Updated: August 13, 2026, 8:04 PM IST
| New Delhi
بالی ووڈ اداکارہ خوشی کپور کو مبینہ طور پر فحش اور ہتک آمیز آن لائن مواد کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے قانونی تحفظ مل گیا ہے۔ عدالت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو خوشی کپور سے متعلق ایسے مواد کو ہٹانے کی ہدایت دی ہے جو مبینہ طور پر قابل اعتراض، فحش یا ان کی شناخت اور شخصیت کا غیر مجاز تجارتی استعمال کرتا ہو۔
جھانوی اور خوشی کپور۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ اداکارہ خوشی کپور کو مبینہ طور پر فحش اور ہتک آمیز آن لائن مواد کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے قانونی تحفظ مل گیا ہے۔ عدالت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو خوشی کپور سے متعلق ایسے مواد کو ہٹانے کی ہدایت دی ہے جو مبینہ طور پر قابل اعتراض، فحش یا ان کی شناخت اور شخصیت کا غیر مجاز تجارتی استعمال کرتا ہو۔ یہ حکم ۱۲؍ اگست کو اس وقت جاری کیا گیا جب عدالت خوشی کپور کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ درخواست میں اداکارہ نے اپنے شخصیت اور تشہیری حقوق (Personality and Publicity Rights) کے تحفظ کا مطالبہ کیا تھا۔ خوشی نے عدالت کی توجہ ایسے سامان اور مرچنڈائز کی غیر مجاز فروخت کی جانب بھی دلائی تھی، جن میں ان کی شخصیت، نام یا شناخت سے جڑی چیزوں کا استعمال کیا جا رہا تھا۔
جسٹس جیوتی سنگھ نے کہا کہ عدالت ایک John Doe Order جاری کرے گی۔ اس کا مقصد ایسے نامعلوم افراد کو بھی خوشی کپور کی شناخت اور شخصیت کا غلط یا تجارتی استعمال کرنے سے روکنا ہے، جن کی شناخت فی الحال سامنے نہیں آئی ہے۔ اس حکم کے ذریعے اداکارہ کو مستقبل میں سامنے آنے والے نامعلوم افراد یا اداروں کے خلاف بھی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شاہ رخ خان کی دائیں ٹانگ بری طرح زخمی، پھیپھڑے بھی کمزور ہیں
خوشی کپور کی درخواست پر یہ کارروائی ان کی بہن جھانوی کپور کو اسی نوعیت کے معاملے میں ریلیف ملنے کے ایک دن بعد سامنے آئی۔جھانوی کے معاملے میں عدالت نے مبینہ طور پر فحش اور قابل اعتراض آن لائن مواد ہٹانے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم عدالت نے ان کے نام سے چلنے والے تمام فین پیجز اور فین کلبز پر مکمل پابندی عائد کرنے سے انکار کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی عوامی شخصیت کے بارے میں ہر قسم کی تنقید یا گفتگو کو روکا نہیں جا سکتا۔ قانونی تحفظ دیتے وقت یہ فرق کرنا ضروری ہے کہ کون سا مواد جائز تبصرہ ہے اور کون سا مواد فحاشی، ہراسانی یا تجارتی استحصال کی حد عبور کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کوکو گاف کو ہرا کر ایلینا ریباکینا کینڈا اوپن کے فائنل میں
جج کے مطابق قانون ہر قسم کی گفتگو یا تنقید کو مکمل طور پر روکنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اگر کسی مواد میں فحاشی، مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش یا انتہائی نامناسب اور سنگین نوعیت کا مواد شامل ہو تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے، لیکن تمام فین کلبز یا فین پیجز کو بند کرنا مناسب طریقہ نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ عوامی زندگی سے وابستہ افراد کو سوشل میڈیا پر تنقید اور بعض اوقات گالم گلوچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جج نے اس بات پر زور دیا کہ کسی شخص کے مشہور ہونے کی وجہ سے اس کے بارے میں ہر قسم کی گفتگو پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ عدالت کو یہ طے کرنا ہوگا کہ جائز تنقید کہاں ختم ہوتی ہے اور قابل اعتراض یا غیر قانونی مواد کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ بعض لوگ اپنے غلط کاموں کو چھپانے کے لیے ’’سیلیبریٹی یا پرسنالٹی رائٹس‘‘ کا سہارا لے سکتے ہیں، تو ایسی صورت میں عدالت کس حد تک پابندی عائد کر سکتی ہے۔