Updated: July 26, 2026, 5:05 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے واشنگٹن کے مطالبات تسلیم نہ کئے تو امریکہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کیلئے تیار ہے، جبکہ ایران نے بھی سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔ دونوں ممالک کے تازہ بیانات نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خدشات کو ایک بار پھر بڑھا دیا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سنیچر واضح کیا ہے کہ واشنگٹن اب بھی ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے، اگر تہران نے امریکہ کے مطالبات پر عمل نہ کیا۔ فرانسیسی ٹی وی چینل’’ LCI ‘‘کو دیئے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا’’ حملوں کا عارضی طور پر رک جانا اس بات کا مطلب نہیں کہ ہم پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا’’اگر ایران نے ہماری شرائط پوری نہ کیں تو ہم اب بھی اس کے خلاف وسیع فوجی حملہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے سنیچر کی رات گزشتہ دو ہفتوں میں پہلی بار ایران پر فضائی حملے نہیں کئے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا غیر قانونی بستی ’ایلی‘ میں ۷۶۳؍ نئی غیر قانونی رہائشی یونٹس بنانے کا منصوبہ
واشنگٹن کی جانب سے اب تک اچانک اس فیصلے کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ مسلسل۱۳؍ راتوں تک جاری رہنے والے بڑھتے ہوئے فضائی حملوں کا سلسلہ کیوں روک دیا گیا۔ یہ حملے عارضی معاہدہ ٹوٹنے کے بعد شروع ہوئے تھے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایران کے حملوں کے جواب میں کئے جا رہے تھے۔ سنیچر کو ایسی کوئی اطلاعات بھی سامنے نہیں آئیں کہ ایران نے معمول کے مطابق خطے کے دیگر ممالک پر روزانہ کی بنیاد پر حملے کیے ہوں۔ امریکی ویب سائٹ ’’ایکسیوس‘‘ (Axios) نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے، جن کے نام ظاہر نہیں کئے گئے، رپورٹ کیا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز امریکی فوج کو ایران پر مزید نئے حملے نہ کرنے کی ہدایت دی۔ دوسری جانب، دو ہفتے قبل وہ عارضی جنگ بندی عملی طور پر ختم ہو گئی تھی، جس کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کا خاتمہ تھا۔ اس کے بعد امریکہ نے جنوبی ایران میں متعدد اہداف پر حملے کئے، جنہیں آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کا جواب قرار دیا گیا۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ وہ حملوں کا دائرہ بڑھا کر ایران کے بجلی گھروں، پلوں اور جزیرہ خارک تک پھیلا سکتے ہیں، جو ایران کی تیل برآمدات کا اہم مرکز ہے۔
انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا تھا کہ زیرِ زمین واقع ایک گہرے مقام، جسے ’کلہاڑی کا پہاڑ‘کہا جاتا ہے اور جس کا تعلق ایران کے جوہری پروگرام سے بتایا جاتا ہے، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ انہوں نے اب تک ایران کے خلاف کسی نئی بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ کا ایران پر حملوں میں شدت لانے کا ارادہ ، گفتگو جاری
حملے دوبارہ شروع ہوئے تو جنگ مزید پھیل جائے گی:ایران کی امریکہ کو نئی وارننگ
ایران کی فوج نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملے شروع کئے تو مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ اسرائیل کے مؤقف کے تحت دوبارہ ایران پر فضائی حملے کرتا ہے یا جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتا ہے تو اس کے نتائج پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا مؤقف واضح ہے اور اگر امریکہ دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو موجودہ تنازع صرف ایک محدود علاقے تک نہیں رہے گا بلکہ اس کا جغرافیائی دائرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ محمد اکرمینیا کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اسرائیل کی پالیسیوں سے متاثر ہو کر کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہئے جو خطے میں مزید کشیدگی کا سبب بنے۔
ایرانی فوج کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دورۂ واشنگٹن کی تیاریاں جاری ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دوران امریکہ اور اسرائیل کی قیادت خطے کی سکیوریٹی صورتحال، ایران سے متعلق پالیسی اور جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کرے گی۔