جنتر منتر پر مظاہرین کی بھیڑ میں مسلسل اضافہ، مرکزی وزیر جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کی اسپتال میں سونم وانگ چک اور جنتر منتر کے قریب سی جے پی کے ذمہ داران سے ملاقات، تحریک کے ملتوی ہونے کا امکان
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 8:17 AM IST | New Delhi
جنتر منتر پر مظاہرین کی بھیڑ میں مسلسل اضافہ، مرکزی وزیر جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کی اسپتال میں سونم وانگ چک اور جنتر منتر کے قریب سی جے پی کے ذمہ داران سے ملاقات، تحریک کے ملتوی ہونے کا امکان
نیٹ پیپر لیک، دہلی احتجاج میں شامل طلبہ پر پولیس کارروائی اور سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال کے سبب احتجاج ملک گیر حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ، اساتذہ، والدین اور عام شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
ملک گیر احتجاج
اس وقت ملک بھر میں احتجاجی ریلیوں، مارچ اور دھرنا دینے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے مرکزی حکومت پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ہٹانے کا زبردست دبائو پڑ رہا ہے لیکن اب تک حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی ہے۔اسی درمیان پنجاب، ہریانہ، یوپی اور راجستھان کے کسانوں نے بھی اپنے مطالبات کے حق میں دہلی مارچ کا اعلان کردیا ہے۔ واضح رہےکہ نیٹ پیپرلیک کے معاملے پر شروع ہونے والا احتجاج اب صرف دہلی کے جنتر منتر تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں پھیل چکا ہے، جہاں طلبہ، اساتذہ، والدین، سماجی تنظیمیں اور سیاسی کارکن امتحانی نظام میں شفافیت، طلبہ کے حقوق کے تحفظ اور پولیس کارروائی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔
جے پی نڈا کی پریس کانفرنس
دریں اثناء مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے نہ صرف سونم وانگ چک سے گڑگائوں کے میدانتا اسپتال میں جاکر ملاقات کی بلکہ کاکروچ جنتا پارٹی کے ذمہ داران سے جنتر منتر کے قریب میٹنگ کی ۔ ان میٹنگوںاور ملاقاتوں سے کیا نکل کر آیا اس بارے میں فی الحال جے پی نڈا نے کچھ بھی بتانے سے انکار کردیالیکن انہوں نےیہ واضح طور پر تصدیق کی کہ یہ ملاقاتیں ہوئی ہیں اور مودی حکومت ہر قیمت پر اس احتجاج کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ سے مسلسل رابطے میں رہنا چاہتی ہے۔ جے پی نڈا نے اس سلسلے میں پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے بتایا کہ بات چیت بہت مثبت ماحول میں ہوئی ہے۔ ہم نے سی جے پی کے نمائندوں کے مطالبات تحریر طور پر حاصل کئے ہیں اور انہیں یقین دلایا ہے کہ ان پر حکومت غور کرے گی اور پھر ان سے دوبارہ رابطہ کیا جائے گا۔
راہل گاندھی کو نشانہ بنایا
مرکزی وزیر جے پی نڈا نےپریس کانفرنس کے دوران اپنی حکومت پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے کے بجائے راہل گاندھی کو نشانہ بنایا اور ان کی اس پریس کانفرنس کا جواب دیا جس میں انہوں نے ۱۰؍ سال میں ۱۵۲؍ پیپر لیک کا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ جے پی نڈا نے کہا کہ راہل گاندھی نے یہ تو انکشاف کردیا کہ ۱۰؍ سال میں ۱۵۲؍ پیپر لیک ہوئے لیکن وہ یہ بھی بتائیں کہ ان میں سے کتنے غیر بی جے پی ریاستوں میں ہوئے ہیں۔ اس کے بعد نڈا نے یہ صفائی بھی دی کہ وہ پیپر لیک کے کسی معاملے میں سیاست نہیں کررہے ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ کانگریس پارٹی اور راہل گاندھی بھی اس پر بلاوجہ سیاست نہ کریں اور طلبہ کو بہکانے کی کوشش نہ کریں۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ حکومت ہر مسئلہ کا حل بات چیت سے نکالنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سبھی کی بات سننے والی حکومت ہے اس لئے اسے بدنام نہ کیا جائے۔