• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رجنی کانت کی ’جیلر ۲‘ ہندی میں بڑے ملٹی پلیکسز پر ریلیز نہیں ہوگی

Updated: October 12, 2026, 9:59 PM IST | Chennai

پی وی آر آئی ناکس اور سینی پولس میں ہندی ورژن کی نمائش متاثر ہونے کا امکان؛ پروڈیوسر ۴؍ ہفتے بعد ڈجیٹل ریلیز چاہتے ہیں، جبکہ قومی ملٹی پلیکسز ۸؍ ہفتے کی تھیٹر ونڈو پر قائم ہیں۔

Rajinikanth. Photo: INN
رجنی کانت۔ تصویر: آئی این این

سپر اسٹار رجنی کانت کی آنے والی فلم ’جیلر ۲‘ کی ہندی ریلیز کو لے کر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ فلم ۱۵؍ اکتوبر کو دنیا بھر کے سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی ہے، لیکن رپورٹوں کے مطابق اس کا ہندی ڈب شدہ ورژن پی وی آر آئی ناکس اور سینی پولس جیسے بڑے قومی ملٹی پلیکسز میں نہیں دکھایا جائے گا۔ اس اختلاف کی بنیادی وجہ فلم کی سنیما ریلیز اور او ٹی ٹی پر دستیابی کے درمیان وقفہ ہے۔ پروڈیوسر سن پکچرز مبینہ طور پر تمام زبانوں میں فلم کو تھیٹر ریلیز کے ۴؍ ہفتے بعد اسٹریمنگ پلیٹ فارم پر لانا چاہتے ہیں، جبکہ بڑے ملٹی پلیکسز ہندی فلموں کے لیے عموماً ۸؍  ہفتے کی مدت پر اصرار کرتے ہیں۔ یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب فلم کی ریلیز میں صرف ۳؍ دن باقی ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق، ہندی ورژن کی نمائش سے متعلق اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ فلم کی مجموعی تھیٹر ریلیز منسوخ ہوگئی ہے۔ اصل تمل ورژن اور دوسری جنوبی ہندوستانی زبانوں میں فلم کی نمائش متوقع ہے، جبکہ شمالی ہندوستان میں ہندی ورژن دیکھنے کے خواہش مند ناظرین کے لیے سنگل اسکرین سنیما ایک ممکنہ متبادل ہوسکتے ہیں۔ تاہم، بڑے ملٹی پلیکسز میں ہندی ورژن کی عدم نمائش کے بارے میں فلم سازوں اور سنیما چینز کی جانب سے حتمی مشترکہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رادھیکا آپٹے نے مشہور شخصیت کا مقام برقرار رکھنے کے دباؤ پر سوال اٹھا دیا

تنازع کی جڑ فلموں کی تھیٹر ونڈو ہے، یعنی سنیما میں ریلیز کے بعد وہ کتنے دن تک صرف تھیٹرز میں دستیاب رہیں گی۔ قومی ملٹی پلیکسز کا موقف ہے کہ ہندی فلموں کو او ٹی ٹی پر آنے سے پہلے ۸؍ ہفتے تک سنیما میں خصوصی طور پر دکھایا جانا چاہیے۔ ان کا خدشہ ہے کہ اگر ناظرین کو صرف ۴؍ ہفتے انتظار کے بعد گھر بیٹھے فلم دیکھنے کا موقع مل جائے تو ٹکٹوں کی فروخت اور سنیما گھروں کی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب، فلم سازوں کے لیے مختصر او ٹی ٹی ونڈو کسی بڑے ڈجیٹل معاہدے کا حصہ ہوسکتی ہے، جس کی شرائط کو تبدیل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ فلم کے پروڈیوسر سن پکچرز کے بارے میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک بڑے او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت فلم تمام زبانوں میں تھیٹر ریلیز کے ۴؍ ہفتے بعد ڈجیٹل پلیٹ فارم پر دستیاب ہوسکتی ہے۔ تاہم، دستیاب رپورٹوں میں اسٹریمنگ پلیٹ فارم، معاہدے کی مالی مالیت اور او ٹی ٹی ریلیز کی حتمی تاریخ کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔ اگر ۸؍ ہفتے کی شرط برقرار رہتی ہے تو پروڈیوسروں کو یا تو ہندی ورژن کے لیے الگ انتظام کرنا ہوگا یا مختصر ڈجیٹل ونڈو برقرار رکھنے کے لیے بڑے ملٹی پلیکسز کی نمائش سے محروم رہنا پڑسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فلم ’’مونسٹر‘‘ کی شوٹنگ آخری مرحلے میں، نومبر میں تکمیل کی امید

یہ مسئلہ پہلی بار سامنے نہیں آیا۔ فلمی تجارتی رپورٹوں کے مطابق، وجے کی ’لیو‘ اور ’دی گریٹسٹ آف آل ٹائم‘ کے ہندی ورژنز، نیز رجنی کانت کی ’کولی‘ کو بھی مختصر او ٹی ٹی ونڈو کے باعث ہندی تھیٹر ریلیز میں مشکلات کا سامنا رہا۔ اس سے فلم سازوں اور نمائش کنندگان کے درمیان ایک وسیع تر اختلاف نمایاں ہوتا ہے: پروڈیوسر ڈجیٹل حقوق کے معاہدوں اور ریلیز کی حکمتِ عملی میں لچک چاہتے ہیں، جبکہ ملٹی پلیکسز چاہتے ہیں کہ سنیما کی خصوصی نمائش کا وقفہ اتنا طویل ہو کہ تھیٹر میں ٹکٹ خریدنے کی ترغیب برقرار رہے۔ ’جیلر ۲‘ کی ہندی مارکیٹ کے لیے یہ معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ فلم میں رجنی کانت کے ساتھ ودیا بالن اور متھن چکرورتی بھی شامل ہیں، جبکہ رتیک روشن اور جیکی شروف کے مختصر کرداروں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ فلم کی ہندی ریلیز کو بڑے ملٹی پلیکسز میں جگہ نہ ملنے سے شمالی ہندوستان کے بڑے شہری مراکز میں اس کی رسائی محدود ہوسکتی ہے۔ البتہ اس کا حتمی تجارتی اثر ابھی معلوم نہیں، کیونکہ فلم کی ریلیز باقی ہے اور نمائش کے انتظامات میں تبدیلی کا امکان بھی موجود ہے۔ فی الحال ’جیلر ۲‘ کی عالمی تھیٹر ریلیز ۱۵؍ اکتوبر کے لیے مقرر ہے، جبکہ ہندی ورژن کے لیے بڑے ملٹی پلیکسز کی دستیابی اور او ٹی ٹی معاہدے کی حتمی تفصیلات پر وضاحت کا انتظار ہے۔ یہی فیصلہ طے کرے گا کہ شمالی ہندوستان کے ناظرین فلم کو ریلیز کے پہلے ہفتوں میں کن سنیما گھروں میں دیکھ سکیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK