Updated: May 30, 2026, 6:04 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کے کالا ہرن شکار کیس اور گینگسٹر لارینس بشنوئی کے ساتھ منسلک تنازع پر مبنی فلم ’’کالا ہرن‘‘ کا پہلا پوسٹر جاری کر دیا گیا ہے۔ فلم کو کورٹ روم ڈرامہ، کرائم اور تھریلر عناصر کے امتزاج کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ پروڈیوسر امیت جانی کے مطابق فلم میں ۱۹۹۸ء کے مشہور کالا ہرن شکار کیس، عدالتی کارروائی، سلمان خان کی گرفتاری اور بعد کے واقعات کو علامتی انداز میں دکھایا گیا ہے۔ فلم کا ٹیزر ۲۰؍ جون کو ریلیز ہوگا
کالا ہرن۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ کے سپر اسٹار سلمان خان کے گرد برسوں سے جاری کالا ہرن شکار تنازع پر مبنی فلم ’’کالا ہرن‘‘ ایک بار پھر خبروں میں آ گئی ہے۔ جمعہ کو فلم کا باضابطہ پوسٹر جاری کیا گیا، جس کے بعد یہ منصوبہ سوشل میڈیا اور فلمی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ فلم کو ایک کورٹ روم ڈرامہ اور کرائم تھریلر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس میں ۱۹۹۸ء کے مشہور کالا ہرن شکار کیس اور اس سے جڑے مختلف تنازعات کو سنیما کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ پروڈیوسرز کے مطابق فلم میں قانونی کارروائی، میڈیا کی توجہ، عوامی ردعمل اور بعد کے برسوں میں سامنے آنے والے تنازعات کو علامتی انداز میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : ڈان ۳؍ تنازع: رنویر کی صلح کی کوشش ناکام، فرحان اور زویا نے نئی پیشکش مسترد کردی
فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فلم میں جودھپور کے قریب واقع گاؤں کاکانی میں پیش آنے والے کالا ہرن شکار کیس کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس کہانی کو صرف ایک عدالتی مقدمے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے تنازع کے طور پر دکھایا گیا ہے جس نے برسوں تک عوامی توجہ حاصل کیے رکھی۔ پروڈیوسر نے کہا کہ فلم میں کورٹ روم ڈرامہ، جرائم، سنسنی اور مختلف شخصیات کے درمیان کشیدگی کو ایک ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق شوٹنگ اتر پردیش کے مختلف شہروں، خصوصاً سنبھل اور مرادآباد سمیت متعدد مقامات پر مکمل کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ فلم میں ۱۹۹۸ء کے اس واقعے کے مختلف پہلوؤں کو شامل کیا گیا ہے جب جودھپور میں فلم کی شوٹنگ کے دوران مبینہ طور پر کالا ہرن کا شکار کیا گیا تھا۔
اس وقت سیف علی خان، تبو، سونالی بیندرے اور ستیش شاہ سمیت کئی فنکار اس فلمی یونٹ کا حصہ تھے۔
پروڈیوسر کے مطابق فلم میں سلمان خان کی گرفتاری، عدالتی کارروائیوں اور اس کیس سے وابستہ اہم مراحل کو بھی دکھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کالا ہرن شکار کیس اور اس کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات ایک طویل عرصے سے عوامی دلچسپی کا مرکز رہے ہیں، اسی لیے اس موضوع پر مبنی فلم کا بے صبری سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ۲۰؍ جون کو فلم کا پہلا ٹیزر جاری کیا جائے گا، جس میں ناظرین کو فلم کی کہانی اور اس کے مرکزی موضوعات کی پہلی جھلک دیکھنے کو ملے گی۔
یہ بھی پڑھئے : بپاشا باسو بالی ووڈ کی پُر اعتماد اداکارہ
کالا ہرن شکار کیس گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ہندوستان کے سب سے زیادہ زیرِ بحث قانونی مقدمات میں شمار ہوتا ہے۔ کالا ہرن کو بشنوئی کمیونٹی میں مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے خاص اہمیت حاصل ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ صرف ایک قانونی تنازع تک محدود نہیں رہا بلکہ سماجی اور ثقافتی سطح پر بھی حساس موضوع بن گیا۔ حالیہ برسوں میں اس کیس کا نام ایک بار پھر اس وقت نمایاں ہوا جب گینگسٹر لارینس بشنوئی اور اس کے گروہ کی جانب سے سلمان خان کو مبینہ دھمکیوں کی خبریں سامنے آئیں۔ مختلف تفتیشی اداروں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق بشنوئی گینگ نے کئی مواقع پر سلمان خان کے خلاف بیانات دیے اور کالا ہرن شکار کیس کو اپنی ناراضی کی ایک وجہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے : کنگنا کی فلم ’’بھارت بھاگیہ ودھاتا‘‘ کا طاقتور موشن پوسٹر جاری
اکتوبر ۲۰۲۴ء میں بابا صدیقی کے قتل نے بھی اس تنازع کو دوبارہ سرخیوں میں لا دیا تھا۔ بابا صدیق کو ممبئی کے باندرہ علاقے میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا، اور بعد میں بشنوئی گینگ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ بابا صدیق کو سلمان خان کے قریبی دوستوں میں شمار کیا جاتا تھا، جس کے باعث یہ واقعہ مزید توجہ کا مرکز بنا۔ فلمی مبصرین کے مطابق ’’کالا ہرن‘‘ ایک حساس اور متنازع موضوع پر مبنی منصوبہ ہے، جس کی ریلیز سے قبل ہی اس کے گرد بحث شروع ہو چکی ہے۔ تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ فلم حقیقی واقعات کو کس انداز میں پیش کرتی ہے اور ناظرین اس کی کہانی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔