Inquilab Logo Happiest Places to Work

’میڈ ان انڈیا: اے ٹائٹن اسٹوری‘ ایک برانڈ کی نہیں لگن اور محنت کی کہانی ہے

Updated: June 07, 2026, 10:32 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai

ایک کتاب پر مبنی اس سیریز میں حالات، واقعات اور مناظر موثر انداز میں پیش کئے گئے ہیں، نصیرالدین شاہ اور دیگر کی اداکاری بھی عمدہ ہے۔

Naseeruddin Shah and Jim Sarbh can be seen in a scene from the web series ‘Made in India: A Titan Story’. Photo: INN
ویب سیریز ’میڈ ان انڈیا: اے ٹائٹن اسٹوری‘ کے ایک منظر میں نصیرالدین شاہ اور جم سربھ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

میڈ ان انڈیا:اے ٹائٹن اسٹوری (Made in India: A Titan Story)
اسٹریمنگ ایپ: امیزون ایم ایکس پلیئر (۶؍ ایپی سوڈ)

اسٹار کاسٹ: نصیرالدین شاہ، جم سربھ، ویبھو تتواواڑی، نمیتا دوبے، لکشویر سرن، کاویری سیٹھ، جوائے سین گپتا

ڈائریکٹر: رابی گریوال

رائٹر: نیرج داسا، کندرپ شراف، ونے کامت، کرن ویاس

پروڈیوسر: کیری ہوبسن، اینی کورٹ

موسیقی: بھوشن کمار، کشن کمار، پربھلین سندھو

سنیماٹو گرافر: آدتیہ کپور

ریٹنگ: ****

یہ بھی پڑھئے: اسپائیڈر نوائر: پرانے دور کو زندہ کرنے والی سوپر ہیرو پر مبنی ویب سیریز

’میڈ اِن انڈیا: اے ٹائٹن اسٹوری‘ ملک کے معروف ترین صارف برانڈز میں سے ایک کے پس منظر کی ایسی داستان ہے جو نہایت دلچسپ اور حوصلہ افزا ہے۔ یہ ویب سیریز ہمیں بتاتی ہے کہ کس طرح جرکسیز دیسائی کے بلند عزائم اورجے آر ڈی ٹاٹاکی رہنمائی نےبرانڈ ٹائٹن کوگھرگھر پہنچایا۔ یہ سیریز ان لوگوں اور خیالات پر روشنی ڈالتی ہے جنہوں نے ہندوستان کے ایک مشہور برانڈ کی بنیاد رکھی۔

کہانی 

سیریز کی کہانی جرکسیز دیسائی (جِم سربھ) کے گرد گھومتی ہے، جو جے آر ڈی ٹاٹاکے ایک ایگزیکٹو ہیں۔ انہیں نئی ممبئی کی ترقی کے لیےایک سرکاری ادارے این بی آئی ڈی سی کےساتھ کام کرنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے اور اس مقصد کے لیے انہیں ڈیپوٹیشن پر بھیجا جاتاہے۔ وہاں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانےکے بعد انہیں ایک مستقل سرکاری ملازمت کی پیشکش بھی ہوتی ہے، لیکن وہ اسے قبول کرنے کے بجائے دوبارہ ٹاٹا گروپ میں واپس آنا پسند کرتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک یہ محض ایک کمپنی نہیںبلکہ ان کا دوسرا گھر تھا۔

یہ بھی پڑھئے: انسپکٹر اویناش ۲: یوپی کے پس منظر میں جرائم پر مبنی ایک اور ویب سیریز

بامبےہاؤس واپس آنے پرجرکسیز دیسائی کو احساس ہوتا ہے کہ کمپنی ان کے بغیر آگے بڑھ چکی ہے اور ان کی میز پر اب ایسا کوئی کام موجود نہیںجو انہیں جوش و جذبہ دے سکے۔ نئی ذمہ داری اور چیلنج کی تلاش میں وہ جے آر ڈی ٹاٹاسے ملاقات کرتے ہیں، جو انہیں ٹاٹا پریس کو دوبارہ فعال بنانے کی ذمہ داری سونپتے ہیں۔ جب جرکسیز اس کاروبار کو قریب سے سمجھنے لگتے ہیں اور ملازمین، سپلائرز اور دیگر شراکت داروں سے گفتگو کرتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ اس ادارے میں بہتری کی گنجائش محدود ہے۔

اسی دوران وہ ہندوستان میں اسمگل شدہ گھڑیوں کی بے پناہ مانگ پر غور کرتے ہیں۔ یہی مشاہدہ ایک ایسے خیال کو جنم دیتا ہے جو نہ صرف ان کے کیریئر کا رخ بدل دیتا ہے بلکہ ہندوستان کو ایک ایسا مقامی برانڈ بھی عطا کرتا ہے جس پر لاکھوں لوگ اعتماد کرتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے ٹائٹن کی کہانی شروع ہوتی ہے۔

 ہدایت کاری

جِم سربھ اور نصیرالدین شاہ کی شاندار اداکاری پوری سیریز کو حقیقت سےجوڑے رکھتی ہے۔ اگرچہ بعض مواقع پر محسوس ہوتا ہے کہ کہانی ٹاٹا گروپ کی عظمت کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے، لیکن جیسے ہی توجہ اس برانڈ کے پیچھے موجود لوگوں اور ان کی جدوجہد پر مرکوز ہوتی ہے، ناظرین کے لیے اس سفر سے جڑنا آسان ہو جاتا ہے۔

سیریز کے تخلیق کاروں کا ایک منفرد فیصلہ یہ بھی ہے کہ پوری کہانی میںمشہور بالی ووڈ گانوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک خطرناک تجربہ محسوس ہوتا ہے، لیکن زیادہ تر مقامات پر یہ کامیاب ثابت ہوتا ہے۔ موسیقی مختلف واقعات کے جذباتی رنگ کو نمایاں کرتی ہے اور کہانی میں ایک خوبصورت روانی پیدا کرتی ہے۔ہدایت کار رابی گریوال نے ۱۹۸۰ءاور ۱۹۹۰ءکی دہائیوں کو جس انداز میں دوبارہ زندہ کیا ہے، وہ بے حد حقیقی محسوس ہوتا ہے۔ دفاتر، بازاروں، لباس اور اس زمانے کے مجموعی ماحول کو بڑی باریک بینی سے پیش کیا گیا ہے۔ پرانے ویڈیو مناظر اور آرکائیو فوٹیج کے استعمال نے اس حقیقت پسندی کو مزید مضبوط بنا دیا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہےکہ اسکرپٹ مسلسل نئے مسائل اور چیلنجز پیش کرتی رہتی ہے، جس کی وجہ سے کارپوریٹ پس منظر رکھنے کے باوجود کہانی یکسانیت کا شکار نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھئے: سیٹاڈل ۲: پرینکا چوپڑا کی ویب سیریز کا دوسرا اور قدرے بہتر سیزن

اداکاری

یہ سیریز ونے کامت کی کتاب’ٹائٹن: انڈیاز موسٹ سکسیس فلم کنزیومر برانڈپرمبنی ہے، اور اس کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ اس کی بہترین کاسٹنگ بھی ہے۔جِم سربھ نے جرکسیز دیسائی کے کردار میں غیرمعمولی جان ڈال دی ہے۔ انہوں نے اس کردار کو ضرورت سے زیادہ ہیرو یا غیر معمولی شخصیت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک ایسے انسان کےطور پر دکھایا ہے جو کام کو باتوں پر ترجیح دیتا ہے۔ ان کی اداکاری میں ایک فطری روانی ہے جو کبھی بھی مصنوعی محسوس نہیں ہوتی۔ اسی طرح جے آر ڈی ٹاٹا کے کردارمیں نصیرالدین شاہ بھی پوری طرح چھاجاتے ہیں۔ ان کے اندازِ گفتگو، چہرے کے تاثرات اور لباس تک ہر چیز میں جے آر ڈی ٹاٹا کی شخصیت جھلکتی ہے۔ نصیرالدین شاہ اور جِم سربھ کے درمیان فلمائےگئے مناظر سیریز کے مضبوط ترین حصوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں خاموشی کے ساتھ اعتماد اور احترام کا رشتہ نمایاں ہوتا ہے۔

نتیجہ

یہ محض گھڑیوں کے ایک برانڈ کی کہانی نہیں بلکہ یہ وژن، محنت، لگن اور اس یقین کی داستان ہے کہ اگر لوگوں کی ضروریات کو صحیح طور پر سمجھا جائے تو ایک اچھا خیال تاریخ رقم کر سکتا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK