• Sun, 25 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کویتا کرشنا مورتی نے فلمی ہی نہیں ہر طرح کے گیت گائے

Updated: January 25, 2026, 11:11 AM IST | Mumbai

کویتا کرشنا مورتی صرف فلمی گیتوں تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے کلاسیکی موسیقی، بھجن، غزل اور نیم کلاسیکی صنف میں بھی گائیکی کے جوہر دکھائے۔

Kavita Krishnamurthy was a leading voice of the 90s. Photo: INN
کویتا کرشنا مورتی ۹۰ء کی دہائی کی اہم آواز تھیں۔ تصویر: آئی این این

ہندی فلمی موسیقی کی تاریخ میں کچھ آوازیں ایسی ہیں جو شور مچانے کےبجائے دل میں اترتی ہیں، جو وقتی شہرت کے بجائے مستقل وقار کی علامت بن جاتی ہیں۔ کویتا کرشنا مورتی بھی ایسی ہی ایک گلوکارہ ہیں، جن کی آواز میں کلاسیکی موسیقی کی سنجیدگی، سُروں کی نفاست اور احساس کی گہرائی یکجا نظر آتی ہے۔ انہوں نے۹۰ءکی دہائی میں ہندی فلمی موسیقی کو نہ صرف مضبوط آوازیں دیں بلکہ اپنے فن کے ذریعے گائیکی کے معیار کو بھی بلند رکھا۔ 
کویتا کرشنا مورتی ۲۵؍جنوری ۱۹۵۸ءکونئی دہلی میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام شاردا کرشنا مورتی ہے۔ موسیقی سے ان کا رشتہ بچپن ہی سے جڑ گیا تھا۔ انہوں نے ابتدا میں کلاسیکی موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور کم عمری میں ہی آل انڈیا ریڈیو اور دوردرشن پر گانے کا موقع ملا۔ ان کے اندر موجود موسیقی کی سنجیدگی اور سروں کی پہچان نے جلد ہی اساتذہ اور سامعین دونوں کو متاثر کیا۔ 
اعلیٰ تعلیم کے بعد کویتا کرشنا مورتی نے فلمی موسیقی میں قسمت آزمائی کے لیے ممبئی کا رخ کیا۔ یہاں ان کی ملاقات موسیقار لکشمی کانت پیارے لال سے ہوئی، جنہوں نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانا اورانہیں ابتدائی مواقع فراہم کیے۔ ابتدا میں وہ کورس گائیکی اور چھوٹے موٹے گیتوں تک محدود رہیں، مگر ان کی آواز میں موجود پختگی جلد ہی نمایاں ہونے لگی۔ 
کویتا کرشنا مورتی کو اصل پہچان۱۹۸۸ءکی فلم’تیزاب‘ کے گیت ’’ایک دو تین‘‘ سے ملی، جس نے انہیں راتوں رات شہرت کی بلندیوں پرپہنچا دیا۔ اگرچہ یہ گیت تیز رفتار اور عوامی ذوق کا تھا، مگر کویتا کی آوازنے ثابت کر دیا کہ وہ ہر طرح کے گیت گانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کے بعد۹۰ءکی دہائی میں وہ تقریباً ہر بڑے موسیقار کی پسندیدہ گلوکارہ بن گئیں۔ اے آر رحمان، مدن موہن، جتن للت، آنند مِلند، ندیم-شرون جیسے موسیقاروں کے ساتھ ان کا سفر بے حد کامیاب رہا۔ 

یہ بھی پڑھئے: سدھارتھ ملہوترا باتوں سے زیادہ کام میں یقین رکھتے ہیں

کویتا کرشنا مورتی نے ہر صنف میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔ فلم ’ہم دل دے چکے صنم‘ کے گیت ’’نمک عشق کا‘‘ اور ’’نمبوڑا‘‘ میں ان کی آواز کی کلاسیکی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ ’خاموشی: دی میوزیکل‘ کا گیت ’’آج میں اوپر‘‘ ہو یا ’۱۹۴۲ء: اے لو اسٹوری‘ کا ’’پیار ہوا چپکے سے‘‘ ہر جگہ ان کی آواز نے کہانی میں روح پھونک دی۔ 
فلم ’روجا‘، ’دل سے‘، ’تال‘، ’سادھنا‘، ’مشن کشمیر‘، ’زخم‘، ’ہم آپ کے ہیں کون‘ اور ’ساجن‘ جیسی بے شمار فلموں میں ان کی آواز سنائی دیتی ہے، جو آج بھی تازگی کا احساس دلاتی ہے۔ 
کویتا کرشنا مورتی صرف فلمی گیتوں تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے کلاسیکی موسیقی، بھجن، غزل اور نیم کلاسیکی صنف میں بھی گائیکی کے جوہر دکھائے۔ انہوں نے کئی البمز میں کبیر، میرا، سور داس کے بھجن گائے، جو سنجیدہ موسیقی کے شائقین میں بے حد مقبول ہوئے۔ ان کی غزل گائیکی میں سادگی اور ٹھہراؤ نمایاں نظر آتا ہے۔ 
کویتا کرشنا مورتی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ وہ کئی بار فلم فیئر ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں، جب کہ۲۰۰۵ءمیں حکومتِ ہند نے انہیں پدم شری سے سرفراز کیا۔ یہ اعزاز اس بات کا اعتراف تھا کہ انہوں نے نہ صرف فلمی موسیقی بلکہ مجموعی طور پر ہندوستانی موسیقی کو وقار بخشا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK