر کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں اب ۱۶؍ اکتوبر کی پیشی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ہنی سنگھ کی جانب سے تفتیشی ایجنسی کے سامنے حاضری اور مہاراشٹر سائبر کا اگلا فیصلہ اس کیس کی آئندہ سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔