• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی ایس آئی آر میں ’منطقی تضاد‘ کی زد پرسب سے زیادہ مسلم ووٹرآئے

Updated: October 15, 2026, 11:45 AM IST | Agency | New Delhi

قومی راجدھانی میں مسلم آبادی ۱۳؍ فیصد ہے مگر منطقی تضاد کا شکارہونے والوں میں ۲۰؍ فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

دہلی  میں  ایس آئی آر  کے دوران منطقی تضاد کی زد میں آنے والے ووٹرس میں  مسلمان سب سے زیادہ ہیں۔  یہ انکشاف اخبار’ دی ہندو‘ نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کیا ہے۔  دہلی میں مسلم آبادی۶ء۱۳؍ فیصد ہے لیکن   ’منطقی  تضاد‘‘ کی بنیاد پر نشان زد کئے  گئے ووٹرس میں ان کا حصہ۳ء۲۰؍ فیصد ہے۔تجزیہ کے مطابق  خاندان کے افراد کی تعداد اور والدین، بچوں  اور دادا دادی کی عمروں سے متعلق ۵؍زمروں میں منطقی تضاد کیلئے نشان زد ووٹروں میں مسلمانوں کا حصہ۳۰؍فیصد  ہے۔

دہلی کی  ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں ۵۴ء۹۷؍ لاکھ نام ہیں، جن میں سے ۱۲ء۳۳؍ لاکھ ووٹروں کو نوٹس جاری کرنے کیلئے  نشان زد کیا گیا ہے۔ ان  میں ۷۹ء۱۳؍ لاکھ ووٹروں کے ناموں کو اس لئے نوٹس جاری ہوں گے کہ ان کے ناموں کی  سابقہ انتخابی فہرستوں سے ’’میپنگ‘‘  نہیں ہو سکی جبکہ ۱۹ء۳۳؍  لاکھ ووٹروں کے ریکارڈ میں منطقی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’بی جےپی کو زیادہ ووٹ دلانے کی کوشش کرونگا‘

رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ ووٹروں کو نشان زد انتخابی رجسٹریشن افسران ( بی ایل اوز)  نے نہیں کیا بلکہ  الیکشن کمیشن کے مرکزی سافٹ ویئر ای آر او نیٹ  کے ذریعے کیا گیا ہے۔ اس عمل میں استعمال ہونے والے معیار اور سافٹ ویئر کی شفافیت پر  پہلے ہی سوالات اٹھ  رہے ہیں۔

تجزیے میں یہ بھی بتایا گیا کہ بہار میں ایس آئی آر کے دوران  حذف کئے گئے ووٹروں میں مسلمانوں کاحصہ۴ء۱۸؍ فیصد تھا جبکہ ریاست کی بالغ آبادی میں ان کا تناسب۱۷ء۷؍ فیصد تھا۔ بہار میں دہلی کی طرح منطقی بے ضابطگیوں کی بنیاد پر نشان زد کرنے کا طریقہ استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمیشن نے ووٹروں کو نشان زد کرنے کے معیار اور اس کے طریقۂ کار سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا تھا۔ تاہم، ریکارڈ میں بے ضابطگی کی نشاندہی کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ ووٹر نااہل ہے یا اس کا نام انتخابی فہرست سے حذف کر دیا گیا ہے۔ ایسے ووٹرس کو  بی ایل اوز کے سامنے پیش ہوکر منطقی تضاد کی  بنیاد پر دستاویز پیش کرنا ہوتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK