جون کے پہلے ہفتے میں ورون دھون کی ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ ، بوبی دیول کی ’’بندر‘‘ اور تیلگو پین انڈیا فلم پیدی ریلیز ہوئیں۔
EPAPER
Updated: June 07, 2026, 6:05 PM IST | Mumbai
جون کے پہلے ہفتے میں ورون دھون کی ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ ، بوبی دیول کی ’’بندر‘‘ اور تیلگو پین انڈیا فلم پیدی ریلیز ہوئیں۔
جون کے پہلے ہفتے میں ورون دھون کی ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ ، بوبی دیول کی ’’بندر‘‘ اور تیلگو پین انڈیا فلم پیدی ریلیز ہوئیں۔جون کے دوسرے ہفتے میں دلجیت دوسانجھ کی’’میں واپس آؤں گا‘‘ ، کنگنا رناوت کی ’’بھارت بھاگیہ ودھاتا‘‘، منوج باجپئی کی ’’گورنر‘‘اور مہاکشے چکرورتی کی ’’ہاؤنٹیڈ تھرڈی ‘‘ ریلیز ہوں گی۔ تیسرے ہفتے میں صرف ایک بڑی فلم ’’کاک ٹیل ۲‘‘کی ریلیز ہےجس میں شاہد کپور، کریتی سینن اور رشمیکا مندانا ہیں۔ جون کے چوتھے ہفتے میں اکشے کمار، سنیل شیٹی، روینہ ٹنڈن اور ارشد وارثی کی ’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ ریلیز ہوگی۔
ان نو بڑی ہندی اور پین انڈیا فلموں کے علاوہ ہالی ووڈ کی بھی کئی بڑی ریلیزز شامل ہیں جیسے نکولس گالٹزائن، ادریس ایلبا اور جیرڈ لیٹو کی ’’ماسٹرس آف دی یونیورس ‘‘ ، اسٹیون اسپیلبرگ کی ’’ڈسکولزر ڈے‘‘ ، ٹام ہینکس اور ٹم ایلن کی ’’ٹوائے اسٹوری ۵‘‘ اور ڈی سی یو کی فلم ’’سپرگرلز ‘‘ بھی ریلیز ہوگی۔ ہالی ووڈ ریلیزز کو الگ رکھتے ہوئے، رپورٹ کے مطابق ان نو بڑی ہندی اور پین انڈیا فلموں پر مجموعی طور پر ۱۴۰۰؍ کروڑ روپے سے زائد کا داؤ لگا ہوا ہے۔ اس وجہ سے جون کو’’بالی ووڈ کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ مسابقت والا مہینہ‘‘کہا جا رہا ہے، لیکن ٹریڈ اینالسٹس اس صورتحال سے خوش نہیں ہیں۔
ٹریڈ اینالسٹس کا ریلیز پلاننگ پر حیرت کا اظہار
تجربہ کار ٹریڈ اینالسٹ ترن آدرش نے ایک ویب سائٹ سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’’اب آپ کسی کو روک نہیں سکتے۔ ہر پروڈیوسر کا خیال ہے کہ ’’میں کیوں پیچھے ہٹوں؟‘‘ میرے لیے تمام فلمیں اہم ہیں۔ آپ کبھی نہیں جان سکتے کہ کون سی فلم کو ناظرین پسند کریں گے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہر فلم کامیاب ہو۔ سب کے پیسے لگے ہوئے ہیںلیکن اسکرینز کے لیے مقابلہ بہت سخت ہوگا، جیسا کہ انڈسٹری میں کہا جاتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:’’حکومت جن لوگوں سے ڈرتی ہے ان کیخلاف کارروائی شروع کر دیتی ہے‘‘
اتل موہن نے کہاکہ ’’ یہ حیران کن ہے۔ فلمساز اپنی ریلیز کی منصوبہ بندی کیوں نہیں کرتے؟ بعض اوقات ہفتوں تک کوئی بڑی ریلیز نہیں ہوتی اور پھر اچانک بہت زیادہ فلمیں آ جاتی ہیں۔ ریلیزز کو پہلے سے پھیلانا چاہیے تھا۔ پروڈیوسرز کو پہلے سے پلاننگ کرنی چاہیے تھی، لیکن وہ ایسا نہیں کرتے اور بعد میں اسکرینز کے لیے لڑائی ہوتی ہے۔ ایک ہفتے میں دو فلمیں کافی ہیں۔ چار فلمیں ایک ہفتے میں ریلیز کرنا مناسب نہیں کیونکہ اس سے ناظرین تقسیم ہو جاتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:’میڈ ان انڈیا: اے ٹائٹن اسٹوری‘ ایک برانڈ کی نہیں لگن اور محنت کی کہانی ہے
ایکسہیبیٹر راج بسنال نے بھی اسی طرح کا مؤقف اختیار کیا اور کہا’’میں کافی حیران ہوا تھا۔ مئی میں تقریباً کوئی فلم نہیں تھی اور اب اچانک ریلیزز کی بھرمار ہو گی۔ ہمارے انڈسٹری کا یہی مسئلہ ہے کبھی خشک سالی ہوتی ہے اور پھر ایک ہی وقت میں بہت زیادہ ریلیزز آ جاتی ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا’’اس سے دوسری فلموں کے کاروبار پر اثر پڑے گا اور اسکرینز کے لیے لڑائی بھی ہوگی۔ ڈسٹری بیوٹرز اپنی فلموں کے لیے زیادہ شوز مانگیں گے اور دوسری فلموں کے شوز کم کرنے کی کوشش کریں گے لیکن اب ایکسیبیٹرز زیادہ سمجھدار ہو گئے ہیں۔ وہ شروع میں ایک اسکرین پر دو فلموں کی ایڈوانس بکنگ کھولیں گے، اور پھر جو فلم زیادہ ٹکٹ بیچے گی اسے زیادہ شوز مل جائیں گے۔‘‘ٹریڈ اینالسٹس کی رائے یہ بھی ہے کہ مئی میں کم ریلیزز کی ایک وجہ آئی پی ایل بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی کہ مئی کے آخر تک گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہو جاتی ہیں، جو باکس آفس کے لیے ایک منافع بخش وقت سمجھا جاتا ہے۔