کراچی سے کوئٹہ جانے والی کراچی ڈسٹرکٹ ویسٹ فٹبال ٹیم کو بلوچستان کی شاہراہ پر مسلح افراد نے بندوق کی نوک پر روک کر لوٹ لیا۔ ٹیم چیف منسٹر گولڈ کپ فٹبال ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے کوئٹہ جا رہی تھی۔
EPAPER
Updated: September 30, 2026, 5:06 PM IST | Karachi
کراچی سے کوئٹہ جانے والی کراچی ڈسٹرکٹ ویسٹ فٹبال ٹیم کو بلوچستان کی شاہراہ پر مسلح افراد نے بندوق کی نوک پر روک کر لوٹ لیا۔ ٹیم چیف منسٹر گولڈ کپ فٹبال ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے کوئٹہ جا رہی تھی۔
کراچی سے کوئٹہ جانے والی کراچی ڈسٹرکٹ ویسٹ فٹبال ٹیم کو بلوچستان کی شاہراہ پر مسلح افراد نے بندوق کی نوک پر روک کر لوٹ لیا۔ ٹیم چیف منسٹر گولڈ کپ فٹبال ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے کوئٹہ جا رہی تھی کہ پیر کی شام مستونگ اور سریاب کے درمیان مسلح افراد نے ان کی بس کو روک لیا۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً ایک درجن مسلح افراد نے بس میں سوار کھلاڑیوں اور دیگر مسافروں کو نیچے اترنے پر مجبور کیا اور ان کے موبائل فون، نقد رقم اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا۔
The Karachi District West football squad was traveling to Quetta for the Chief Minister`s Gold Cup when nearly a dozen armed insurgents intercepted their bus near Mastung.
— The Daily Jagran (@TheDailyJagran) September 30, 2026
Team manager Zulfiqar Ali Bhutto revealed that gunmen forced players to disembark, assaulting some and… pic.twitter.com/lSUyEmLapR
یہ بھی پڑھئے:غزہ: اسرائیل کے ذریعے جنگ بندی کی ۵۱۰۰؍ خلاف ورزیاں، ۱۴۲۱؍ ہلاکتیں
ٹیم کے منیجر ذوالفقار علی بھٹو کے مطابق مسلح افراد نے تمام مسافروں کو بس سے باہر آنے کا حکم دیا اور اس کے بعد ان کی تلاشی لے کر موبائل فون، نقدی اور دیگر اشیا اپنے قبضے میں لے لیں۔ ان کے مطابق واقعے کے دوران بعض مسافروں کو ہتھیاروں کے بٹ سے بھی مارا گیا۔ واردات کے بعد ٹیم کسی طرح کوئٹہ پہنچی، جہاں کھلاڑیوں نے بلوچستان کے کھیلوں کے وزیر کو واقعے سے آگاہ کیا۔ لوٹ مار کے نتیجے میں کھلاڑیوں کے پاس روزمرہ اخراجات کے لیے بھی رقم نہیں بچی تھی، جس کے بعد وزیر کی مداخلت پر ٹیم کے لیے روزانہ الاؤنس کا انتظام کیا گیا۔ ٹیم نے واقعہ کی تفصیلات ٹورنامنٹ کے منتظمین کو بھی فراہم کیں۔
اس واقعہ نے بلوچستان میں کھیلوں کی ٹیموں کے سفر کی سیکوریٹی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سندھ فٹبال ایسوسی ایشن کے سیکریٹری محمد اعظم نے بتایا کہ سیکوریٹی کی صورتحال کے پیش نظر ایسوسی ایشن نے اپنی ٹیم کو ٹورنامنٹ میں نہیں بھیجا تھا اور کراچی کے دیگر کلبوں کو بھی بس یا ٹرین کے ذریعے کوئٹہ جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق کراچی ڈسٹرکٹ ویسٹ کی ٹیم اس کے باوجود کوئٹہ روانہ ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے:مراکشی گلوکار سعد لمجرد کو عصمت دری کے مقدمے میں ۱۰ ؍ سال قید
محمد اعظم کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا کی فٹبال ایسوسی ایشنز نے بھی سیکوریٹی خدشات کے باعث ٹورنامنٹ کے لیے اپنی ٹیمیں نہیں بھیجیں۔ اس صورتحال میں کراچی ٹیم کے ساتھ پیش آنے والی واردات نے کھلاڑیوں اور کھیلوں سے وابستہ افراد کے بین الاضلاعی سفر کی حفاظت سے متعلق خدشات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
مستونگ سے کوئٹہ کو ملانے والا راستہ بلوچستان میں سیکوریٹی کے حوالے سے حساس علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ حالیہ واقعہ کے علاوہ، اسی عرصے میں بلوچستان کے دیگر علاقوں میں کھلاڑیوں اور مسافروں سے متعلق جرائم کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کراچی ڈسٹرکٹ ویسٹ فٹبال ٹیم کے واقعے سے چند روز قبل ڈیرہ بگٹی سے دو مقامی کرکٹرز کے مبینہ اغوا کی خبر بھی سامنے آئی تھی۔
کراچی فٹبال ٹیم کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ نے اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا ہے کہ کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت کے لیے طویل زمینی سفر کرنے والی ٹیموں کے لیے راستے کی سیکوریٹی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ کھلاڑی ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے کوئٹہ پہنچے، تاہم میدان میں اترنے سے قبل ہی انہیں ایک مسلح واردات کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ٹیم کے ارکان کو مالی نقصان کے ساتھ خوف اور عدم تحفظ کی صورتحال سے بھی گزرنا پڑا۔