Updated: October 02, 2026, 10:19 AM IST
| Mecca
سعودی حکام نے مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام میں خودکش بمبار کی موجودگی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کی تردید کردی ہے۔ حکام کے مطابق ایک شخص کو راہگیروں کو ہراساں کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، تاہم خودکش حملے یا دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔
مسجد الحرام، مکہ۔ تصویر: آئی این این
سعودی حکام نے جمعہ کو مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام میں خودکش بمبار کی موجودگی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں ایک شخص کو راہگیروں کو ہراساں کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سعودی سیکوریٹی حکام نے واضح کیا کہ واقعے کے بارے میں گردش کرنے والے خودکش حملے کے دعووں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ سیکوریٹی حکام نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر جاری بیان میں کہا کہ مقدس دارالحکومت میں ایک شخص کو راہگیروں کو ہراساں کرنے اور ان کے درمیان خوف و ہراس پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور اس کے خلاف فوری کارروائی کی گئی۔ حکام نے واقعے سے متعلق مزید تفصیلات یا گرفتار شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق معاملے کو قانونی کارروائی کیلئے متعلقہ حکام کے حوالے کیے جانے کی بھی اطلاع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: زیادہ اسکرین ٹائم کے سبب بچوں کی نشوونما متاثر: تحقیق
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب سوشل میڈیا پر ایسی اطلاعات تیزی سے پھیلیں کہ دھماکہ خیز مواد سے بھری جیکٹ پہنے ایک مشتبہ خودکش بمبار خانۂ کعبہ کی جانب بڑھا تھا اور سیکوریٹی اہلکاروں نے اسے گرفتار کرلیا۔ تاہم سعودی حکام نے ایسے کسی خودکش بمبار، دھماکہ خیز جیکٹ یا مسجد الحرام میں بم دھماکے کی کوشش کی تصدیق نہیں کی۔ اس لیے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان دعووں کو غیر مصدقہ اطلاعات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں واقع اسلام کا مقدس ترین مقام ہے اور اس کے وسط میں خانۂ کعبہ موجود ہے، جس کی جانب رخ کرکے دنیا بھر کے مسلمان نماز ادا کرتے ہیں۔ مسجد الحرام میں سال بھر بڑی تعداد میں مسلمان نماز، عمرہ اور دیگر عبادات کیلئے پہنچتے ہیں، جبکہ حج کے موسم میں یہاں زائرین کی تعداد مزید بڑھ جاتی ہے۔ سعودی حکام ماضی میں بھی مسجد الحرام اور دیگر مقدس مقامات پر زائرین کی حفاظت کیلئے سیکوریٹی اور ہجوم کے انتظامات کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطین ایکشن پر پابندی واپس لینے کا مطالبہ، اسکاٹش گرینز کا برطانوی حکومت پر زور
حالیہ واقعے کے حوالے سے حکام کی وضاحت کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ابتدائی اطلاعات اور سرکاری بیان میں واضح فرق سامنے آیا ہے۔ فی الحال دستیاب سرکاری معلومات میں کسی بمبار یا دہشت گرد حملے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور گرفتار شخص کے بارے میں بھی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔