بی ایم سی کی جنرل باڈی میٹنگ میں غیر قانونی تعمیرات کی نگرانی کیلئے ڈرون، سیٹیلائٹ، جیو گرافک انفارمیشن سسٹم اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی تجویز منظور۔
EPAPER
Updated: July 22, 2026, 9:13 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
بی ایم سی کی جنرل باڈی میٹنگ میں غیر قانونی تعمیرات کی نگرانی کیلئے ڈرون، سیٹیلائٹ، جیو گرافک انفارمیشن سسٹم اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی تجویز منظور۔
شہر و مضافات میں غیرقانونی قبضہ جات اور تعمیرات کی نگرانی کیلئے بی ایم سی کی پیر کو جنرل باڈی میٹنگ میں جدید تکنیک کے استعمال کو منظوری دے دی گئی ہے جس کے تحت ڈرون، مصنوعی ذہانت، سیٹیلائٹ تصاویر اور جیوگرافک انفارمیشن سسٹم وغیرہ استعمال کیا جاسکے گا۔
پیر کو ہونے والی جنرل باڈی میٹنگ میں غیرقانونی تعمیرات اور قبضہ جات پر بحث کے دوران حکمراں محاذ اور اپوزیشن کےلیڈروں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ روایتی طریقوں سے غیرمجاز تعمیرات کی نگرانی اور روک تھام موثر طریقے سے نہیں ہوسکتی جبکہ اس کے مقابلے موجودہ دور میں جدید ٹکنالوجی کے استعمال سے یہ کام بہتر طریقہ سے ہوسکتا ہے۔ ان سب سے اتفاق کرتے ہوئے میٹنگ میں قاعدہ نمبر ۵۹؍ کے تحت اس تجویز کو منظوری دے دی گئی ہے۔
کارپوریٹروں کے مطابق جدید تکنیک کے استعمال سے غیرقانونی قبضہ جات، تعمیرات، بلا اجازت منزلوں میں اضافہ اور تعمیراتی ڈھانچوں میں بغیر اجازت کی جانے والی تبدیلیوں کا شروعاتی سطح پر علم ہوسکے گا۔
جدید تکنیک کے استعمال کے ساتھ عوامی نمائندوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’جی پی ایس‘ سے جڑے موبائل ایپلیکیشن اور آن لائن شکایت کیلئے مخصوص پورٹل (ویب سائٹ) کا انتظام کیا جانا چاہئے۔ ان ویب سائٹ کے ذریعہ عوام ’جیو ٹیگ‘ کے ساتھ شکایتیں کرسکیں گے جس سے متعلقہ افسران کو ان مقامات کا بالکل صحیح علم ہوسکے گا جہاں غیر قانونی تعمیرات ہورہی ہیں اور انہیں جلد اور ابتدائی سطح پر کارروائی کرنے میں آسانی ہوگی۔
میٹنگ میں کارپوریٹروں کی بحث سننے کے بعد بی ایم سی انتظامیہ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ایسا سسٹم تیار کریں جو غیرقانونی تعمیرات کا پتہ لگا سکے۔ اس کے علاوہ ڈرون اور سیٹیلائٹ کی مدد سے متواتر نگرانی کی جائے۔ عوام کو شکایت کرنے کیلئے ڈیجیٹل نظام تیار کیا جائے۔ ان ہدایات پر عمل کرنے کیلئے متعین وقت کے ساتھ منصوبہ بندی کی جائے اور ان پر عملدرآمد کے تعلق سے جنرل باڈی میٹنگ میں رپورٹ پیش کی جائے۔
ہائوس میں یہ بھی کہا گیا کہ غیرقانونی تعمیرات کی وجہ سے شہری منصوبہ بندی پر منفی اثر پڑ رہا ہے، عوام کے تحفظ، ٹریفک کے مسائل اور ماحولیات کے تحفظ کیلئے اقدام کرنا دشوار ہورہا ہے۔ البتہ متذکرہ جدید نظام پر عملدرآمد سے غیرقانونی تعمیرات کے خلاف تیز رفتار سے اور ابتدائی سطح پر کارروائی ممکن ہوسکے گی۔