ہندی سنیما کی تاریخ میں چند فلم ساز ایسے گزرے ہیں جنہوں نےنہ صرف کامیاب فلمیں بنائیں بلکہ فلم سازی کے انداز، کہانی سنانےکے طریقے اور ناظرین کے ذوق پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ راج کھوسلہ انہی ہدایت کاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 31, 2026, 9:52 AM IST | Mumbai
ہندی سنیما کی تاریخ میں چند فلم ساز ایسے گزرے ہیں جنہوں نےنہ صرف کامیاب فلمیں بنائیں بلکہ فلم سازی کے انداز، کہانی سنانےکے طریقے اور ناظرین کے ذوق پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ راج کھوسلہ انہی ہدایت کاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
ہندی سنیما کی تاریخ میں چند فلم ساز ایسے گزرے ہیں جنہوں نےنہ صرف کامیاب فلمیں بنائیں بلکہ فلم سازی کے انداز، کہانی سنانےکے طریقے اور ناظرین کے ذوق پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ راج کھوسلہ انہی ہدایت کاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں ہندوستانی سنیما کے ان ہدایت کاروں میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے سسپنس، رومان، سماجی ڈرامہ، ایکشن اور موسیقی پر مبنی فلموں کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کی فلموں میں عمدہ کہانی،یادگار موسیقی، مضبوط کردار نگاری اور شاندار فلمی تکنیک کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سلمان خان کے ہرن شکار تنازع پر بننے والی فلم ’’کالا ہرن‘‘ کا پوسٹر جاری
راج کھوسلہ ۳۱؍مئی ۱۹۲۵ءکوپنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان تعلیم یافتہ اور ثقافتی ذوق رکھنے والا تھا۔ بچپن ہی سے انہیں موسیقی اور فنونِ لطیفہ سے گہری دلچسپی تھی۔ نوجوانی کے زمانے میں وہ گلوکار بننے کاخواب رکھتے تھے اور اسی مقصد کے تحت انہوں نے موسیقی کی تربیت بھی حاصل کی۔گلوکار بننے کا خواب لےکر وہ ۱۹۴۰ءکی دہائی کے آخر میں بمبئی پہنچے۔ تاہم قسمت نے ان کے لیے کچھ اور ہی طے کر رکھا تھا۔ گلوکاری میں انہیں وہ کامیابی نہ مل سکی جس کی وہ امید رکھتے تھے۔اسی دوران ان کی ملاقات گرو دت سے ہوئی، جو اس وقت فلمی دنیا میں اپنی جگہ بنانےکی کوشش کر رہے تھے۔ گرو دت نے راج کھوسلہ کی صلاحیتوں کو پہچانا اور انہیں اپنے معاون ہدایت کارکے طور پر کام کرنے کا موقع دیا۔یہی وہ مرحلہ تھا جس نے راج کھوسلہ کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ گرو دت کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے فلم سازی کے مختلف پہلوؤں کو قریب سے دیکھا اور سیکھا۔۱۹۵۵ءمیں راج کھوسلہ کو پہلی مرتبہ بطور ہدایت کار فلم بنانے کا موقع ملا۔ ان کی ابتدائی فلم ملابار کی شہزادی تھی، لیکن انہیں حقیقی کامیابی ۱۹۵۷ءمیں ریلیز ہونے والی فلم سی آئی ڈی سے ملی۔اگرچہ اس فلم کے پروڈیوسر گرو دت تھے، لیکن راج کھوسلہ کی ہدایت کاری نے سب کو متاثر کیا۔ فلم کی تیز رفتار کہانی، سسپنس اور فلم بندی کو بے حد پسند کیا گیا۔راج کھوسلہ کو ہندی سنیما میں’سسپنس کا ماہر‘کہا جاتا ہے۔ ۱۹۶۰ءکی دہائی میں انہوں نے ایسی کئی فلمیں بنائیں جنہوں نے ہندوستانی سسپنس فلموں کی تعریف ہی بدل دی۔۱۹۶۴ءمیں ریلیز ہونےوالی فلم’وہ کون تھی؟‘ان کی شاہکار فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ سادھنا اور منوج کمار کی اداکاری سے مزین اس فلم کا پراسرار ماحول آج بھی ناظرین کو مسحور کر دیتا ہے۔اس کے بعد انہوں نے’میرا سایہ‘ اور’انیتا‘جیسی سسپنس فلمیں بنائیں، جنہیں بعد میں ’سادھنا سسپنس ٹرائیلوجی‘کہا جانے لگا۔راج کھوسلہ صرف سسپنس فلموں تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر کامیاب فلمیں بنائیں۔۱۹۶۹ءمیںریلیز ہونےوالی دو راستے اس دور کی سب سے بڑی کامیاب فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ مشترکہ خاندان، رشتوں اور خاندانی اقدار پر مبنی اس فلم نے ناظرین کے دل جیت لیے۔فلم میں،راجیش کھنہ، ممتاز،بلراج ساہنی نے یادگار کردار ادا کیے۔راج کھوسلہ کی فلموں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ ان میں خواتین کردار محض سجاوٹ کے لیے نہیں ہوتے تھے بلکہ کہانی کے مرکز میں ہوتے تھے۔میں تلسی تیرے آنگن کی اس کی بہترین مثال ہے۔ ۱۹۸۰ءکی دہائی میں ہندی سنیما کا مزاج تیزی سے بدل رہا تھا۔ نئی نسل کے فلم ساز سامنے آ رہے تھے، لیکن راج کھوسلہ کی عزت اور مقام بدستور برقرار رہا۔۹؍جون ۱۹۹۱ءکوممبئی میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی وفات کے ساتھ ہندی سنیما کے ایک سنہری باب کا اختتام ہوا، لیکن ان کی فلمیں آج بھی زندہ ہیں۔