Updated: October 19, 2026, 9:06 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اداکار سلمان خان اور جیل میں بند گینگسٹر لارینس بشنوئی کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ لارینس بشنوئی کے کزن رمیش بشنوئی نے سلمان خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بشنوئی برادری سے معافی مانگیں، بصورت دیگر انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لارینس بشنوئی اور سلمان خان۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ اداکار سلمان خان اور جیل میں بند گینگسٹر لارینس بشنوئی کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ لارینس بشنوئی کے کزن رمیش بشنوئی نے سلمان خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بشنوئی برادری سے معافی مانگیں، بصورت دیگر انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رمیش کا یہ بیان بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر ممبئی کے علاقے جوہو میں فائرنگ کے واقعہ کے بعد سامنے آیا ہے۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سلمان خان کے ساتھ کام کرنے والے افراد کو بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ تاہم، فائرنگ کے واقعہ اور اس کے محرکات کی تحقیقات پولیس کررہی ہے اور کسی گروہ کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ بذاتِ خود اس کی تصدیق نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھئے:ٹائیگر شروف پر فائرنگ سے اداکارائیں خوفزدہ، ممبئی کی سلامتی پر بھی تشویش
رمیش بشنوئی نے کہا کہ سلمان خان کے اہل خانہ کو اس معاملے پر اپنی ضد چھوڑ کر معافی کے مطالبے پر غور کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، یہ معاملہ صرف لارینس بشنوئی اور سلمان خان کے درمیان ذاتی اختلاف کا نہیں، بلکہ بشنوئی برادری کے مذہبی جذبات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ رمیش نے دعویٰ کیا کہ لارینس بشنوئی نے سلمان خان کے سامنے ایک راستہ رکھا ہے کہ وہ آگے آکر برادری سے معافی مانگیں، لیکن اداکار نے ایسا نہیں کیا۔ رمیش نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اپنے ذاتی خیالات بیان کرنے کے بجائے لارینس بشنوئی گروہ کے موقف اور اس سے وابستہ جذبات کا حوالہ دے رہے ہیں۔ ان کے بیان میں سلمان خان کے ساتھ کام کرنے والوں کے لیے بھی انتباہ کا ذکر تھا۔
یہ تنازع اس وقت مزید نمایاں ہوا جب اتوار کی شام ممبئی کے جوہو علاقے میں اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ پولیس کے مطابق، ٹائیگر فٹ بال کی مشق کے بعد ایک میدان سے نکل رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار تین افراد نے ان کی گاڑی پر گولیاں چلائیں۔ اداکار اس واقعہ میں محفوظ رہے، تاہم ان کے ڈرائیور سمیت دیگر افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ واقعہ کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کیے اور تحقیقات شروع کردیں۔ پیر کو راجستھان پولیس نے کوٹا ریلوے اسٹیشن پر ایک ٹرین سے تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا، جن میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ پولیس کارروائی اور گرفتار افراد سے متعلق مزید تفصیلات تفتیش کے نتائج کے مطابق سامنے آئیں گی۔
فائرنگ کے واقعہ کے چند گھنٹوں بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو اور آڈیو پیغام گردش کرنے لگا، جس میں انیل پنڈت نامی شخص نے لارینس بشنوئی گروہ سے تعلق کا دعویٰ کرتے ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ اس پیغام میں ٹائیگر شروف کو سلمان خان کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے انتباہ دینے کی بات بھی کہی گئی۔تاہم ایسے پیغامات میں کیے گئے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ پولیس اس معاملے کی تحقیقات کررہی ہے اور یہ طے ہونا باقی ہے کہ فائرنگ کے پیچھے کون لوگ تھے اور ان کا اصل مقصد کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:ذیشان انصاری کے۵؍ وکٹوں سے اتر پردیش کو برتری حاصل
سلمان خان اور لارینس بشنوئی گروہ کے درمیان کشیدگی کی جڑ ۱۹۹۸ء کے کالے ہرن کے شکار کا معاملہ ہے۔ یہ واقعہ راجستھان میں فلم ’’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘‘ کی شوٹنگ کے دوران پیش آیا تھا۔ کالے ہرن کو بشنوئی برادری مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے خاص اہمیت دیتی ہے۔اس معاملے میں ۲۰۱۸ء میں ٹرائل کورٹ نے سلمان خان کو قصوروار قرار دیا تھا، تاہم اداکار نے فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا اور خود کو بے قصور قرار دیتے رہے ہیں۔ اسی معاملے کے بعد سے لارینس بشنوئی گروہ کی جانب سے سلمان خان کو متعدد مرتبہ دھمکیاں دیے جانے کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔
ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ اور اس کے بعد سلمان خان کو دی جانے والی مبینہ دھمکیوں نے فلمی صنعت میں سکیورٹی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔ اس واقعہ میں خاص طور پر ان افراد کے تحفظ کا معاملہ سامنے آیا ہے جو سلمان خان کے ساتھ کام کرتے ہیں یا ان سے پیشہ ورانہ تعلق رکھتے ہیں۔ اب سب کی توجہ پولیس کی تحقیقات پر ہے، تاکہ فائرنگ کے ذمہ داروں، واقعہ کے محرکات اور دھمکی آمیز پیغامات کی حقیقت سامنے آسکے۔ رمیش بشنوئی کے بیان نے سلمان خان اور لارینس بشنوئی کے درمیان پرانے تنازع کو دوبارہ موضوعِ بحث بنا دیا ہے، لیکن اس معاملے میں حتمی نتائج تفتیش اور متعلقہ قانونی کارروائی کے بعد ہی سامنے آسکیں گے۔