• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلم ’ہیر رانجھا‘ میں کیفی اعظمی نے فلم کے تمام مکالمے منظوم لکھے تھے

Updated: October 04, 2026, 2:27 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai

انہوں نے ۱۱؍ سال کی عمر ہی سے شعر کہنا اور مشاعروں میں حصہ لینا شروع کردیا تھا اور اُسی وقت انہوں نے اپنے اس عزم کااعلان بھی کردیا تھا کہ وہ ایک دن ملک کے مشہور شاعر بنیں گے، انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کامیابی سے انہیں دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔

Kaifi Azmi. Photo: INN.
کیفی اعظمی۔ تصویر: آئی این این

اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے ایک چھوٹے سے گائوں مجواں کے ایک زمیندارمسلم خاندان میں ۱۹۱۸ء کو کیفیؔ اعظمی پیدا ہوئے۔ والدین نے اطہر حسین رضوی نام رکھا۔ ان کے والد کا نام فتح حسین رضوی اور والدہ کا نام کنیز فاطمہ تھا۔ اطہر حسین بچپن ہی سے انتہائی حساس واقع ہوئے تھے۔ گھر میں شعروشاعری کا ماحول رہتا تھا۔ والد بھی کبھی کبھار فارسی میں اشعار کہا کرتے تھے اور تینوں بڑے بھائی بھی باقاعدہ شاعر تھے۔ اس وقت اطہر حسین کی عمر ۱۱؍سال تھی، جب گھر میں چلتے پھرتےیہ لڑکا شعر بھی کہتا جاتا تھا۔ گھر میں اس کا صرف ایک ہی دوست تھا اور وہ تھیں اس کی بڑی بہن واجدہ باجی۔ ایک دن اس لڑکے نے اپنی بہن کے سامنے عزم کیا کہ وہ ایک دن ہندوستان کا مشہور شاعر بنے گا اور اس کامیابی سے اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ اسی دوران اطہر حسین نے بہرائچ کے ایک مشاعرے میں اپنی ایک غزل سناکر اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا۔ یہ ایک کامیاب غزل تھی۔ اس غزل کو بعد میں بیگم اختر نے بھی گایا تھا اور اس غزل کا ایک شعر کافی مقبول ہوا تھا:
جس طرح ہنس رہا ہوں میں پی پی کے گرم اشک
یوں دوسرا ہنسے تو کلیجہ نکل پڑے
اس کامیاب غزل پر خوش ہو کر اطہر حسین کے والد نے ایک پارکر پین اور ایک شیروانی کے ساتھ ہی اس لڑکے کو ایک تخلص ’کیفیؔ‘ بھی دیا، جو بعد میں کیفیؔ اعظمی ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی کیفیؔ کو عربی اور فارسی کی تعلیم کیلئے سلطان المدارس، لکھنؤ بھیج دیا گیا، جہاں وہ بورڈنگ میں رہتے بھی تھے۔ مولویوں کی صحبت کیفیؔ اعظمی کو راس نہیں آئی اوران کا دل اکھڑ گیا۔ 
کیفیؔ اعظمی کی پہلی نظم ’سرفراز‘، لکھنؤ میں شائع ہوئی تھی۔ اسی زمانے میں کیفیؔ چپکے چپکے روس کی حمایت میں نظمیں لکھ کر ’قومی جنگ‘ کو بھیجنے لگے۔ سجاد ظہیر، پی سی جوشی اور سردار جعفری یہ نظمیں دیکھتے اور حیران ہوتے تھے کہ یہ شخص اپنا نام اور پتہ کیوں نہیں لکھتا۔ بعد میں ایک مشاعرے میں علی سردار جعفری نے کیفیؔ اعظمی کو تلاش کر ہی لیا اور جب سجاد ظہیر نے کیفیؔ سے بمبئی چلنے کی فرمائش کی تو کیفیؔ فوراً تیار ہو گئے۔ گھر میں ایک کھلبلی مچ گئی۔ سردار جعفری اور سجاد ظہیر کے ساتھ کیفیؔ اعظمی بمبئی آگئے اور ۱۹۴۳ء میں پارٹی کے کُل وقتی ممبر ہوگئے۔ اس زمانے میں پارٹی کے اخبارات کے پہلے صفحے پر کیفیؔ کی نظمیں شائع ہونا شروع ہو گئیں اور انہیں شہرت اور مقبولیت حاصل ہوتی گئی۔ پارٹی ہی نے کیفیؔ کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’جھنکار‘ ۱۹۴۳ء میں شائع کیا جو ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوا۔ اس وقت ان کی ایک نظم ’عورت‘ بہت مشہور ہوئی تھی۔ ۱۹۴۷ء میں یہ وجیہہ اور جوشیلا نوجوان شاعر ایک مشاعرے میں حیدرآباد پہنچا اور وہیں شوکت خانم سے ملاقات ہوئی جو بعد میں شادی کی صورت اختیار کر گئی۔

یہ بھی پڑھئے: سلمان خان کی ’’ماتربھومی‘‘ کو حکومت کی منظوری، نومبر میں ریلیز کا امکان

کچھ عرصےبعد کیفیؔ کو ’نیا ادب‘ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے دو سو روپے ماہوار آمدنی ہونے لگی۔ اپنے قیام بمبئی کے ابتدائی دنوں میں کیفیؔ اعظمی کمیونسٹ پارٹی کے ریڈ فلیگ ہال میں رہا کرتے تھے، جہاں ہر کامریڈ کو ایک کمرہ ملا ہوا تھا، غسل خانہ اور ٹوائلٹ سب کیلئے مشترکہ تھا۔ گھر خرچ کیلئے کیفیؔ کو صرف چالیس روپے ماہانہ اپنے پاس رکھنے کی اجازت تھی۔ باقی آمدنی وہ پارٹی فنڈ میں جمع کرادیا کرتے تھے۔ شوکت کیفی کے مستقل تھیٹر کرنے سے جب اُن کے اقتصادی حالات کچھ بہتر ہوئے، تب کیفیؔ اعظمی اپنے دونوں بچوں اور بیوی کو لے کر جانکی کٹیر، جوہو میں آگئے۔ اس طرح پرتھوی تھیٹر جانکی کٹیر کے قریب ہونے سے شوکت کو بھی آسانی ہوگئی۔ شوکت اکثر پرتھوی تھیٹر کے ساتھ دیگر شہروں میں ٹور پر جاتی تھیں ، اُن دنوں کیفیؔ اپنے بچوں کیلئے ماں کا کردار ادا کیا کرتے تھے۔ وہ انہیں نہلاتے، کپڑے پہناتے، کھانا کھلاتے اور اسکول پہنچاتے تھے۔ ان کی بیٹی شبانہ اعظمی ( مشہور اداکارہ ) اور بیٹا بابا اعظمی سینماٹوگرافر ہیں۔ 
کیفیؔ اعظمی ترقی پسند مصنفین میں رہ کر برابر ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کیلئے کام کرتے رہے۔ پھر ۱۹۶۲ء میں ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کے بھی دو ٹکڑے ہو گئے۔ اس تقسیم سے کیفیؔ کو بے انتہا تکلیف پہنچی مگر انہوں نے زبان سے کچھ نہیں کہا۔ انہی دنوں کیفیؔ نے ایک نظم ’آوارہ سجدے‘ کہی جو عوام وخواص میں بے انتہا مقبول ہوئی۔ 
کیفی اعظمی کی فلم ’کاغذ کے پھول‘ کے گانے بے حد مقبول ہوئے اور اس کے بعد رمیش سہگل کی فلم ’شعلہ وشبنم‘ کا گانا ’’جانے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں یہ آنکھیں مجھ میں : راکھ کے ڈھیر میں شعلہ ہے نہ چنگاری ہے‘ بے حد مقبول ہوا۔ اس کے بعد جب چیتن آنند نے اپنی فلم ’حقیقت‘ کے گانے کیفیؔ اعظمی سے لکھوائے تو اس فلم کے سب گانے مقبول ہوئے اور فلم بھی کافی کامیاب رہی۔ چیتن آنند کی ہی ایک فلم ’ہیر رانجھا‘ تو کیفیؔ اعظمی کا ایک کارنامہ ہے، کیوں کہ اس پوری فلم کے مکالمے کیفیؔ اعظمی نے منظوم لکھے تھے۔ فلم ’گرم ہوا‘کی کہانی، مکالمے اور منظرنامہ بھی کیفیؔ ہی کے لکھے ہوئے ہیں، جس کیلئے انہیں فلم فیئر ایوارڈ ملے تھے۔ اس فلم کی کہانی کیلئے نیشنل ایوارڈ بھی کیفیؔ اعظمی کو مل چکا ہے۔ کیفیؔ کی کل پانچ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ’جھنکار (۱۹۴۳)، آخری شب (۱۹۴۷ء)، آوارہ سجدے (۱۹۷۳ء)، میری آواز سنو (۱۹۷۴ء)، اور سرمایہ (۱۹۹۴ء)۔ اس کے علاوہ ان کی ایک طویل نظم ’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘ بھی ۱۹۸۳ء میں ایک کتابچہ کی شکل میں شائع ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’فرضی ۲‘‘میں شاہد کپور کے مقابل یوکتی تھریجا کام کریں گی

کیفی اعظمی نے ایک فلم ’نسیم‘ میں خود اپنا ہی ایک بے حد پُراثر کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم میں جب مشترکہ تہذیب کے علمبردار اس کردار کی موت ہوتی ہے تو پورا شہر فرقہ وارانہ فسادات کے شعلوں میں گھرا ہوا ہوتا ہے، اور اُسی ماحول میں اُس کا جنازہ گھر سے نکلتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح، جس طرح اصل زندگی میں کیفیؔ اعظمی کا جنازہ اُس وقت گھر سے نکلا جب انتہا پسندوں اور فاسشٹوں نے گجرات کے بہانے پورے ملک کو فرقہ وارانہ منافرت کے شعلوں میں جھلسا رکھا تھا۔ ان کے فلمی نغموں کا انداز جداگانہ ہے۔ آج بھی ان کے فلمی نغمے دل کے تاروں کو اسی رفتار سے چھیڑ دیتے ہیں، جیسے اس وقت میں چھیڑتے تھے جب انہوں نے فلم ’’حقیقت‘‘ کا یہ نغمہ لکھا تھا:
ہوکے مجبور مجھے اس نے بُھلایا ہوگا
وطن پرستی پر اُن کا اسی فلم کا دوسرا نغمہ’ ’کر چلے ہم فدا جان وتن ساتھیو‘‘ آج بھی سپاہیوں کے خون کو گرما دیتا ہے۔ اس کے علاوہ فلم ’پاکیزہ، رضیہ سلطان، کہرا، ہنستے زخم، اور ارتھ‘ کے گیتوں کیلئے کیفیؔکو ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔ انہوں نے تقریباً دو سو فلموں کیلئے نغمہ نگاری کی اور بہت سی معیاری غزلیں اور نظمیں کہیں، مگر میرا خیال ہے کہ کیفیؔ اعظمی نے اپنی پوری زندگی میں کچھ بھی نہ کیا ہوتا، تب بھی ان کا یہ شعر ان کو ہمیشہ یاد رکھنے کیلئے کافی تھا:
دل کی نازک رگیں ٹوٹتی ہیں 
یاد اتنا بھی کوئی نہ آئے
۱۰؍مئی ۲۰۰۲ء کو جسلوک اسپتال، بمبئی میں صبح ۷؍ بجے کیفیؔ اعظمی نے داعی اجل کو لبیک کہا اور بہترین تخلیقی ذہن رکھنے والا یہ فنکار اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ 
کیفی اعظمی کی شوکت خانم سے شادی
شوکت خانم سے شادی کی کافی مخالفت ہوئی مگر آخر میں فتح محبت کی ہوئی اور بہت سے ادیب اور شاعروں کی موجودگی میں ان کا پڑھا دیا گیا۔ جوشؔ ملیح آبادی، مجازؔ، علی سردار جعفری، ساحرؔ لدھیانوی اور سکندر علی وجدؔ نے اس شادی میں شرکت کی اور اپنی اپنی خوبصورت نظموں سے شادی کی محفل کو کامیاب اور حسین بنا دیا۔ اس زمانے میں کیفیؔ اعظمی کی پارٹی سے آمدنی صرف ۴۵؍ روپے ماہوار تھی جس میں گزر اوقات بڑی مشکل سے ہو پاتی تھی۔ آمدنی بڑھانے کیلئے کیفیؔ نے ایک روزنامہ میں پانچ روپے یومیہ پر ایک مزاحیہ نظم لکھنا شروع کر دی۔ ادھر شوکت نے بھی اپٹا‘ میں کام شروع کر دیا۔ 
فلموں میں آئے مگر پارٹی کا کام نہیں چھوڑا
کیفیؔ اعظمی نے مالی حالات سے تنگ آکر اور بڑھتے ہوئے اخراجات کو مد نظر رکھتے ہوئے فلموں میں گانے لکھنے شروع کر دئیے۔ فلمساز شاہد لطیف نے سب سے پہلے اپنی فلم ’بزدل‘ کیلئے دو گانے کیفیؔ اعظمی سے لکھوائے، جن کا معاوضہ ایک ہزار روپے کیفیؔ اعظمی کو ملا۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ان کے یہاں شبانہ اعظمی کی پیدائش ہوئی تھی۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ کیفیؔ کو فلموں میں نغمہ نگاری کا کام ملنے لگا اور ان کی مالی حالت بہتر ہوتی گئی مگر انہوں نے پارٹی کا کام پھر بھی نہیں چھوڑا۔ اس کے بعد انہوں نے گرودت کی فلم ’کاغذ کے پھول‘ اور موہن سہگل کی فلم’اپنا ہاتھ جگن ناتھ‘ کیلئے گانے لکھے۔ 
کیفی اعظمی اور مضبوط قوت ارادی
۹؍فروری ۱۹۷۲ء کو کیفیؔ اعظمی پر فالج کا حملہ ہواتھا۔ اس حملے میں ان کا ایک ہاتھ بے جان ہو گیا، مگر کیفیؔ نے ہار نہیں مانی اور وہ مستقل مردانہ وقار کے ساتھ موت سے لڑتے رہے۔ ۱۹۷۴ء میں علاج کیلئے وہ روس بھی گئے۔ کیفیؔ اعظمی زبردست قوت ارادی کے مالک تھے۔ ایک ہاتھ سے مفلوج ہونے اور چلنے پھرنے میں بے حد دقت ہونے کے باوجود ہر میٹنگ میں وہ جاتے رہے اور ہر مشاعرے میں اپنی نظمیں لوگوں تک پہنچاتے رہے۔ ’اِپٹا‘ کو سرگرم رکھنے میں کیفیؔ اعظمی کا، ان کی ہمت اور استقلال کا بے حد دخل تھا۔ انہوں نے اِپٹا کے آل انڈیا صدر کے عہدے پر برسوں کام کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK