Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی افواج یونان کے ساحل پر کشتیوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں: صمود فلوٹیلا

Updated: May 05, 2026, 4:00 PM IST | Gaza

یونان کے قریب غزہ جانے والے امدادی بیڑے کو اسرائیلی نگرانی اور ممکنہ روک تھام کا سامنا ہے، فلوٹیلا کے مطابق سمندر میں صورتحال تیزی سے کشیدہ ہو رہی ہے۔ ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اور نامعلوم جہازوں کی موجودگی نے ممکنہ کارروائی کے خدشات بڑھا دیئے ہیں، جبکہ بیڑے نے فوری اقدام کی اپیل کی ہے۔

The Freedom Flotilla Coalition fleet is currently sailing in Greece. Photo: INN
فریڈم فلوٹیلا کولیشن کا بیڑا اس وقت یونان میں سفر کررہا ہے۔تصویر: آئی این این

گلوبل صمود فلوٹیلا نے پیر کی شام کہا کہ اسرائیلی افواج یونان کے ساحل کے قریب غزہ جانے والے انسانی امدادی جہازوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں، اور سمندر میں بڑھتی ہوئی نگرانی اور دھمکی آمیز رویوں کا حوالہ دیا۔ ایک بیان میں گروپ نے کہا کہ فریڈم فلوٹیلا کولیشن کا بیڑاجو اس وقت یونان کے قریب سفر کر رہا ہے تاکہ غزہ کی پٹی کی جانب گلوبل صمود مشن میں شامل ہو سکے’فعال فوجی نگرانی اور دباؤ‘ کا سامنا کر رہا ہے۔ فلوٹیلا نے ’حکمت عملی میں شدت‘ کے ایک ٹائم لائن کی وضاحت بھی کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: جنگی علاقوں میں طبی سہولیات پر حملے بڑھ گئے، عالمی تنظیموں کا انتباہ

بیان کے مطابق فلسطینی وقت کے مطابق شام۷؍ بجکر ۲۷؍ منٹ پر چار جہازوں نے اطلاع دی کہ ایک فوجی ہیلی کاپٹر ان کے گرد چکر لگا رہا ہے۔ رات۹؍ بجکر ۵۳؍ منٹ پر شرکاء نے اطلاع دی کہ تین ڈرون ان کے اوپر منڈلا رہے تھے اور فاصلے پر ایک نامعلوم جہاز تھا جس نے جان بوجھ کر اپنی نیویگیشن لائٹس بند کر رکھی تھیں۔ گروپ نے بحری ٹریکنگ ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک امریکی لاک ہیڈ مارٹن طیارہ حالیہ پیش رفت سے کچھ دیر قبل بیڑے کے اوپر سے گزرا۔ بیان کے مطابق بعد میں شرکاء نے نامعلوم کشتیوں اور سفید روشنیوں کو فلوٹیلا کے پیچھے سے قریب آتے ہوئے دیکھا۔ گروپ نے کہا کہ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جلد ہی روکنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی ٹیلی کام نیٹ ورکس سے عالمی نگرانی کا انکشاف، نئی رپورٹ

اسرائیل نے ۲۰۰۷ءسے غزہ کی پٹی پر سخت ناکہ بندی مسلط کر رکھی ہے، جس کے باعث وہاں کے۲۴؍ لاکھ افراد قحط کے دہانے پر ہیں۔ اکتوبر۲۰۲۳ء میں اس نے غزہ پر دو سالہ شدید حملہ شروع کیا، جس میں ۷۲؍ ہزار سے زائد افراد ہلاک، ایک لاکھ ۷۲؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، اور محصور علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK