Updated: May 05, 2026, 2:04 PM IST
| Tal Aviv
ایک نئی تحقیق کے مطابق اسرائیلی ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو مبینہ طور پر عالمی سطح پر فون ٹریکنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ سٹیزن لیب کی رپورٹ اور ہاریٹز کے انکشافات کے مطابق ۱۰؍ سے زائد ممالک میں ہزاروں مرتبہ فون لوکیشن ٹریک کی گئی۔ تحقیقات میں ایس ایس ۷؍ سسٹم اور جدید فور جی اور فائیو جی نیٹ ورکس کے استحصال کا ذکر ہے، جس نے نگرانی اور پرائیویسی کے حوالے سے عالمی سطح پر سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔
عالمی سطح پر ڈجیٹل نگرانی اور پرائیویسی کے خدشات کے درمیان ایک نئی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل سے وابستہ ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو گزشتہ تین برسوں میں مختلف ممالک میں افراد کی لوکیشن ٹریک کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہ تحقیق کنیڈا میں قائم سٹیزن لیب نے کی، جبکہ اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے اس پر تفصیلی رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ کے مطابق، روایتی ۱۹۷۰ء کی دہائی کے نیٹ ورکس سے لے کر جدید ۵؍ جی سسٹمز تک، مختلف ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو جدید اسپائی ویئر کے ذریعے ایک قسم کے ’’ٹریکنگ ڈیوائس‘‘ میں تبدیل کیا گیا۔ تحقیقات کے مطابق نومبر ۲۰۲۲ء سے لے کر اب تک کم از کم ۱۵۷۰۰؍ مرتبہ فون لوکیشن معلوم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ یہ سرگرمیاں تھائی لینڈ، جنوبی افریقہ، ناروے، بنگلہ دیش اور ملائیشیا سمیت ۱۰؍ سے زائد ممالک میں ریکارڈ کی گئیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ محض ایک محدود خطے تک نہیں بلکہ عالمی سطح پر پھیلا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: چین کی جانب سے آبنائے ہرمز کے تعلق سے ایران اور امریکہ دونوں کو نصیحت
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی کمپنیوں کے انفراسٹرکچر کے ذریعے ایسے ٹولز استعمال کیے گئے جو موبائل نیٹ ورکس کے بنیادی پروٹوکولز کو نشانہ بناتے ہیں۔ خاص طور پر SS7 (سگنلنگ سسٹم نمبر ۷)، جو اصل میں کالز اور میسجز کی روٹنگ کے لیے تیار کیا گیا تھا، کو نگرانی کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہ سسٹم عالمی ٹیلی کام نیٹ ورکس میں ایک بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اور اس کی کمزوریوں کو پہلے بھی سائبر سیکوریٹی ماہرین اجاگر کر چکے ہیں۔ مزید برآں، رپورٹ میں کہا گیا کہ جدید ۴؍ جی اور ۵؍ جی نیٹ ورکس بھی اس نگرانی کے عمل سے محفوظ نہیں رہے۔ نئی نسل کے نیٹ ورک مینجمنٹ سسٹمز کو بھی ہدف بنایا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ نگرانی کے طریقے بھی مزید پیچیدہ اور مؤثر ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ۲۰۲۶ء کے وسط مدتی انتخابات سے قبل کشیدگی میں نمایاں اضافہ
تحقیقات میں ایک خاص تکنیک ’’سم جیکنگ‘‘ کا ذکر بھی کیا گیا، جس کے ذریعے ایک خفیہ ایس ایم ایس کے ذریعے صارف کے فون کو لوکیشن شیئر کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس طریقے میں صارف کو اس بات کا علم بھی نہیں ہوتا کہ اس کا فون ٹریک کیا جا رہا ہے، جو کہ پرائیویسی کے حوالے سے انتہائی تشویشناک پہلو ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ سرگرمیاں اسرائیلی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں جیسے پارٹنر کمیونکیشنز اور ۰۱۹؍ موبائل کے نیٹ ورکس کے ذریعے کی گئیں۔ تاہم، ۰۱۹؍ موبائل نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ورچوئل آپریٹر ہے اور ممکن ہے کہ اس کی شناخت کو غلط استعمال کیا گیا ہو۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کے ملبے تلے ۸؍ ہزار لاشیں، جبکہ ایک فیصد سے بھی کم ملبہ ہٹایا جاسکا: رپورٹ
مزید دستاویزات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کمپنی Cognyte اور اس کی پیرنٹ کمپنی Verint Systems نے ’’SkyLock‘‘ نامی ٹریکنگ سسٹم بعض حکومتی کلائنٹس کو فروخت کیا، جو ایس ایس ۷؍ پر مبنی ہے اور عالمی سطح پر فون لوکیشن ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس انکشاف نے عالمی سطح پر ڈجیٹل پرائیویسی، سائبر سیکوریٹی اور ریاستی نگرانی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو اس طرح استعمال کیا جا رہا ہے تو یہ نہ صرف افراد کی نجی زندگی بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ اب تک اس معاملے پر کئی کمپنیوں اور اداروں کی جانب سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ اس رپورٹ کے بعد بین الاقوامی سطح پر تحقیقات اور ضابطہ کاری کی کوششیں تیز ہو سکتی ہیں۔