Inquilab Logo Happiest Places to Work

لیلا مشرااپنی جوانی کے دنوں میں ہی ماں اور موسی کے کردار نبھانے لگی تھیں

Updated: August 02, 2026, 1:15 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai

فلموں میں ان کا آنا محض اتفاق تھا۔ وہ تو اپنے شوہر کیلئے کھانا بنانے بنارس سے ممبئی آئی تھیں، لیکن ایک دن اُن کے شوہر اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک فلمساز کے پاس کام مانگنے گئے تو اس نے انہیں تو کام نہیں دیا لیکن لیلا مشرا کیلئے فلم میں ایک چھوٹے سے کردار کی پیشکش کردی۔ وہ تو منع کردیتیں لیکن ان کے شوہر نے انہیں فلموں میں کام کرنے کیلئے راضی کرلیا۔ تنخوا پانچ سو روپے ماہانہ طے ہوئی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

فلموں میں ’موسی‘ کے کردار سے مشہور لیلا مشرا کی پیدائش ۱۹۰۸ء میں بنارس میں ہوئی۔ وہ ابھی محض ۱۲؍ برس کی ہوئی تھیں کہ ان کی شادی آرکے مشرا سے ہو گئی، جو اُس وقت طالب علم تھے، مگر ڈراموں اور فلموں کے بڑے شوقین تھے اور اُن کا کافی وقت ڈراما کمپنی میں گزرتا تھا۔ اس زمانے میں آغا حشر کاشمیری ڈراموں کی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے اور ان کے ڈراموں میں عورت کا کردار ایک خطرناک ہستی کے طور پر پیش کیا جاتا تھا جن میں ’ نمک حرام، زہریلی ناگن اور بے وفا عورت‘ سے ہوشیار رہنے کی تلقین ہوتی تھی۔ قسمت دیکھئے کہ بعد میں کاشمیری خود ایک اداکارہ کے جال میں ایسے پھنسے کہ خود کو تباہ کر لیا۔ 
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما کمپنی میں کسی نے آر کے مشرا کو رائے دی کہ ڈراموں کو چھوڑکر فلموں کا رُخ کریں۔ یہ وہ دور تھا جب فلموں نے بولنا شروع ہی کیا تھا اور رفتہ رفتہ فلموں کے اثرات سماج پر پڑنے لگے تھے، لہٰذا مشراجی نے بنارس سے بمبئی کا رُخ کیا اور ایک فلم کمپنی میں ملازمت کر لی۔ وہ بمبئی میں اکیلے رہتے تھے، ایسے میں ان کے کھانے پینے کا انتظام اُن کے پڑوس میں رہنے والی ایک اداکارہ مہر سلطانہ کیا کرتی تھیں۔ مہرسلطانہ کے مشورے پر بعد میں انہوں نے اپنی بیوی کو بمبئی بلا لیا۔ 
فلمی دنیا میں ایسی کئی اداکارائیں ہیں جو اپنے کسی بہترین فلمی کردار کیلئے مشہور ہوئیں، جیسے للتا پوار کو دیکھتے ہی ساس کا تصور ذہن میں آجاتا ہے یا نروپا رائے کو دیکھتے ہی ممتا بھری ماں یاد آجاتی ہے۔ اسی طرح پردے پر لیلا مشرا کو دیکھتے ہی ’موسی‘ کا خیال ذہن میں اُبھرتا ہے۔ یہ اپنے کردار کے ساتھ پورے خلوص اور لگن کے ساتھ کمال حاصل کرنے کا بہترین ثبوت ہے۔ انہوں نے فلمی موسی کے کردار کو جس خوبصورتی اور فنکارانہ مہارت کے ساتھ پیش کیا ہے، اس کی مثال فلمی دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ 
لیلا مشرا کا فلموں میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ وہ تو اپنے شوہر کیلئے کھانا بنانے ممبئی آئی تھیں لیکن ان کے ساتھ ایک اتفاق ہوا۔ واقعہ یہ ہے کہ فلموں میں اُن کے شوہر کو کوئی کامیابی نہیں مل رہی تھی۔ اسی دوران وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ کسی فلم ساز کے پاس کام مانگنے گئے تو اس نے انہیں تو کام نہیں دیا لیکن لیلا مشرا کیلئے ایک چھوٹے سے کردار کی پیشکش کردی۔ یہسن کر وہ حیران رہ گئیں۔ وہ بنارس میں اپنے شوہر کے ساتھ فلمیں دیکھتی ضرور تھیں، مگر وہ زیادہ تر دیومالائی، دھارمک یا جادوئی ہوا کرتی تھیں۔ ان کے نزدیک سنیما کوئی جادوئی تماشہ ہی تھا۔ شوہر کے سمجھانے پر وہ اس فلم میں کام کرنے کو تیار ہو گئیں۔ تنخوا پانچ سو روپے ماہانہ طے ہوئی۔ 
لیلا مشرا کو اُس وقت بہت غصہ آیا جب فلم کی شوٹنگ سے قبل ایک مرد میک اَپ مین نے ان کا میک اَپ کرنا شروع کر دیا۔ کسی غیرمرد کا اپنے جسم کو ہاتھ لگوانا اُن کیلئے بڑی غیرت کی بات تھی اور یہ سب کچھ اُن کے شوہر کی موجودگی میں ہی ہو رہا تھا۔ اسلئے ان کا غصہ اپنے شوہر پر ہی تھا۔ اسی طرح کسی غیرمرد کے ساتھ محبت کے جذباتی سین کرنا بھی ان کیلئے مشکل ہو گیا، نتیجتاً وہ اس فلم میں کوئی بھی کردار ادا نہیں کر پائیں۔ 
اُس وقت ناسک کے جس مکان میں یہ لوگ ٹھہرے ہوئے تھے، اس کے عین سامنے ایک ہوٹل تھا۔ ہوٹل کی بالکنی سے ایک شخص روزلیلا مشرا کو گھورتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ ایک دن لیلا نے اپنے شوہر سے شکایت کی اور مردانہ غیرت کی وجہ سے مشرا صاحب نے ہوٹل کے منیجر سے اس شخص کی شکایت کی مگر بعد میں پتہ چلا کہ وہ کولہاپور سنے ٹون کمپنی کا فنانسر اور ڈائریکٹر ہے اور اپنی کمپنی کی طرف سے لیلا مشرا کو فلموں میں سائن کرنا چاہتا ہے۔ لیلا کے ہاں کرنے پر انہوں نے لیلا کو کولہاپور کے سفر خرچ کیلئے چار سو روپے بھجوا دئیے۔ یہ رقم لیلا کی زندگی کی بہت بڑی رقم تھی۔ 
وہ اپنے شوہر کے ساتھ کولہاپور پہنچ گئیں اور پانچ سو روپے ماہانہ تنخواہ پر فلم سائن کرلیا۔ فلم تھی’بھکارن‘۔ ماسٹر ونائک ہیرو اور رتن بائی ہیروئن تھیں۔ لیلا کا کردار تھا ہیرو کو اپنی محبت کے جال میں پھنسانے والی عورت کا۔ ہدایتکار تھے گجانن جاگیردار۔ ہدایتکار کی لاکھ کوشش کے باوجود لیلا اس طرح کے جذباتی سین نہیں کر سکیں۔ یہاں تک کہ ماسٹر ونائک کو’ناتھ‘ کہہ کر پُکارنابھی ان کیلئے ممکن نہیں ہوسکا لہٰذا یہ چانس بھی ہاتھ سے نکل گیا۔ بعد میں یہ کردار پرمیلا نے ادا کیا، مگر ان کی ملازمت برقرار رہی۔ کمپنی کی طرف سے دو سال کا معاہدہ تھا اور تنخواہ برابر مل رہی تھی۔ لہٰذا کمپنی نے لیلا کو اپنی فلم ’ہونہار‘ میں ساہو مودک کی ماں کا کردار دے دیا۔ اس وقت لیلا کی عمر ۱۷؍برس تھی اور ساہو مودک ان سے عمر میں بڑے تھے، مگر لیلا کو ماں بننا ہی پڑا کیوں کہ ہیروئن بن کر کسی غیرمرد کے ساتھ فلمی پیار کرنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھئے: کمل کپورنے کئی فلموں میں عمدہ معاون کردار ادا کئے

بعدمیں کولہاپور سنے ٹون کی ہی اگلی فلم ’گنگا وترن‘ میں انہوں نے ہیروئن کا رول ادا کیا لیکن بطور ہیروئن یہ ان کی پہلی اور آخری فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم میں لیلا کو پاروتی بننا تھا اور شیوجی کی پوجا کرنی تھی لہٰذا اس کردار کو انہوں نے بآسانی کر لیا۔ لیلا کیلئے رومانی ہیروئن کا کردار ادا کرنا لوہے کے چنے چبانے جیسا تھا۔ 
لیلا مشرا نے محبوب خان کی فلم ’انمول گھڑی‘ اور’اعلان‘ میں کام کیا تھا۔ اس زمانے میں محبوب خان کو بے خوابی کی بیماری تھی۔ رات کو دیر سے سوتے تھے اور صبح کو دیر سے جاگتے تھے۔ اسی وجہ سے ان کی فلموں کی شوٹنگ شفٹ دوپہر کو دیر سے شروع ہوتی تھی اور رات کو دیر تک چلتی تھی۔ فلم کے ہر فنکار کو میک اپ کرکے سیٹ پر تیار ہوکر بیٹھے رہنا پڑتا تھاخواہ اُس کے شاٹ کا وقت کچھ بھی ہو۔ ’اعلان‘ کی شوٹنگ کے دوران لیلا۹؍ دن تک اسی طرح میک اپ کرکے شوٹنگ کے بغیر بیٹھی رہیں۔ ’انمول گھڑی‘ اور ’اعلان‘ کے بعد محبوب خان کی کسی فلم میں لیلا کو کام کرنے کا موقع نہ ملا۔ ’انمول گھڑی‘ میں نور جہاں بھی تھیں۔ ’جیون جیوتی‘ سے شمی کپور کے ساتھ ہی چاند عثمانی نے بھی فلموں میں داخلہ لیا تھا۔ اس فلم کے ہدایتکار مہیش کول تھے۔ انہوں نے چاند عثمانی سے کہا تھا کہ’’اگر تمہیں اداکاری سیکھنی ہے تو لیلا مشرا کی اداکاری کو غور سے اور باریکی سے دیکھا کرو کیونکہوہ اپنے آپ میں اداکاری کا ایک اسکول ہیں۔ ‘‘تب تک لیلا کافی تجربہ کار ہوگئی تھیں۔ 
مہیش کول کے ساتھ ہی لیلا مشرا کو ہدایتکار کیدار شرمابھی بہت پسند تھے۔ راج کپور کی ہدایت میں بھی لیلا نے کام کیا تھا۔ راج کپور کسی زمانے میں کیدار شرما کے اسسٹنٹ ہوا کرتے تھے۔ راج کپور کی ہدایت میں بنی پہلی فلم ’آوارہ‘ میں لیلا نے بھی ایک کردار اداکیا تھا۔ اس رول کو کرنے کی بات کرنے راج کپور خود لیلا مشرا کے گھر گئے تھے، جس کرسی پر راج کپور بیٹھے تھے، اس کی ایک ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی۔ راج کپور نے کرسی پر بیٹھتے ہی جوکروں والی حرکتیں شروع کر دیں جس کے نتیجہ میں وہ کرسی کے نیچے گر پڑے اور اپنی حرکتوں پر بہت شرمندہ ہوئے۔ ’آوارہ‘ میں لیلا کا چار دن کا کام تھا لیکن وہ تین ہی دن میں ختم ہو گیا۔ پروڈکشن منیجر نے انہیں تین دن کے حساب سے۱۵۰۰؍ روپے کا چیک کاٹ کر دے دیا۔ لیلا مشرا کو چونکہ احساس تھا، لہٰذا انہوں نے بھی تین دن کے پیسے خاموشی سے لے لئے۔ اس بات کو کافی دن بیت گئے تھے۔ ایک دن لیلا مشرا شری سائونڈ اسٹوڈیو میں شوٹنگ کر رہی تھیں، وہیں پر دوسرے فلور پر ’آوارہ‘ کی شوٹنگ چل رہی تھی۔ لنچ بریک میں لیلا یوں ہی گھومتی ہوئی ’آوارہ‘ کے سیٹ پر پہنچ گئیں۔ انہیں دیکھ کر راج کپور منہ چھپائے اداکاری کرتے ہوئے بولے۔ 
’’موسی، میں آپ کا گنہگار ہوں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: اشوک کمار فلموں میں بطور ہیرو اتفاقاً آئے تھے

’’کیسا گنہگار؟‘‘لیلا مشرا نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔ 
’’ابھی آپ کے ایک دن کے ۵۰۰؍ سو روپے مجھ پر قرض ہیں جو آپ کو ادا کرنے سے رہ گئے تھے۔ ‘‘ راج کپور نے وضاحت کی۔ ’’مگر کام تو تین دن میں ہی ختم ہو گیا تھا۔ ‘‘ لیلا مشرا نے بات واضح کرتے ہوئے کہا۔ 
’’ہو گیا ہوگا مگر کانٹریکٹ میں تو چار ہی دن کا تھا۔ ‘‘ راج کپور بولے۔ ’’چوتھے دن کے پیسے اصولی طور پر تو مجھے دینے ہی چاہئیں۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے راج کپور نے اپنی چیک بک منگوائی اور چیک کاٹ کر لیلا کے ہاتھ میں دے دیا۔ انہوں نے چیک پر نظر ڈالی تو حیرت کا اظہار کرتی ہوئی بولیں۔ ’’ایک دن کے تو صرف پانچ سو روپے ہی بنتے ہیں۔ آپ نے غلطی سے چیک پر ایک ہزار لکھ دیا ہے۔ ‘‘....’’غلطی سے نہیں، یہ تو جرمانہ ہے۔ ‘‘ راج کپور بولے۔ 
’’جرمانہ؟‘‘ وہ حیرت سے راج کی طرف دیکھتی ہوئی بولیں۔ ’’اور نہیں تو کیا۔ آپ کی جگہ کوئی بڑا اسٹار ہوتا تو میں اس کے پیسے فوراً ادا کر چکا ہوتا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ خود اس کے گھر بھجوا دیتا، لیکن اتنے دنوں تک آپ کے پانچ سو روپے میری طرف جرمانہ کے ہیں۔ ‘‘ اس طرح راج کپور کا قرض معہ سود ادا ہوا۔ 
دلیپ کمار کے ساتھ بھی لیلا نے کئی فلموں میں کام کیا۔ رمیش سہگل کی فلم ’شکست‘ میں بھی دلیپ کمار کے ساتھ وہ تھیں اور ’رام اور شیام‘ کی موسی کو بھلانا تو بہت ہی مشکل ہے۔ 
فلمی دنیا کی تاریخ میں تو ان کا نام نمایاں حروف میں لکھا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ٹی وی پر بھی انہوں نے کئی سیریلوں میں مقبولیت حاصل کی تھی۔ صورتحال یہ ہے کہہندوستان کا ہر فلم شائق لیلا مشرا کو صرف موسی کے ہی نام سے جانتا ہے۔ انہوں نے۶۰۰؍ سے زائد فلموں میں اداکاری کی۔ اُن کی آخری فلم ’مر مٹیں گے‘ تھی جو ان کے انتقال کے بعد ریلیز ہوئی تھی۔ ۱۷؍ جنوری ۱۹۸۸ء کو ۸۰؍ سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK