Inquilab Logo Happiest Places to Work

زدران اور اٹل کی سنچریوں سے افغانستان نے سیریز جیت لی

Updated: August 13, 2026, 8:04 PM IST | Dublin

صدیق اللہ اٹل (۱۴۳؍رن) اور ابراہیم جدران (۱۰۷؍رن) کی سنچریوں کی بدولت افغانستان نے چوتھے ایک روزہ میچ میں آئرلینڈ کو ۴۲؍ رنز سے شکست دے دی اور پانچ میچوں کی سیریز میں ۰۔۳؍ کی ناقابل شکست برتری حاصل کرلی ہے۔

Sediqullah Atal.Photo:X
صدیق اللہ اٹل۔ تصویر:ایکس

صدیق اللہ اٹل (۱۴۳؍رن) اور ابراہیم زدران (۱۰۷؍رن) کی سنچریوں کی بدولت افغانستان نے چوتھے ایک روزہ میچ میں آئرلینڈ کو ۴۲؍ رنز سے شکست دے دی اور پانچ میچوں کی سیریز میں ۰۔۳؍ کی ناقابل شکست برتری حاصل کرلی ہے۔ آئرلینڈ نے بدھ کو کھیلے گئے میچ میں ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ 
بلے بازی کرنے اتری افغانستان کی ٹیم نے ابراہیم زدران اور صدیق اللہ اٹل کی سنچریوں کی بدولت نو وکٹوں پر ۳۴۳؍ رنز کا بڑا اسکور بنایا۔ افغانستان کے لیے درویش رسولی (۲۴)، عظمت اللہ عمرزئی (۱۵)، راشد خان (۱۱) اور رحمان اللہ گرباز (۱۲) نے بھی رنز بنائے۔ جواب میں آئرلینڈ نے ہار نہیں مانی، لیکن اس کے باوجود اس کی رنز کی تعاقبی مہم شاندار نہ بن سکی۔ ٹیم ۴۸؍ اوورز میں ۳۰۱؍ رنز پر آل آؤٹ ہوگئی اور ۴۲؍رنز سے میچ ہار گئی۔ اینڈی بالبرنی کے ۱۰۹؍ رنز بھی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔ آئرلینڈ کو اچھی شروعات ملی کیونکہ اس نے پیر کو کھیلے گئے سنسنی خیز میچ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے ان فارم رحمان اللہ گرباز کو دوسرے ہی اوور میں آؤٹ کردیا۔ لیکن اس کی تمام خوشی جلد ہی ختم ہوگئی کیونکہ اٹل اور جدراں نے اننگز کے بیشتر حصے میں زبردست بلے بازی کی۔ اس جوڑی نے ۲۳۱؍ رنز کی شراکت قائم کی، جو ایک روزہ کرکٹ میں افغانستان کی جانب سے دوسرے وکٹ کے لیے سب سے بڑی شراکت ہے۔ اس دوران انہوں نے کریم صادق اور محمد شہزاد کا ۱۶؍ سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا، جنہوں نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف ۲۱۸؍ رنز کی شراکت قائم کی تھی۔


زدران نے اپنی اننگز کے بیشتر حصے میں کلاسیکی کرکٹ کھیلی اور اسٹرائیک گھمانے پر انحصار کیا۔ اٹل زیادہ جارحانہ انداز میں کھیلے۔ انہوں نے لیگ اسپنر گیون ہوئے کے خلاف سیدھے شاٹس کھیلنے کے لیے مسلسل قدموں کا استعمال کیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ گیون ہوئے کو اپنی درست لینتھ سے ہٹانے کی سوچی سمجھی حکمت عملی تھی تاکہ انہیں حاوی ہونے سے روکا جاسکے، جیسا کہ انہوں نے گزشتہ میچ میں چار وکٹیں حاصل کرکے کیا تھا۔
زدران نے ۵۶؍ گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی اور پھر اپنی بلے بازی کی رفتار بڑھا دی۔ اگلے ۵۰؍ رنز انہوں نے ۵۱؍ گیندوں پر بنائے اور اپنی ساتویں ایک روزہ سنچری مکمل کی۔ انہوں نے طویل قامت بائرن میک ڈونو اور لیام میکارتھی کی تیز اور باؤنسی گیندوں کا ڈٹ کر اور بہترین تکنیک کے ساتھ سامنا کیا۔ اٹل نے اپنی ۲۵؍ویں سالگرہ کے موقع پر سنچری بنائی۔ انہوں نے مڈل اوورز میں شاندار سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا اور مسلسل باؤنڈریز لگائیں، خاص طور پر اسپن کے خلاف، جب انہیں محسوس ہوا کہ اننگز کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔ انہوں نے مسلسل نئی توانائی کے ساتھ بلے بازی کی اور گیند بازوں پر دباؤ برقرار رکھا۔ ایک وقت ایسا لگ رہا تھا کہ اٹل ۱۵۰؍ یا اس سے زیادہ رنز بنا لیں گے، لیکن لانگ آن کی جانب ایک غلط شاٹ کھیلنے کے باعث ان کی اننگز ۱۴۳؍ رنز پر ختم ہوگئی۔ اس وقت تک وہ ۱۷؍ چوکے اور چار چھکے لگا چکے تھے۔ درویش رسولی اور راشد خان کی مختصر لیکن مؤثر اننگز نے ٹیم کو ۳۵۰؍ رنز کے قریب پہنچا دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے:شاہ رخ خان کی دائیں ٹانگ بری طرح زخمی، پھیپھڑے بھی کمزور ہیں

آخری دس اوورز میں صرف ۸۶؍ رنز بن سکے۔ آئرلینڈ نے اپنی اننگز کا آغاز سست رفتاری سے کیا اور اتنے بڑے اسکور کا تعاقب کرنے کے لیے درکار رفتار نہیں دکھائی۔ پہلے آٹھ اوورز میں وہ صرف ۲۵؍ رنز بنا سکے، کیونکہ یامین احمدزئی اور عظمت اللہ عمرزئی نے شاندار سوئنگ گیند بازی سے انہیں پریشان کیے رکھا۔ پال اسٹرلنگ مسلسل دباؤ میں تھے جبکہ بالبرنی احتیاط سے کھیل رہے تھے تاکہ میچ کو آخر تک لے جایا جاسکے۔ اس حکمت عملی میں ایک خامی یہ تھی کہ اس میں مڈل اوورز میں راشد کے خطرے کو نظر انداز کردیا گیا تھا۔ اگرچہ ان کی تین میں سے دو وکٹیں ان کے اسپیل کے آخر میں گریں، لیکن راشد نے درست گیند بازی کرتے ہوئے دباؤ برقرار رکھا۔ ۱۱؍ویں اوور میں اسپن کا سامنا کرتے ہوئے اسٹرلنگ آؤٹ ہوگئے۔ مِسٹری اسپنر اے ایم غضنفر نے انہیں ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔ کیڈ کارمائیکل بھی اس کے فوراً بعد آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد ہیری ٹیکٹر نے بالبرنی کے ساتھ تیسرے وکٹ کے لیے ۷۶؍ رنز کی شراکت قائم کی، لیکن جیسے ہی ٹیکٹر ڈیپ بیک ورڈ اسکوائر پر کیچ آؤٹ ہوئے، ضروری رن ریٹ بڑھنے کے ساتھ ہی ان کی اننگز مکمل طور پر لڑکھڑا گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے:کوکو گاف کو ہرا کر ایلینا ریباکینا کینڈا اوپن کے فائنل میں

آئرلینڈ کی ٹیم کبھی بھی مقابلے میں نظر نہیں آئی اور اس کی مشکلات اس وقت مزید بڑھ گئیں جب راشد نے مسلسل گیندوں پر سنچری بنانے والے بالبرنی اور بین کیلٹز کو آؤٹ کردیا۔ جب میچ تقریباً ہاتھ سے نکل چکا تھا، تب کرٹس کیمفر نے اپنے ٹی۲۰؍ انداز میں کھیلتے ہوئے ۴۶؍ گیندوں پر شاندار ۸۴؍ رنز بنائے۔ ان کی اس اننگز میں گیند کی لائن پر سیدھے شاٹس کھیلنے کا بہترین مظاہرہ دیکھنے کو ملا، جس میں انہوں نے آٹھ چوکے اور پانچ چھکے لگائے۔ ۴۸؍ویں اوور میں جب وہ آؤٹ ہونے والے نویں کھلاڑی بنے، تب تک وہ آئرلینڈ کا اسکور۳۰۰؍رن سے تجاوز کرچکے تھے، جبکہ ایک وقت ایسا لگ رہا تھا کہ ٹیم اس سے بھی بڑے فرق سے شکست کھاسکتی ہے۔ افغانستان کے گیند بازی کے حملے کے آگے آئرلینڈ کی پوری ٹیم ۴۸؍ اوورز میں ۳۰۱؍ رنز پر سمٹ گئی اور افغانستان نے ۴۲؍ رنز سے مقابلہ اپنے نام کرلیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK