جنوب کوریائی خفیہ ایجنسی این آئی ایس کے مطابق شمال کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کی بیٹی کم جو اے ملک کی اگلی حکمران ہو سکتی ہیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ کم کی بیٹی با ضابطہ طور پر جانشین بننے کیلئے تیار ہیں۔
EPAPER
Updated: February 13, 2026, 1:09 PM IST | Pyongyang
جنوب کوریائی خفیہ ایجنسی این آئی ایس کے مطابق شمال کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کی بیٹی کم جو اے ملک کی اگلی حکمران ہو سکتی ہیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ کم کی بیٹی با ضابطہ طور پر جانشین بننے کیلئے تیار ہیں۔
جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی کے مطابق شمال کوریائی لیڈر کم جونگ اُن کی بیٹی ملک کی اگلی حکمران ہو سکتی ہیں۔ نیشنل انٹیلی جنس سروس (این آئی ایس) کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ کم جونگ اُن کی نوعمر بیٹی بطور ان کی جانشین باضابطہ طور پر تعینات ہونے کے قریب ہیں۔ واضح ہو کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ۱۳؍ سالہ کم جو اے شمالی کوریا میں کم خاندان سے چوتھی نسل کی حکمران ہوں گی۔ خفیہ ایجنسی کی قیادت کرنے والے قانون ساز لی سیونگ کیون نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایجنسی کی زبان نمایاں طور پر بدل گئی ہے۔ این آئی ایس نے پہلے بتایا تھا کہ کم کی بیٹی ’’جانشینی کی تربیت‘‘ حاصل کر رہی ہے، اب کہہ رہی ہے کہ کم کی بیٹی ’’جانشین بننے کیلئے تیار‘‘ ہے، جو ایک نمایاں تبدیلی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: محمد یونس نے انتخاب کو خوف کی رات کا خاتمہ، امید کی صبح کا آغازکہا
شمالی کوریا کےلیڈر کی نوعمر بیٹی کو پہلی بار نومبر ۲۰۲۲ء میں طویل فاصلے تک مار کرنے والی میزائل کے تجربے میں دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعد سے، وہ ہمیشہ اپنے والد کے ساتھ تقریباً تمام بڑے ہتھیاروں کے اجرا، فوجی پریڈوں اور سربراہی اجلاسوں میں نظر آتی ہیں۔ سرکاری میڈیا میں اس کی بڑھتی ہوئی نمائش نے اس کے سیاسی مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیوں کو ہوا دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب: شاہ سلمان کی ملک گیر اپیل کے بعد آج نمازِ استسقاء ادا کی گئی
کم کی بیٹی کا اصل نام کیا ہے؟
کچھ رپورٹس کے ذریعے بڑے پیمانے پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کم جونگ اُن کی نوعمر بیٹی کا نام کم جو اے ہے، لیکن شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے کبھی بھی سرکاری طور پر اس کے اصلی نام کی تصدیق نہیں کی۔ میڈیا رپورٹس میں ہمیشہ کم کے ’’محترم‘‘ یا ’’سب سے پیارے‘‘ بچے جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔شمالی کوریا پر ۱۹۴۸ء سے خاص طور پر کم خاندان کے مرد افراد کی حکومت رہی ہے۔ کم جونگ اُن کو ۲۰۱۰ء میں ۲۶؍ سال کی عمر میں باضابطہ طور پر وارث نامزد کیا گیا تھا۔ اگر کم جونگ اُن کی بیٹی کو ان کی جانشین کے طور پر نامزد کیا جاتا ہے تو یہ پہلا موقع ہوگا جب کوئی خاتون ملک کی قیادت کر رہی ہوگی۔ تاہم، کچھ تجزیہ کاروں نے کہا کہ اگر شمالی کوریا کے لیڈر اپنی بیٹی کو اگلی حکمران کے طور پر نامزد کرنے جا رہے ہیں، تو اس عمل میں زیادہ وقت لگے گا کیونکہ ورکرز پارٹی کانگریس کے ارکان کی عمر کم از کم ۱۸؍ سال ہونی چاہیے۔