Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’غزہ امن معاہدے پر تمام فریقوں کو یکساں طور پر کاربند رہنا ہوگا ‘‘

Updated: August 02, 2026, 12:03 PM IST | Brussels

یورپی یونین نے شقوں کی پابندی پر عمل کو چیلنج قرار دیا، سعودی عرب نے معاہدے کیلئے ٹرمپ کی تعریف کی، پاکستان نے بھی خیر مقدم کیا۔

Will peace be established in Gaza now? Photo: INN
کیا غزہ میں اب امن قائم ہو سکے گا۔ تصویر: آئی این این

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کے اسلحہ سے دستبرداری کا منصوبہ اگر مکمل طور پر نافذ کیا جائے تو امن کے حصول کی طرف ایک تعمیری قدم ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کی کامیابی تمام فریقوں کی کامل پابندی کی متقاضی ہے۔ کالاس نے’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا جو امریکہ کی ثالثی اور مصر، قطر، ترکیہ اور بین الاقوامی مندوب نیکولے ملادینوف کے تعاون سے طے پایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس کی جانب سے معاہدے کی شقوں کی پابندی کی توثیق کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ بالآخر اسرائیل کو غزہ کی پٹی سے نکلنا ہوگا۔ 
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یورپی یونین اگلے مراحل کی حمایت کیلئے تیار ہے۔ ان مراحل میں غزہ کے انتظام کیلئے قومی کمیٹی اور بین الاقوامی استحکام فورس کا داخلہ اور اس بات کی نشاندہی کی کہ زمین پر موجود یورپی یونین کے دو مشنز فلسطینی ریاست کی تعمیر کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ہم ہتھیار کسی کے سپرد نہیں کریں گے، انہیں محفوظ رکھیں گے‘‘

ادھر سعودی عرب نے ڈونالڈ ٹرپ کی جانب سے غزہ کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کے تاریخی معاہدے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی قیادت اور اس معاملے میں ان کی گہری کمٹمنٹ قابل ستائش ہے۔ جو اس بڑے سنگ میل کو ممکن بنانے میں اہم رہی ہے۔ سعودی عرب نے اس معاہدے کے نفاذ کیلئے اپنی بھی مکمل تائید کا اظہار کیا۔ تاکہ معاہدہ پوری جامعیت کے ساتھ نافذ ہو سکے، سعودی عرب نے غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ نیز بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کا مطالبہ کیا۔ سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پائیدار امن کا قیام صرف جامع سیاسی تصفیے کی صورت ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ جو اس تصادم کو اختتام تک لا سکے گا۔ 
 پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے غزہ امن منصوبے کے تحت حماس کے غیر مسلح ہونے پر پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ اقدام ایک آزاد فلسطینی ریاست کے لیے راہ ہموار کرے گا۔ شہبازشریف نے پاکستان کی طرف سے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ غزہ امن منصوبے کے تحت تمام وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے’ٹھوس اقدامات‘ کئے جائیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK